21/12/2024
........کچھ رنگ جو گواڑگ جیسے تھے.........
جب شام کے ڈھلتے سائے میں
ہم ریت پہ بیٹھاکرتےتھے
چپ چاپ اندھیری راہوں میں
ہم گیت کسی کے کہتے تھے۔۔
کچھ رنگ جو گواڑگ جیسے تھے
وہ رنگ ہمارے ہاتھوں پہ
تلوار چلائے جانے کے
قصوں کے قصیدے بُنتے تھے۔۔
کچھ رنگ گلوں کےخوابوں کے
کچھ رنگ وفا کے قصوں کے
کچھ رنگ صلیبوں پر لٹکے....
کرداروں کی ٹیسوں سے جُڑے
کچھ رنگ حیا کے دامن میں
مٹتے لُٹتے سب جذبوں کے
کچھ رنگ حنا کی آہوں کے
مُرجھائے ہوئے ان ہاتھوں پر
کچھ رنگ کسی دوشیزہ کے
خوابوں کی شکستہ دلہن کے
کچھ رنگ ہماری آنکھوں کے
جو خواب پرویا کرتی تھیں
جو درد سے بھر بھر جاتی تھیں
کچھ رنگ کسی کی انگلی کی
پوروں سے پروئے مٹی پر
کچھ رنگ فلک کے گالوں کے
جو شام کے ڈھلتے سائے میں
سرخی سی سمیٹا کرتے تھے
ہم تھام چلے ان رنگوں کو
دامن کے دبے سے تاروں میں
ہم جی بھی گئے ان رنگوں کو
جب مرگ_ازل کے ماتھے پر
روشن ہونا ناممکن تھا
ہم چھو بھی گئے ان رنگوں کو
اُس دور کی سخت خزاؤں میں
جب ہاتھ اُکھاڑے جاتے تھے
جسموں کو اندھیرے زنداں کی
دوزخ میں جلایا جاتا تھا
ہم روح بھگویا کرتے تھے
رنگوں کے انہیں رنگ دانوں میں
کریمہ بلوچ