19/04/2026
دارالعلوم تور مچرا اکازئی ضلع تور غر کے بارے میں شاعر اسلام ،شان پختون ،بلبل جمعیتہ عظیم ثناء خوان و نعت خواں احسان اللہ جان فاروقی صاحب کا پڑھا ہوا عظیم الشان کلام
دارالعلوم تور غر ہر حوالے آپ حضرات کی تعاون کا طلب گار ہے
مالی جانی اور بالخصوص دعاؤں کا
استادالاساتذہ،فخر تور غر ،عاشق قرآن حضرت قاری تعلق زر عثمانی صاحب نے عرصہ دراز سے بلکہ آدھی زندگی مدرسہ دارالقرآن مستان چالی سائیٹ کراچی میں درس و تدریس اور نظامت کے عظیم فرائض سر انجام دئے
ایسی بے لوث خدمت کہ الحمد اللہ اس وقت مدرسہ دارالقرآن کراچی بھر کے حفظ کے اداروں میں اپنا ایک الگ شان اور مقام رکھتا تھا
قاری صاحب نے وہاں نہ دن دیکھا نہ رات بلکہ پہلے تدریس میں اور بعد میں پھر نظامت میں ادارے کی بہتری کے لئے شہر کراچی کے تمام بڑے بڑے اداروں کا وزٹ کیا اور وہاں کہ نظام کو اپنے ادارے میں نہایت ہی کم وسائل میں بہترین انداز سے نافذ العمل کرتے رہے
حیرانگی کی بات یہ کہ بہت ہی کم تنخواہوں کے باوجود اساتذہ کی انکے ساتھ محبت اور انکے اس مشن کیساتھ ایسا مخلص ہوتے کہ ان کے بنائے ہوئے پلاننگ کو دیکھتے دیکھتے کامیابی سے آگے بڑھاتے تفصیل سے مضمون مزید لمبا ہو جائیگا لیکن ان خدمات میں سر فہرست اور قابل تقلید مسابقتہ الحفظ کے نظام کا قیام تھا جو بہت کم عرصے میں نہ صرف ادارہ ھذا میں بلکہ پورے علاقے میں پھیلتا گیا اور رائج ہوگیا
چونکہ قاری صاحب محنتی ،ذہین ، تجربہ کاری کیساتھ مفکر دور اندیش اور ہمدرد اور بھلا کے مخلص بھی تھے
قاری صاحب نے جب دیکھا کہ ہمارے اپنے علاقے ضلع تور غر کے بڑے بڑے قابل اور عظیم ہستیاں انکے۔ خود سمیت کراچی میں ہیں اور اپنے علاقے کے نہایت غریب لیکن۔ دین سے محبت کرنے والے لوگ علاقے میں معیاری قرآن کی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کراچی کا رخ کرتے خود بھی مسافری کی تکلیف برداشت کرتے اور بچوں کا غم وفکر بھی ساتھ ہوتا
بڑے بڑے حضرات علماء اکرام ،قراء حضرات تور غر میں غربت، انتہائی کم وسائل کی وجہ سے اپنے علاقے میں کام کرنے کی بجائے شہری علاقوں کو ترجیح دیتے
ایسے میں قاری صاحب نے اپنے علاقے بالخصوص تپہ اکازئی کا دینی تعلیم کے حوالے سے خدمت کا بیڑہ اٹھایا
2015ــ16
میں قاری صاحب نے
کراچی کی پر سہولت زندگی کو خیر باد کہہ کر گاؤں کی سادہ،اور مشکلات سے بھرے سفر کا اعادہ کرتے ہوئے تپہ اکازئی مچرا گاؤں میں مدرسہ دارالقرآن مچرا اکازئی کا بنیاد رکھا جو بعد میں دارلعلوم تور غر کے نام سے مشہور ہوا
الحمد اللہ دیکھتے دیکھتے ایسا نظام قائم کیا کہ اہل علاقہ کے عوام سمیت خواص علماء اور قراء حضرات بھی حیران ہوگئے
اہل علاقہ کے دور دراز علاقوں کے مشرانکے اسرار پر وسائیل نہ ہونے کے باوجود رہائشی طلباء کے لئےاہتمام بھی کیا جو اب تک الحمد اللہ قائم ہیں
الحمد اللہ تقریباً وہاں علاقے میں موجود اداروں نے بھی قاری صاحب کی تقلید کرتے ہوئے اداروں کو بہتری کی طرف گامزن کیا
الحمد اللہ دارالعلوم تور غر نے صرف 10 سالوں میں سینکڑوں حفاظ علاقے کو دئے جن میں الحمد اللہ پچھلے سال دوسری یاتیسری کیپ ملک کے دیگر اداروں سے علماء کی صف میں شامل ہوچکے ہیں
ادارے میں اب شعبہ قاعدہ، ناظرہ ، حفظ ، ترجمہ و تفسیر کیساتھ ساتھ بنات کے لئے دو سالہ دراسات کورس،ابتدائی عصری تعلیم اور درجہ اولی کے شعبہ جات قائم ہیں
آپ تمام ناظرین سے گزارش ہے کہ حضرت قاری صاحب ،دارالعلوم تور غر اور انکے معاونین و محبین کو خصوصی دعاؤں میں یاد رکھئے اور ہر حوالے سے تعاون کیجئے
ی
اد رہے گاؤں مچرا ہی کے ایک انتہائی غریب شخص کی طرف سے مدرسے کے لئے نہایت خوبصورت جگہ مین روڈ کیساتھ اپنی ضرورت کی جگہ وقف کی ہے جو کہ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے تعمیر کی منظر ہے
تمام ناظرین اس کے لئے بھی خصوصی تعاون و دعاؤں کا اہتمام فرمائے
جزاکہ اللہ خیرا