15/10/2024
Lahore PGC incident
ہم ایک غیر انسانی معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں لوگوں کے ضمیر مر چکے ہیں اور لوگ اپنی نوکری یا اپنے کاروبار کو اپنی عزتِ نفس سے زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملکِ عزیز کے حالات پچھلے تین چار سال سے اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ نئی نوکریاں ملنا مشکل ہو گیا ہے اور جو لوگ پہلے سے نوکریوں پر تھے، اُن کو نکالا جا رہا ہے۔ جو لوگ اپنی نوکریاں برقرار رکھے ہوئے ہیں، وہ اپنی تنخواہ میں گزر بسر نہیں کر سکتے کیونکہ مہنگائی نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور حکومت مزید ظلم ڈھاتے ہوئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہی ہے اور بجلی و گیس کے بلوں میں بے تحاشا اضافہ کر رہی ہے، جس سے لوگ خودکشی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
ایسے معاشرے میں خودی کا نہ پایا جانا یا ناپید ہونا کوئی حیران کن بات نہیں!
پنجاب کالج میں ایک ریپ کا واقعہ پیش آیا، لیکن اس اسکول کی پرنسپل سمیت تمام نام نہاد تعلیم یافتہ عملہ جھوٹ اور مکر سے کام لیتے ہوئے پایا گیا۔ وہ اس پورے معاملے کو اس طرح پیش کر رہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اگر کچھ نہ ہوا ہوتا تو حالات اس نہج تک نہ پہنچتے کہ اتنی بڑی تعداد میں طلبہ کالج چھوڑتے اور پنجاب کالج کے عملے کو سی سی ٹی وی اور دیگر ریکارڈز میں رد و بدل کرنے کی ضرورت نہ پیش آتی۔ جس معاشرے میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار پائے جاتے ہوں، وہاں ایسا ہونا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے۔
مجھے صرف اس بات پر حیرت ہے کہ ایک عورت، چاہے وہ بے ضمیر اور گھٹیا قسم کی پرنسپل ہو یا اسکول کی ٹیچر یا کوئی اور اسٹاف، کیسے اس معاملے پر خاموش رہ سکتی ہے؟ کیا وہ خود کسی کی بیٹی نہیں؟ کیا ان کی اپنی بیٹیاں نہیں؟ وہ کیسے خاموش رہ سکتی ہیں؟ میرا ان سب سے سوال ہے کہ اگر یہ سب کچھ ان کے ساتھ یا ان کے گھر کے کسی فرد کے ساتھ ہوتا تو کیا تب بھی وہ اسی طرح بے غیرتی کا مظاہرہ کرتیں؟
ہمارا معاشرہ اتنی گہری کھائی میں جا چکا ہے کہ ہم نارمل دنیا کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اور اس صورتحال سے نکلنے کے لیے ہم بطور قوم کوئی کوشش بھی نہیں کر رہے۔ ہم صرف باتیں کر رہے ہیں اور دعا کر رہے ہیں کہ کوئی اور آئے اور ہمیں اس حالت سے نکالے اور ہمیں ایسا معاشرہ دے جہاں قانون کی حکمرانی ہو تاکہ کم از کم ہم اسے ایک مہذب معاشرہ کہہ سکیں۔
اس کی ایک اور مثال جھنگ میں پیش آنے والا واقعہ ہے جہاں ایک مولوی نے ایک بچے کے ساتھ بدفعلی کی کوشش کی، لیکن معاملے کو دبانے کے لیے ایک مولانا لاہور سے آیا اور وہاں جا کر پریس کانفرنس کی کہ میں نے بچے کے والدین اور مولوی کے درمیان صلح کروا دی ہے۔ اُس مولوی سے کوئی میرا سوال پوچھے کہ اگر اُس کے اپنے بچے کے ساتھ ایسا ہوتا تو کیا تب بھی وہ صلح کے لیے جاتا؟
طلبہ نے جو احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے کہ کم از کم وہ اپنے حقوق کے لیے باہر نکلے ہیں۔