08/08/2026
♨️2018 رجب طیب اردوغان نے محمد بن سلمان اور سعودی عرب کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں جلاد اور قاتل قرار دیا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ یہ کیسی حکومت ہے جو یمن کے شہریوں اور گنجان آبادیوں پر بے جا حملے کر رہی ہے؟ گھروں کے گھر مسمار کیے جا رہے ہیں، لوگ بھوک اور افلاس سے تڑپ رہے ہیں اور ہزاروں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں، لیکن سعودی حکومت اپنی بادشاہت کے نشے میں مست ہو کر یمن کے خلاف جنگ اور قتل و غارت کے اپنے عزائم سے پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہی۔
لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ وہی اردوغان، جو کبھی بن سلمان اور سعودی عرب کی یمن میں فوجی کارروائیوں کو قاتلانہ سیاست قرار دیتے تھے، آج اسی بن سلمان کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں اور ایسے اتحاد کا حصہ بن رہے ہیں جو آج یمن کے خلاف دوبارہ جارحانہ عزائم رکھتے ہیں
یہ منظر شیطانی سیاست کے ایک تلخ مگر بار بار دہرائے جانے والے اصول کی یاد دلاتا ہے کہ جب سیاست اصولوں کے بجائے مفادات کے تابع ہوجائے تو کل کا قاتل آج کا اتحادی بن جاتا ہے، کل کا ظالم آج کا دوست بن جاتا ہے اور کل جس اقدام کو جرم کہا جاتا تھا، آج اسی اقدام کو مصلحت کا نام دے دیا جاتا ہے۔