Urdu Ghazals

Urdu Ghazals یہاں الفـاظ کی تلاش میں ہرگِز نـہ آنا یارو
میں احساس لک?

If you are inspired to write and would like a place to share your writings; with others who share your same love feel free to post your poems or writings here, attach a picture with your post and you can make your writing as long as you like.

30/10/2024

رگوں میں رقص کناں موجہِٗ طرب کیا ہے۔۔۔۔؟
اگر خوشی ہے تو کس بات کی ؛ سبب کیا ہے؟

ہے میری اصل اگر ماورائے وقت تو پھر
مرے لئے یہ تماشائے روز و شب کیا ہے؟

مرے کہے سے مرے گردوپیش کُچھ بھی نہیں
میں صرف دیکھنے بیٹھا ہُوا ہوں ؛ کب کیا ہے؟

نجانے کیا ہے نظر کی تلاشِ لا موجود۔۔؟
نجانے دل کی تمنّائے بے طلب کیا ہے.....؟

یہ جستجو ؛ یہ طلب ؛ یہ جنون و دربدری۔۔؛؛
مآلِ عمر عدم ہے تو پھر یہ سب کیا ہے؟

ہے گفتگو میں وہ پیچیدگی ؛ کہ سوچتا ہوں
خیال کیا تھا ؛ کہا کیا ہے ؛ زیرِ لب کیا ہے۔۔۔۔؟

میں جانتا ہوں جو منظر گنوائے بیٹھا ہوں
تجھے کہاں یہ خبر تیری تاب و تب کیا ہے

پسِ زیاں جو درِ دل پہ میں نے دستک دی
کِسی نے چیخ کے مُجھ سے کہا ؛ کہ اب کیا ہے؟

عرفان ستار

16/12/2023

کہیں چاند راہوں میں کھو گیا کہیں چاندنی بھی بھٹک گئی

میں چراغ وہ بھی بجھا ہوا میری رات کیسے چمک گئی

مری داستاں کا عروج تھا تری نرم پلکوں کی چھاؤں میں

مرے ساتھ تھا تجھے جاگنا تری آنکھ کیسے جھپک گئی

بھلا ہم ملے بھی تو کیا ملے وہی دوریاں وہی فاصلے

نہ کبھی ہمارے قدم بڑھے نہ کبھی تمہاری جھجک گئی

ترے ہاتھ سے میرے ہونٹ تک وہی انتظار کی پیاس ہے

مرے نام کی جو شراب تھی کہیں راستے میں چھلک گئی

تجھے بھول جانے کی کوششیں کبھی کامیاب نہ ہو سکیں

تری یاد شاخ گلاب ہے جو ہوا چلی تو لچک گئی

17/10/2023

بُڈھّے بلوچ کی نِصیحت بیٹے کو

ہو تیرے بیاباں کی ہوا تجھ کو گوارا
اس دشت سے بہتر ہے نہ دِلّی نہ بخارا
جس سمت میں چاہے صفَتِ سیلِ رواں چل
وادی یہ ہماری ہے، وہ صحرا بھی ہمارا
غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کر
کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدّر کا ستارا
محروم رہا دولتِ دریا سے وہ غوّاص
کرتا نہیں جو صُحبتِ ساحل سے کنارا
دِیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
تقدیرِ اُمَم کیا ہے، کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا
اخلاصِ عمل مانگ نیا گانِ کُہن سے
’شاہاں چہ عجب گر بنوازند گدا را!‘

01/10/2023

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالا

بہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے

رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہ

ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے

میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گی

اگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے

غذا اسی میں مری میں اسی زمیں کی غذا

صدا پھر آتی ہے کیوں پردۂ خلا سے مجھے

میں جی رہا ہوں ابھی اے زمین آدم خور

ابھی تو دیکھ نہ تو اتنی اشتہا سے مجھے

بکھر چکا ہوں میں اب مجھ کو مجتمع کر لے

تو اب سمیٹ بھی اپنی کسی صدا سے مجھے

میں مر رہا ہوں پھر آئے صدائے کن فیکوں

بنایا جائے مٹا کے پھر ابتدا سے مجھے

میں سر بہ سجدہ ہوں اے شمرؔ مجھ کو قتل بھی کر

رہائی دے بھی اب اس عہد کربلا سے مجھے

میں کچھ نہیں ہوں تو پھر کیوں مجھے بنایا گیا

یہ پوچھنے کی اجازت تو ہو خدا سے مجھے

میں ریزہ ریزہ بدن کا اٹھا رہا ہوں عدیمؔ

وہ توڑ ہی تو گیا اپنی التجا سے مجھے

13/08/2023

تجھے زندگی کا شعور تھا، تیرا کیا بنا؟
تُو خاموش کیوں ہے مجھے بتا، تیرا کیا بنا؟

نئی منزلوں کی تلاش تھی سو تُو بچھڑ گیا
میں بچھڑ کے تجھ سے بھٹک گیا، تیرا کیا بنا؟

مجھے علم تھا کہ شکست میرا نصیب ہے
تُو امیدوار تھا جیت کا، تیرا کیا بنا؟

میں مقابلے میں شریک تھا فقط اس لئے
کوئی آتا مجھ سے یہ پُوچھتا، تیرا کیا بنا؟

جو نصیب سے میری جنگ تھی وہ تیری بھی تھی
میں تو کامیاب نہ ہو سکا، تیرا کیا بنا؟

تجھے دیکھ کر تو مجھے لگا کہ خوش ہے تُو
تیرے بولنے سے پتہ چلا، تیرا کیا بنا؟

میں الگ تھا اس لئے مجھے سزا ملی
تُو بھی دوسروں سے تھا کچھ جُدا، تیرا کیا بنا؟

06/07/2023

ڈر ہے چبا نہ جائیں کلیجہ نکال کر
رہتے ہیں تیرے شہر میں ہندہ مزاج لوگ..

27/04/2023

اے ستارہِ شبِ زندگی....!!
وہی شام کہر سی شام پھر
ترے نام ہو تو غزل کہیں

وہی شام جس کی رگوں میں تھے
تری خواب آنکھوں کے رتجگے

وہی صبح دھوپ کی لاڈلی
ترے عارضوں پہ کھِلے تو پھر
رگِ جاں سے نظم کشید ہو
وہی سماعتوں کا جلوس ہو
وہی رنگ ہو وہی روشنی
وہی خوشبوؤں کا ہجوم ہو

وہی ایک پل تیری دید کا
جو ملے تو اشک دمک اٹھیں
جو بجھے ہیں داغ چمک اٹھیں

وہی ایک پل تیری دید کا
جو ملے تو درد کی اوٹ میں
سبھی قہقہے سے چھلک اٹھیں

سرِ لوحِ شامِ فراق پھر
غمِ عشق موجِ نوید ہو

اے ستارہِ شبِ زندگی....!
ادھر آ کہ جشن معتبر ہو
نظر آ کہ ڈھنگ سے عید ہو...!
۔
✍...محسن نقوی(شاعر درد)

23/04/2023

نکال اب تیر سینے سے کہ جان پر الم نکلے..
جو یہ نکلے تو دل نکلے جو دل نکلے تو دم نکلے.. !
!

تمنا وصل کی اک رات میں کیا اے صنم نکلے..
قیامت تک یہ نکلے گر نہایت کم سے کم نکلے.. !!

خدا ہے حشر کے دن التجا تیری نہ مانوں میں..
مرے منہ سے نہیں نکلے ترے منہ سے قسم نکلے.. !!

مرے دل سے کوئی پوچھے شب فرقت کی بے تابی..
یہی فریاد تھی لب پر کہ یار ب جلد دم نکلے.. !!

ہوئے مغرور وہ جب آہ میری بے اثر دیکھی..
کسی کا ا س طرح یا رب نہ دنیا میں بھرم نکلے.. !!

مبارک ہو یہ گھر غیروں کو تم کو پاسبانوں کو..
ہمارا کیا اجارہ ہے نکالا تم نے ہم نکلے.. !!

نہ اُٹھے مر کے بھی ایسے ترے کوچے میں ہم بیٹھے..
محبت میں اگر نکلے تو ہم ثابت قدم نکلے.. !!

نہ گزرا بے خلش یاد مثرہ میں ایک دم ہم کو..
کہ ڈوبے نشتر غم دل سے جب خار الم نکلے.. !!

رہ ِالفت کو اک سیدھا سا رستہ ہم نے جانا تھا..
مگر دیکھا تو اس رستے میں صدہا پیچ و خم نکلے.. !!

سمجھ کر رحم دل تم کو دیا تھا ہم نے دل اپنا..
مگر تم تو بلا نکلے غضب نکلے ستم نکلے.. !!

نہ نکلا دل ہی سینے سے نہ پیکان ہی جدا نکلا..
اگر نکلے تو دونوں آشنا ہو کر بہم نکلے.. !!

برا ہو اس محبت کا کہ اس نے جان سے کھویا..
لگا دل اُس ستمگر سے اجل کا جس سے دم نکلے.. !!

د م ِپرسش جو دیکھا اُس بتِ سفاک کومضطر ..
صفِ محشر سے دل پکڑے ہوئے گھبراکے ہم نکلے.. !!

کہیں کیادل میں کیاآیا کہیں کیا منہ سے کیانکلا..
کبھی جو چلتے پھرتے ہم سُوِبیت الصنم نکلے.. !!

گئے ہیں رنج وغم اے داغ بعد مرگ ساتھ اپنے ..
اگرنکلے تویہ اپنے رفیقانِ عدم نکلے.. !!

"داغ دہلوی"

17/02/2023

آوارگی میں محسن اس کو بھی ہُنر جانا
اقرار وفا کرنا، پھر اس سے مُکر جانا
جب خواب نہیں کوئی، کیا زندگی کرنا
ہر صبح کو جی اُٹھنا، ہر رات کو مر جانا
شب بھر کے ٹھکانے کو اک چھت کے سوا کیا ہے
کیا وقت پہ گھر جانا، کیا دیر سے گھر جانا
ایسا نہ ہو دریا میں تم بارِ گراں ٹھہرو
جب لوگ زیادہ ہوں کشتی سے اُتر جانا
سقراط کے پینے سے کیا مجھ پہ عیاں ہوتا
خود زہر پیا میں نے تب اس کا اثر جانا
جب بھی نظر آؤ گے ہم تم کو پکاریں گے
چاہو تو ٹھہر جانا چاہو تو گُزر جانا

محسنؔ نقوی

15/02/2023

دشت میں پیاس بجھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم پرندے کہیں جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوئی اور ہمارے جیسا
ہم تیرے شہر سے جاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ان کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے
جو ہمیں زہر پلاتے ہوئے مر جاتے ہیں

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوئے مر جاتے ہیں

13/02/2023

.

Address

Poonch

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Ghazals posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category