30/10/2024
رگوں میں رقص کناں موجہِٗ طرب کیا ہے۔۔۔۔؟
اگر خوشی ہے تو کس بات کی ؛ سبب کیا ہے؟
ہے میری اصل اگر ماورائے وقت تو پھر
مرے لئے یہ تماشائے روز و شب کیا ہے؟
مرے کہے سے مرے گردوپیش کُچھ بھی نہیں
میں صرف دیکھنے بیٹھا ہُوا ہوں ؛ کب کیا ہے؟
نجانے کیا ہے نظر کی تلاشِ لا موجود۔۔؟
نجانے دل کی تمنّائے بے طلب کیا ہے.....؟
یہ جستجو ؛ یہ طلب ؛ یہ جنون و دربدری۔۔؛؛
مآلِ عمر عدم ہے تو پھر یہ سب کیا ہے؟
ہے گفتگو میں وہ پیچیدگی ؛ کہ سوچتا ہوں
خیال کیا تھا ؛ کہا کیا ہے ؛ زیرِ لب کیا ہے۔۔۔۔؟
میں جانتا ہوں جو منظر گنوائے بیٹھا ہوں
تجھے کہاں یہ خبر تیری تاب و تب کیا ہے
پسِ زیاں جو درِ دل پہ میں نے دستک دی
کِسی نے چیخ کے مُجھ سے کہا ؛ کہ اب کیا ہے؟
عرفان ستار