28/01/2025
میں کسی مولانا سے شادی کروں گی
"اس کی مت ماری گئی ہے ، بے وقوف لڑکی ۔ اسی لیے اسے ایم ایس سی کرائی تھی کہ یہ اس قسم کی بات کرے گی" خیر النساء کا غصہ بھڑکا ہوا تھا ۔
"تعجب تو مجھے بھی ہو رہا ہے ، دنیا کی تلخ حقیقتوں سے ناواقف یہ نادان لڑکی ، آخر کسی مولوی کے ساتھ دشواریوں کو کس طرح جھیل پائے گی"
باپ امین الحسن کے چہرے پر فکر کی گہری لکیریں پھیلتی جارہی تھیں ۔
سنئیے سونو کے ابو ، میں تو سمجھا کر تھک چکی ہوں ، الٹے مجھے سمجھانے لگ جارہی ہے ، اللہ رسول کے کیا کیا حوالے پیش کرنے لگتی ہے ، ایسے میں بھلا اس سے کیا کوئی معقول بات کی جاسکتی ہے ؟ آپ ہی اسے سمجھائیے ۔
خیرو ، تو گھبرا مت ، میں اسے سمجھاتا ہوں ۔ وہ میری بیٹی ہے ، تعلیم یافتہ ہے ۔ سمجھ جائے گی۔
خیر النساء اور امین الحسن بستر پر دراز ہوگئے اور دونوں اسی فکر میں غرق تھے کہ آخر ان کی بیٹی ناعمہ کا کیا ہوگا ۔
رشتہ انجینئر لڑکے کا آیا تھا ، وہ خلیج میں کسی بین الاقوامی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا، اس کے پاس فیملی ویزا تھا ، تنخواہ بہت اچھی تھی اور معروف خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ ایک ایک فرد کو رشتہ پسند تھا ، امین الحسن تو اس رشتے سے زیادہ ہی خوش تھے ۔ خیرو، تیری بیٹی راج کرے گی راج ، لڑکے کے پاس فیملی ویزا ہے ، ارے ادھر اس کا نکاح ہوا اور ادھر اڑ جائے گی تیری ناعمہ ، شہر میں چار کمرے کا فلیٹ لے کر رہتا ہے وہ ، کمپنی کی طرف سے بہترین گاڑی ملی ہوئی ہے ، اس کے نیچے کتنے سو ملازم کام کرتے ہیں۔ خوش قسمت ہے تیری ناعمو ، دیکھ ماشاءاللہ کیا رشتہ آیا ہے ۔ تصویر دیکھی ہے تو نے لڑکے کی ؟ ارے پرنس لگتا ہے ماشاءاللہ ۔ عرب شہزادے سے کم نہیں ۔
خیر النساء بھی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی ، اس کی خوشیاں اس کی نگاہوں کی چمک سے ہویدا تھیں ، خوشی کا تو یہ عالم تھا کہ وہ ٹھیک سے الفاظ تک ادا نہیں کر پارہی تھی ۔ امین الحسن سے کہہ رہی تھی : بس جی ، اب اللہ کے لیے جلدی جلدی تیاری شروع کردیجیے اور اللہ سے دعا کیجیے کہ رشتے کو کسی کی بری نظر نہ لگے ۔ میں نے تو تصویر ناعمہ کے کمرے میں رکھ دی ہے ، کسی وقت دیکھ ہی لے گی وہ بھی ۔ بہت خوش نصیب ہے ہماری گڑیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دوسرے دن ماں نے اس سے اس تصویر کے بارے میں پوچھا تھا اور اس کے جواب سے حیرت ہی میں پڑ گئی تھی ۔
ناعمہ : امی ، مجھے لڑکے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی سوائے اس کے کہ میں کسی عالم دین مولانا لڑکے سے شادی کرنا چاہتی ہوں ۔
خیرالنساء : یہ تو کیا بکواس کررہی ہے ۔ تیرے ابو اس رشتے سے کتنے خوش ہیں ، تمہیں کچھ پتہ ہے؟ مولانا سے شادی کرے گی ، بے وقوف لڑکی! پہلے یہ تو جاننا چاہیے تھا کہ یہ لڑکا کیا کرتا ہے ، انجینئر ہے ، خلیج میں نوکری کرتا ہے ، لاکھوں کا مہینہ کماتا ہے ، کتنے سو ملازمین اس کے اندر کام کرتے ہیں ، فیملی ویزا ہے اس کے پاس ۔ چار کمرے کا فلیٹ لے کر رہتا ہے ، بہترین گاڑی ہے اور ۔۔۔۔۔
ناعمہ : امی ، یہ سب ٹھیک ہے ، لیکن اس کے چہرے سے دینداری تو نہیں جھلک رہی؟ مجھے دیندار لڑکا چاہیے ۔
خیر النساء : تیرا دماغ کھسک گیا ہے کیا ؟ یہ کیا دینداری دینداری کی رٹ لگا رکھی ہے ، اس کو چھوڑ کے تو چار ہزار پانچ ہزار والے کسی مولوی سے بندھنا چاہتی ہے۔ کیا کرے گا کوئی مولوی تیرے لیے ۔ پاگل کہیں کی ۔ کس نے تمہیں الٹا سیدھا سمجھا دیا ہے ؟
ناعمہ : امی کسی نے کچھ نہیں سمجھایا ۔ میں کسی مولانا سے اس لیے شادی کرنا چاہتی ہوں کہ وہ اپنا حق بھی جانتا ہے اور بیوی کا بھی ۔ وہ حقوق مانگتا ہے تو حقوق ادا بھی کرتا ہے ۔ وہ امانتدار ہوتا ہے ، وہ بدنظر نہیں ہوتا ، وہ محبت صرف مجھ سے کرے گا اور روزی تو بہرحال لکھی ہوئی ہے وہ تو جتنی ملنی ہوگی مل کر رہے گی ۔
خیر النساء : تیرے باپ کو کتنا صدمہ ہوگا جب وہ یہ سب سنیں گے ۔ کیسا اچھا بھلا رشتہ آیا تھا ، ارے ایسے رشتے اب ملتے کہاں ہیں ۔ بے وقوف لڑکی کہیں کی ۔۔۔۔۔
ناعمہ : امی یہ اچھا رشتہ کتنے پیسوں میں طے ہوگا ؟ لاکھوں کمانے والا کتنے لاکھ کی مانگ کرے گا ، یہ بھی معلوم ہے نا ؟
خیر النساء : یہ تیرا مسئلہ ہے یا تیرے والدین کا مسئلہ ہے ؟ شادی میں تو آج کے زمانے میں پیسے خرچ ہوتے ہی ہیں ۔ اس میں ایسی کون سی نئی بات ہے ؟ تو زيادہ دلیلیں مت بگھار سمجھی ۔
ناعمہ : امی آج کے زمانے میں بھی اچھے مولانا بغیر کچھ لیے شادی کرتے ہیں ۔ سنت کے مطابق شادی ہوتی ہے ۔ میرے لیے آپ لوگ کوئی مولانا لڑکا تلاش کیجیے۔ سوچیے نا ، یہ دنیا کتنے دنوں کی ہے ۔ آج نہ کل سب کو مرجانا ہے ، میں کسی خدا ترس انسان کے ساتھ جینا چاہتی ہوں تاکہ میری آخرت تباہ نہ ہو جو ہمیشہ کی زندگی ہے ۔
آگے ابھی جاری ہے
: دوسری قسط
امین الحسن نے صبح ناشتے کے بعد جب ناعمہ کو آواز دی تو ناعمہ نے پہلے سے ہی اپنا ذہن بنالیا کہ اسے کس طرح باپ کو قائل کرنا ہے ۔
امین الحسن : بیٹا ہم لوگوں نے آپ کے لیے ایک رشتہ دیکھا ہے ، ہم سب لوگوں کو لڑکا پسند ہے ،
آپ کی امی بتا رہی تھیں کہ آپ ۔۔۔۔۔
ناعمہ : ابو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن اگر آپ میری خوشی چاہتے ہیں تو میرے لیے کوئی دیندار عالم دین لڑکا دیکھیے ۔ میں جانتی ہوں کہ یہ سن کر آپ کو اچھا نہ لگے گا لیکن میں آپ سے پھر بھی یہی گزارش کروں گی ۔
امین الحسن : لیکن بیٹا ، مولوی لوگوں میں بھی تو برے لوگ ہوتے ہيں ؟ اگر کوئی ناہنجار مولوی مل گیا تو ؟ نہ دنیا ملی اور نہ آخرت ۔ خسارہ ہی خسارہ ۔۔ہم آپ کا برا تو نہیں چاہ سکتے ہیں نا بیٹا !
ناعمہ : آپ صحیح کہہ رہے ہیں ابو ، لیکن ہر جگہ شرح دیکھی جاتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ مولوی برے ہوں لیکن زيادہ تر تو اچھے ہوتے ہیں اور پھر کیا ضروری ہے کہ میری قسمت میں کوئی برا ہی ہو ۔ آپ اللہ پر بھروسہ تو کیجیے ۔ میری دنیا بنانے کے چکر میں میری آخرت تو کسی بے دین کے حوالے مت کیجیے ۔
امین الحسن لا جواب ہوگئے تھے ۔ انہیں اپنی بیٹی کی بات میں جان نظر آرہی تھی ، وہ کوئی کم سن اور گنوار لڑکی بھی نہیں تھی ۔ اعلیٰ تعلیم سے بہرہ ور تھی ، تئیس سال کی عمر کو پہنچ چکی تھی ۔ وہ اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار کرسکتی تھی لیکن انہیں سماج اور خاندان کے لوگوں کا طعنہ ستا رہا تھا ۔ وہ جانتے تھے کہ لوگ مذاق اڑائیں گے ، باتیں بنائیں گے اور انہیں سب کی باتیں سننی پڑیں گیں ۔
خیر النساء کو انہوں نے اب خود ہی قائل کرنا شروع کردیا اور اس تلاش و جستجو میں لگ گئے کہ کوئی اچھا عالم ملے تو اپنی بیٹی کی شادی کردیں ۔ اللہ کا کرنا دیکھیے کہ انہیں دنوں شہر میں دینی جلسہ ہورہا تھا ۔ ایک نوجوان عالم دین قرآن وسنت کے دلائل کی روشنی میں دھواں دھار تقریریں کررہا تھا ۔ امین الحسن کی آنکھوں میں امید کی روشنی جھلملانے لگی ۔
چھ مہینے کے اندر شادی ہوگئی، مولانا ایک دینی ادارہ میں تدریسی فريضہ انجام دے رہے تھے ، وہی کوئی دس ہزار کی تنخواہ تھی ۔ شادی بڑے ہی سادہ انداز میں بغیر کسی سلامی کے ہوئی ۔ ناعمہ کو ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے پاؤں زمین پر ہوں ہی نہیں ۔ ویسے بھی مولانا شیروانی میں بہت حسین لگ رہے تھے، لیکن دوسری طرف خاندان کے لوگ مزے ضرور لے رہے تھے ۔ چچازاد بھائی امین الحسن سے کہہ رہے تھے : چلیے امین صاحب ، پیسے بچانے کے لیے آپ نے اچھا قدم اٹھایا، دینداری کے پردے میں یہ حرکت آسانی سے چھپ جائے گی ۔ گاؤں کے مکھیا کا طنز تھا : مبارک ہو آمین بابو ، نہیں بھی تو پچیس تیس لاکھ کی بچت ہوگئی ویسے شادی کے بعد اسی پیسے سے مولانا کو کوئی بزنس کروا دیجیے گا ۔۔۔۔
دو مہینے بعد ناعمہ سسرال سے اپنے مائکے آئی تھی ، وہ ایسے خوش تھی جیسے اسے زندگی کا سب سے بڑا خزانہ ہاتھ لگ گیا ہو ، ماں کو اس بات کی خوشی تھی کہ بیٹی خوش ہے ، یہ الگ بات ہے کہ اس کے اندرون میں خلش اب بھی موجود تھی البتہ امین الحسن پوری طرح مطمئن تھے ۔ باپ بیٹی کے درمیان باتیں ہورہی تھیں تبھی ناعمہ کے فون کی گھنٹی بجی ۔ ادھر اس کے شوہر تھے ۔ وہ موبائل فون لے کر کمرے میں چلی گئی ۔ کچھ دیر بعد جب وہ باہر آئی تو اس کا چہرہ کھل رہا تھا ، اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں اور وہ کہہ رہی تھی : ابو وہ آپ کے داماد نے مدینہ منورہ کے ایک تحقیقی ادارے میں نوکری کےلیے عرضی دی تھی ، وہ منظور ہوگئی ہے ۔ ڈیڑھ لاکھ تنخواہ کے ساتھ رہائش فری دی جائے گی اور فیملی ویزا بھی ہے، ہم لوگ اگلے چھ مہینے کے اندر ان شاءاللہ مدینہ شریف میں ہوں گے ۔
خیر النساء امیر الحسن کو دیکھ رہی تھی اور دونوں مارے خوشی کے روئے جارہے تھے ۔۔۔۔۔۔
ختم شد