28/05/2026
ابھی بچپنے کا لڑکپن ٹھیک سے ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک دو معصوم سے ننہے بچے مجھے واالد ہونے کی زمہ داری دے ڈالے۔ ہیں
جب تک انسان والد نہیں بن جاتا اس وقت تک والدیت کا احساس نہیں کر پاتا ہے ،یہ وہ عظیم زمہ داری ہے جسے جب بھی ادا کرتا ہوں تو میرے والدین میری نظروں کے سامنے ہوتے ہیں اور یہ سوچتا ہوں کہ کیا میرے والدین بھی مجھے اس قدر پیار و احترام کے ساتھ مجھے پالے ہیں ،
آج جب بچوں کو عید کی نماز کے بعد کھلونا دلانے مالیر کوٹلہ کے عید گاہ پہونچا تو بچے پاس میں لگے بچوں والے ٹرین اور دیگر تفریح کے آلات و اسباب ہے ساتھ کھیلنے کی ضد کرنے لگے ،میں عام طورپر ایسی جگہوں میں جانے سے پرہیز کرتا ہوں پر بچوں کی ضد کے آگے کیا کچھ نہیں کر بیٹھتا ہے انسان ،خیر بچوں کی ضد پوری کرکے جو سکون کا احساس ہوتا ہے وہ ایک عظیم دولت ہے ،ایسے موقعوں پر اپنے والد کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کہ میرے ابو بھی کس قدر تنگی والے حالات میں بھی میری ہر طرح کی ضد پوری کرنے کے خواہش مند ہوئے ہونگے ۔
کتنے اپنے ارمانوں کا خون کرکے میری چاہتوں کو پورا کئے ہونگے ۔
کتنی بار میری خاطر دھوپ کی تپش سہہ کر کمائے ہونگے ،کتنی بار پردیس صر ف اس لئے گئے ہونگے تاکہ میری ضرورتیں پوری ہو سکیں ،کتنی بار اپنے بدن کو تھکاوٹ سے چور چور کئے ہونگے تاکہ میں آرام کی نیند لے سکوں ،میری ہر ہر خواہشات کے آگے انکے کتنے ہی خواہشات قربان ہوئے ہونگے
یہ ساری باتیں ایک انسان اسی وقت محسوس کر سکتا ہے جب خود وہ اس مرحلہ سے گزر رہا ہوتا ہے
واقعی سچ کہا ہے کسی نے
کہ یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے
میرے بغیر ہیں سب خواب انکے ویراں سے
ابو جی آپکی بہت یاد آتی ہے
کاش یہ پردیس والی زندگی کاٹنے کی نوبت نہ آتی
کاش ہمیشہ آپکی نگاہوں کے سامنے رہنے کا موقع ملتا
کاش میری غلطیوں پر اب بھی میرے ابو مجھے ڈانٹتے
کاش اب بھی مجھے ہر چیز پر درست رہنمائی کرنے والے پیارے ابو میرے ساتھ رہا کرتے