mufti Aashique Elahi Qasmi

mufti Aashique Elahi Qasmi استاذ حدیث جامعہ عربیہ حفظ القرآن مالیر کوٹلہ پنجاب

ابھی بچپنے کا لڑکپن ٹھیک سے ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک دو معصوم سے ننہے بچے مجھے واالد ہونے کی زمہ داری دے ڈالے۔ ہیں ...
28/05/2026

ابھی بچپنے کا لڑکپن ٹھیک سے ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اچانک دو معصوم سے ننہے بچے مجھے واالد ہونے کی زمہ داری دے ڈالے۔ ہیں
جب تک انسان والد نہیں بن جاتا اس وقت تک والدیت کا احساس نہیں کر پاتا ہے ،یہ وہ عظیم زمہ داری ہے جسے جب بھی ادا کرتا ہوں تو میرے والدین میری نظروں کے سامنے ہوتے ہیں اور یہ سوچتا ہوں کہ کیا میرے والدین بھی مجھے اس قدر پیار و احترام کے ساتھ مجھے پالے ہیں ،
آج جب بچوں کو عید کی نماز کے بعد کھلونا دلانے مالیر کوٹلہ کے عید گاہ پہونچا تو بچے پاس میں لگے بچوں والے ٹرین اور دیگر تفریح کے آلات و اسباب ہے ساتھ کھیلنے کی ضد کرنے لگے ،میں عام طورپر ایسی جگہوں میں جانے سے پرہیز کرتا ہوں پر بچوں کی ضد کے آگے کیا کچھ نہیں کر بیٹھتا ہے انسان ،خیر بچوں کی ضد پوری کرکے جو سکون کا احساس ہوتا ہے وہ ایک عظیم دولت ہے ،ایسے موقعوں پر اپنے والد کی عظمت کا پتہ چلتا ہے کہ میرے ابو بھی کس قدر تنگی والے حالات میں بھی میری ہر طرح کی ضد پوری کرنے کے خواہش مند ہوئے ہونگے ۔
کتنے اپنے ارمانوں کا خون کرکے میری چاہتوں کو پورا کئے ہونگے ۔
کتنی بار میری خاطر دھوپ کی تپش سہہ کر کمائے ہونگے ،کتنی بار پردیس صر ف اس لئے گئے ہونگے تاکہ میری ضرورتیں پوری ہو سکیں ،کتنی بار اپنے بدن کو تھکاوٹ سے چور چور کئے ہونگے تاکہ میں آرام کی نیند لے سکوں ،میری ہر ہر خواہشات کے آگے انکے کتنے ہی خواہشات قربان ہوئے ہونگے
یہ ساری باتیں ایک انسان اسی وقت محسوس کر سکتا ہے جب خود وہ اس مرحلہ سے گزر رہا ہوتا ہے
واقعی سچ کہا ہے کسی نے
کہ یہ بات سچ ہے میرا باپ کم نہیں ماں سے
میرے بغیر ہیں سب خواب انکے ویراں سے

ابو جی آپکی بہت یاد آتی ہے
کاش یہ پردیس والی زندگی کاٹنے کی نوبت نہ آتی
کاش ہمیشہ آپکی نگاہوں کے سامنے رہنے کا موقع ملتا
کاش میری غلطیوں پر اب بھی میرے ابو مجھے ڈانٹتے
کاش اب بھی مجھے ہر چیز پر درست رہنمائی کرنے والے پیارے ابو میرے ساتھ رہا کرتے

مشہور شاعر اختر شیرانی کا عجیب و غریب عشق رسول کا واقعہ شورش کاشمیری نے ایک جگہ شاعرِ رومان اختر شیرانی کا واقعہلکھا ہے ...
26/05/2026

مشہور شاعر اختر شیرانی کا عجیب و غریب عشق رسول کا واقعہ
شورش کاشمیری نے ایک جگہ شاعرِ رومان اختر شیرانی کا واقعہ

لکھا ہے جو ہماری مجموعی نفسیات کی علامت اور ہماری زندگی کی حرارت کا اعلان بھی ہے ۔
شورش کاشمیری لکھتے ہیں:
”اختر شیرانی ایک بلانوش شرابی، محبت کا سخنور اور رُومان کا تاجور تھا۔ لاہور کے ایک مشہور ہوٹل میں چند کمیونسٹ نوجوانوں نے جو بلا کے ذہین تھے ،اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔وہ شراب کی دو بوتلیں اپنے حلق میں انڈیل کر ہوش و حواس کھو چکے تھے ،تمام بدن پر رعشہ طاری تھا۔ حتیٰ کہ دمِ گفتار الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زباں سے نکل رہے تھے۔اُدھر اختر شیرانی کی انا کا شروع ہی سے یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو مانتے نہیں تھے ۔ شاعر وہ ش*ذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہمعصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھے، انہیں بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔کمیونسٹ نوجوانوں نے فیض کے بارے میں سوال کیا، طرح دے گئے ۔ جوش کے متعلق پوچھا، کہا : وہ ناظم ہے ۔ سردار جعفری کا نام لیا تو مسکرا دیئے ۔ فراق کا ذکر چھیڑا تو ہوں ہاں کر کے چپ ہو گئے ۔ ساحر لدھیانوی کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا، فرمایا : مشق کرنے دو۔ ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا : نام سنا ہے ۔ احمد ندیم قاسمی؟ فرمایا : میرا شاگرد ہے ۔ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا گیا،موڈ میں تھے۔ فرمایا: اجی! یہ پوچھو کہ ہم کون ہیں؟ یہ ارسطو ،افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے ۔ ہمیں ان سے کیا غرض کہ ہم ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔آنکھیں مستی میں سرخ ہو رہی تھیں، نشے میں چور تھے ، زباں پر قابو نہیں تھا ۔ لڑکھڑاتی آواز سے شہ پا کر ایک ظالم کمیونسٹ نے چبھتا ہوا سوال کیا:آپ کا حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ اﷲ اﷲ! نشے میں چُور ،ایک شرابی۔ جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا ۔کہا :بدبخت اک عاصی سے سوال کرتا ہے ۔ اک رُوسیاہ سے پوچھتا ہے ۔ اک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے ؟ غصے سے تمام بدن کانپ رہا تھا،اچانک رونا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ کہا: ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا؟ تمہیں جرأت کیسے ہوئی؟ گستاخ! بے ادب۔
باخدا دیوانہ باش بامحمدﷺہوشیار
اِس شریر سوال پہ توبہ کرو ۔میں تمہارے خبث باطن کو سمجھتا ہوں۔خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے ۔ اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا، مگر اختر کہاں سنتے تھے ۔ اسے محفل سے نکال دیا۔ پھر خود بھی اٹھ کر چل دیئے ۔ساری رات روتے رہے ۔کہتے تھے، یہ لوگ اتنے بے باک ہو گئے ہیں کہ ہمارا آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔ ”

ماخوذ از:
"مضامین شورش" ۔۔۔۔۔۔۔۔مضمون ۔۔۔۔۔("مجھے ہے حکم اذاں". سے اقتباس)
انتخاب کردہ:مفتی عاشق الہی قاسمی

24/05/2026
یہ ہےازہر ہندمادر علمی دارالعلوم دیوبند کا عظیم الشان شیخ الہند لائبریری جو ہر طرح کی ظاہری و باطنی خوبصورتی سے مالا مال...
17/05/2026

یہ ہےازہر ہندمادر علمی دارالعلوم دیوبند کا عظیم الشان شیخ الہند لائبریری جو ہر طرح کی ظاہری و باطنی خوبصورتی سے مالا مال ہے
جب میں پہلی بار دارالعلوم دیوبند گیا تھا وہاں داخلہ کے لئے غالبا 2010/2011کا سال تھا اس وقت اس کی بنیاد میں کام چل رہا تھا ،اسی وقت یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی عجیب و غریب شاہکار تعمیر ہوگی خیر وقت گزرنے کے ساتھ اس سال میرا داخلہ تو نہیں ہو سکا تھا
پھر 2013 میں داخلہ کے لئے گیا تو دارالعلوم نے مجھے اپنی گود میں پناہ دے دیا اور دو سال تک مجھے اس نے ایک ننہے بچے کی پالا ،میں بھی وہاں رہ کر پلتا رہا اور کچھ نہ کچھ اس کے سایے میں رہ کر پڑھائی بھی کر لی ۔اس وقت اس لائبریری کا کام آدھا ہو چکا تھا ،جب میرا دورۂ کا سال شروع ہوا تو ہم سب طلبہ دورۂ حدیث نے حضرت مہتمم صاحب(مفتی ابو القاسم نعمانی حفظہ اللہ و رعاہ)سے درخواست کی کہ حضرت لائبریری کی تحتانی منزل (بیسمینٹ)جسے دارالحدیث کے طور پر منتخب کر لیا گیا تھا میں ہم سب درس گاہ کو منتقل کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم طلبہ سے اس نئے دور کا آغاز ہو ،پر اس وقت یہ کہہ کر معذرت کر لی گئی کہ ابھی وہاں تک جانے کے لئے راستے تیار نہیں ہیں ،بالائی منزل پہ کام چلنے کی وجہ سے گردو غبار کا آنا لازمی ہے لہذا یہ ممکن نہیں ہے ،حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب کہنے لگے کہ ابھی آپ حضرات کی تشریف رکھنے لئے کسی عمدہ قالین کا انتظام نہیں ہو سکا ہے لہذا س وجہ سے معذرت کی گئی ہے
وہ سال بھی مکمل ہو گیا پر اس لائبریری کی چاہت دل سے نہیں گئی ،آخری درس بخآری پر بھی دوبارہ شد و مد کے ساتھ درخواست لگائی گئی کہ کم از کم آخری درس وہاں ہو جائے پرا س بار بھی ناکامی نے ہی اپنے دامن کو پھیلایا
پھر اس کے بعد جب ہمیں دارالعلوم نے بالغ قرار دے دیا اور اپنی گود سے دنیا کے جھمیلوں میں پھینک دیا تو اس کے دو سال بعد سے ہی وہاں دار الحدیث کی درسگاہ منتقل ہو گئی ،

آج (16اپریل2026)کو صبح بعد فجر ایک عرصہ کی جدائی کے بعد درالعلوم پہونچا اور لائبریری کو کی شان و شوکت کو دیکھا تو ایسا محسوس ہوا کہ وہ مجھے چڑھا رہاہو کہ ،بابو تمہاری قسمت میں نہیں تھا میرے آغوش میں آنا
خیر دل تو کچوک ہو کے رہ گیا پر خوشی اس بات کی ہوئی کہ میری نگاہیں س بات کی شاہد ہیں کہ میں نے اسے اول سے آخر تک بنتے ہوئے دیکھا ہے
اور جس عظیم المرتبت شخصیت کے نام سے اسے منسوب کیا گیا ہے للہ ان کے نام کی طرح اس عمارت کو بھی ژندہ رکھے اور ہزاروں سال حدیث کی گونجیں یہاں سے پورے عالم میں پھیلے
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں

طالب دعا :عاشق الہی قاسمی

جب ذی الحجہ کا چاند نظر آ جائے تو جن حضرات کی قربانی کرنے کی نیت ہے انہیں چاہئے کہ اپنے ناخن اور بال نہ کٹوائیں ۔یہ حکم ...
14/05/2026

جب ذی الحجہ کا چاند نظر آ جائے تو جن حضرات کی قربانی کرنے کی نیت ہے انہیں چاہئے کہ اپنے ناخن اور بال نہ کٹوائیں ۔
یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے تاکہ ہمارا یہ عمل ان عاشقان خدا کے عمل کے مشابہ ہو جائے جو ابھی اللہ کا مہمان بن کر اللہ کے گھر کی زیارت کرنے اور ایک اہم فریضہ حج ادا کرنے گئے ہوئے ہیں تاکہ جو برکات حجاج کرام حاصل کر رہے ہیں اس تشابہ کی برکت سے اللہ ہم سب کو بھی ان فیوض و برکات سے فیضیاب کر دے

اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق دے
طالب دعا:مفتی عاشق الہی قاسمی

Imam ghazali farmate hain :Chaar cheejen aisi hai jinki qadar sirf chaar log hi karte hain 1.zindagi ki qadar marne wala...
12/05/2026

Imam ghazali farmate hain :
Chaar cheejen aisi hai jinki qadar sirf chaar log hi karte hain

1.zindagi ki qadar marne wala hi karta hai
2.beemar shakhs hi sehat o tandurusti ki qadar jaan sakta hai
3.jawani ki qadar budha shakhs hi jaanta hai .
4.or maaldari ki qadar faqeer hi kar sakta hai

Address

Sajida Colony Malerkotla
Malerkotla
148023

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when mufti Aashique Elahi Qasmi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category