05/09/2025
🔴 **ہم عید میلاد النبی ﷺ کو بدعت کیوں کہتے ہیں؟**
ترجمانی: عبداللہ صلاح الدین سلفی
👈🏻اس کی وجہ یہ ہے کہ:
🔹 **میلاد النبی ﷺ کے جشن کا کوئی ثبوت نہیں**: نہ تو قرآن مجید میں اس کے بارے میں کوئی ایک آیت موجود ہے، نہ ہی رسول اللہ ﷺ سے کوئی صحیح یا ضعیف حدیث مروی ہے، اور نہ ہی کسی صحابی سے کوئی صحیح یا ضعیف اثر ملتا ہے۔
🔹 **رسول اللہ ﷺ نے خود نہیں منایا**: نہ آپ ﷺ نے خود یہ جشن منایا، نہ ہی آپ کے صحابہ یا اہل بیت نے آپ کی زندگی میں اسے منایا۔
🔹 **ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ**: آپ نے دو سال خلافت کی اور عید میلاد النبی ﷺ نہیں منایا، حالانکہ آپ امت کے صدیق اور رسول اللہ ﷺ کے یارغار تھے۔
🔹 **عمر فاروق رضی اللہ عنہ**: آپ نے دس سال خلافت کی اور میلاد النبی ﷺ کا جشن نہیں منایا، حالانکہ آپ امت کے فاروق اور ملہَم تھے۔
🔹 **عثمان غنی رضی اللہ عنہ**: آپ نے تیرہ سال خلافت کی اور عید میلاد النبی ﷺ نہیں منایا، حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے دوہرے داماد، دو ہجرتوں والےاور امت کے سب سے زیادہ حیادار صحابی تھے۔
🔹 **علی رضی اللہ عنہ**: آپ نے چار سال خلافت کی اور جشن عید میلاد النبی ﷺ نہیں منایا، حالانکہ آپ رسول اللہ ﷺ کے چچازاد بھائی اور آپ ﷺ کی بیٹی؛ خواتین جنت کی سردار فاطمہ رضی اللہ عنہا کے شوہر تھے۔
🔹 **معاویہ رضی اللہ عنہ**: آپ نے اپنے دور خلافت میں میلاد النبی ﷺ کا جشن نہیں منایا، حالانکہ آپ کاتب وحی اور اسلام کے عظیم خُلَفا میں سے تھے۔
🔹 **حسن اور حسین رضی اللہ عنہما**: آپ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار تھے، لیکن آپ نے اپنے نانا جان ﷺ کا میلاد نہیں منایا۔
🔹 **صحابہ کی کثرت**: رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے وقت صحابہ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی، لیکن کسی ایک صحابی نے بھی میلاد النبی ﷺ کا جشن نہیں منایا۔
🔹 **تابعین اور ائمہ اربعہ**: نہ تابعین نے عید میلاد النبی ﷺ منایا، نہ ہی امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللّٰہ نے اسے منایا۔
✔️ **اگر یہ خیر ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اسے کرتے**: اگر میلاد النبی ﷺ منانا خیر اور نیکی کا کام ہوتا تو یہ عظیم ہستیاں اسے ضرور اپناتیں۔
💡 **دلائل کی غلط تشریح**: جو لوگ میلاد النبی ﷺ کے جواز کے قائل ہیں اور اس کے لیے دلائل پیش کرتے ہیں، جیسے پیر کے روز روزہ رکھنا، اگر ان کا فہم درست ہوتا تو صحابہ، تابعین اور ائمہ اسے ضرور پیش کرتے۔ ان کا اسے نہ منانا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ فہم غلط ہے۔
💡 **امام مالک کا قول**: ہم وہی کہتے ہیں جو امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا تھا: {ما لم يكُن في زَمنِ رَسولِ الله ﷺ وأصحابه دِينًا، فلن يكون اليوم دِينًا}."جو چیز رسول اللہ ﷺ اور ان کے صحابہ کے زمانے میں دین نہ تھی، وہ آج بھی دین نہیں ہو سکتی۔"
💡 **دین کی تکمیل** یہ بات یقینی طور پر معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دار آخرت کی طرف منتقل ہونے سے پہلےاللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل اور اپنی نعمت پوری کردی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: **{ ٱلۡیَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِینَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَیۡكُمۡ نِعۡمَتِی وَرَضِیتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَـٰمَ دِینࣰاۚ }[المَائـِدَةِ:٣]**
"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔"
💡 **بدعت سے اجتناب کا حکم** رسول اللہﷺ نے دین میں نئی چیزیں ایجاد کرنے سے منع کیا ہے اور فرمایا: **((مَن أَحدثَ في أَمرِنا هذا ما ليس مِنه، فهو رَدٌّ)).** "جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس کا حصہ نہیں، وہ مردود ہے۔"
💡 **تین ممتاز صدیوں کا عمل** خير القرون (پہلی تین صدیوں) میں کسی نے میلاد النبی ﷺ کے جشن کا نام تک نہ سنا۔ جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایاہے: **(خيرُ الناس قَرْنِي، ثم الذين يَلُونَهُم، ثم الذين يَلُونَهُم)** "سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر وہ جو ان کے بعد آئے، پھر وہ جو ان کے بعد آئے۔" کیا ہمارے لیے وہی کافی نہیں جو ان کے لیے کافی تھا؟
💡 **کوئی شرعی دلیل نہیں** میلاد النبی ﷺ منانے والوں کے پاس نہ قرآن سے کوئی دلیل ہے، نہ سنت سے، نہ اجماع سے، نہ کسی صحابی کے عمل سے، اور نہ ہی کوئی صحیح قیاس۔ ان کے پاس صرف چند عُلَما کے اقوال ہیں جو غلطی پر تھے، اور لوگوں نے ان کی تقلید کی۔
**میلاد النبی ﷺ منانے والوں سے چار سوالات**:
1️⃣ **پہلا سوال**: میلاد النبی ﷺ منانا طاعت(نیکی کا کام)ہے یا معصیت(گناہ)؟
▪️ اگر کہو کہ معصیت ہے تو ہم عید میلاد النبی ﷺ مناکرگناہگار ہوں گے، ایسی صورت میں اختلاف ختم۔
▪️ اگر کہو کہ طاعت ہے اور اس پر ثواب ملے گا، تو:
2️⃣ **دوسرا سوال**: کیا یہ طاعت رسول اللہ ﷺ کو معلوم تھی یا وہ اس سے جاہل اور ناواقف تھے؟
▪️ ہم نہیں سمجھتے کہ تم کہو گے کہ وہ جاہل تھے۔ اگر کہو کہ وہ جانتے تھے، تو:
3️⃣ **تیسرا سوال**: اگر یہ ثواب والی طاعت تھی اور رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم تھا، تو کیا آپ نے اسے امت تک پہنچایا؟
▪️ ہم نہیں سمجھتے کہ تم کہو گے کہ آپ نے اسے چھپایا، کیونکہ یہ آپ پر رسالت چھپانے کا الزام ہوگا۔ اللہ نے فرمایا: **{يَاأَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ}"** ( المائدہ: 67) اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا، اسے پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو تم نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا۔"
▪️ اگر کہو کہ آپ نے اسے پہنچایا، تو ہمارا سوال ہوگا پھر آپ ﷺ کے قول ، عمل یا تقریر سے عید میلاد النبی ﷺ کی دلیل پیش کرو؟
4️⃣ **چوتھا سوال**: اگر تم دلائل پیش کرو، تو کیا یہ دلائل تین فضیلت والی صدیوں کے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین سے پوشیدہ رہے اور تم نے انہیں دریافت کر لیا؟ یا وہ ان دلائل کو جانتے تھے لیکن اس پر عمل نہیں کیا، اور تم نے اس پر عمل شروع کر دیا؟
▫️ ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو حق اور سیدھے راستے کی ہدایت دے۔
▪️ اللہ تعالیٰ اپنے نبی، ہمارے محبوب، سردار اور آنکھوں کی ٹھنڈک محمد بن عبد اللہ ﷺ پر، ان کی آل، اصحاب، ازواج اور قیامت تک ان کے ہدایت یافتہ پیروکاروں پر رحمت نازل فرمائے۔آمین۔