Qari Firdous Kousar

Call Website Contact the establishment

Qari Firdous Kousar Shayer

غــــ ـــز ہ میں جاری شدید غذائی بحران کے باعث بچوں میں بھوک اور غذائی قلت کی صورتحال نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کی ...
24/09/2026

غــــ ـــز ہ میں جاری شدید غذائی بحران کے باعث بچوں میں بھوک اور غذائی قلت کی صورتحال نے ایک بار پھر عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ سامنے آنے والی تصاویر اور رپورٹس میں کمزور اور غذائی قلت سے متاثر بچوں کی حالت دکھائی گئی ہے۔

ایسے مشکل حالات اسلامی تاریخ میں بیان ہونے والی ان آزمائشوں کی یاد دلاتے ہیں جن میں نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ نے صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ اسلامی روایات میں شدید بھوک کے دوران پیٹ پر پتھر باندھنے کا ذکر بھی ملتا ہے، جو سخت حالات میں صبر کی ایک مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

غــــ ـــز ہ کے بچوں کی موجودہ صورتحال انسانی ہمدردی اور بنیادی غذائی ضروریات کی اہمیت کی جانب بھی توجہ دلاتی ہے۔

⚠️ Disclaimer: This post discusses the humanitarian situation in Ga - za and references Islamic historical traditions. Specific images, figures, and individual circumstances should be verified through reliable sources.

कितनी बड़ी न्यूज़ है सेलिब्रेट करो बड़ा अख़बार स 😂😂
24/09/2026

कितनी बड़ी न्यूज़ है सेलिब्रेट करो
बड़ा अख़बार स 😂😂


اس ویڈیو میں تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے علاقے رائیکل  کی ایک مسجد کا دل دہلا دینے والا واقعہ دکھایا گیا ہے۔ویڈیو کی تفصیلا...
24/09/2026

اس ویڈیو میں تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے علاقے رائیکل کی ایک مسجد کا دل دہلا دینے والا واقعہ دکھایا گیا ہے۔

ویڈیو کی تفصیلات کے مطابق:

* **واقعہ:** نمازِ عصر کی اقامت سے دو منٹ قبل مسجد کے امام، مولانا محمد امام الدین صاحب، مصلے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔

* **سی سی ٹی وی فوٹیج:** یہ سارا منظر مسجد میں لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہو گیا۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امام صاحب اطمینان سے تشریف فرما تھے کہ اچانک زمین پر گر پڑے۔

* **مصلّیان کی کوششیں:** امام صاحب کو اچانک گرتا دیکھ کر مسجد میں موجود دیگر نمازی فوراً دوڑ کر آئے اور ان کی جان بچانے کے لیے سی پی آر (CPR) سمیت تمام تر کوششیں کیں، لیکن تمام کوششیں بے سود ثابت ہوئیں اور وہ خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

* **خدمات:** مرحوم مولانا محمد امام الدین صاحب پچھلے 40 برس سے اسی مسجد میں امامت کی ذمہ داری نبھا رہے تھے۔ ان کی اس طرح اچانک وفات کی خبر نے پورے علاقے کے مسلمانوں کو غم زدہ کر دیا ہے۔

*یہی زندگی کی حقیقت ہے، کب کس جگہ رک جائے کسی کو خبر نہیں*

*نماز عصر کی امامت کے لئے مصلی پر انتظار کرتے ہوئے امام صاحب کی وفات..*

انا للہ وانا الیہ راجعون

اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

چند دن پہلے ہمارے شہر کی جامع مسجد میں  مدرسے کے ایک سفیر آئے تھے،  چہرے پر داڑھی ، سر پر پگڑی، 40 سال تک ان کی عمر تھیچ...
24/09/2026

چند دن پہلے ہمارے شہر کی جامع مسجد میں مدرسے کے ایک سفیر آئے تھے، چہرے پر داڑھی ، سر پر پگڑی، 40 سال تک ان کی عمر تھی
چہرے سے لگتا تھا کہ حالات کے ستائے ہوئے ہیں۔

عموماً سفیر حضرات مدرسے کی اسناد وغیرہ دکھا کر مدرسے ہی کے لیے چندے کی اپیل کرتے ہیں، مگر انہوں نے ہمارے خیال کے برخلاف کھڑے ہو کر اپنا دکھڑا سنانے لگے کہ: ’’میرے گھر میں بیٹیاں ہیں جو شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی ہیں ، میں ایک مدرسے میں مدرس ہوں
میری ماہانہ تنخواہ 12 ہزار ہے حالات بہت تنگ ہیں، مجھے اپنی بیٹیوں کی شادی کروانی ہے میری مدد کیجیے۔‘‘

یہ کہتے ہوئے وہ رو پڑے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص سالوں سے مدرسے میں خدمت انجام دے رہا ہے، اس نے اپنی عمر اسی میں گنوادی ، مہتمم کے بچوں کو بھی پڑھا کر عالم بنادیا ، مگر اس مہنگائی کے زمانے میں بھی اس کی تنخواہ صرف
12 ہزار ؟
کیا اس کے بچے نہیں ہیں ؟ بیوی نہیں ہے ؟ بیماری ، شادی ، اور میل جول نہیں ہے ؟
اس کی خواہشات نہیں ہیں ؟ اگر ہیں تو وہ ان بارہ
ہزار سے سب کیسے پورا کرے ؟

اس کے علاوہ ایسے لوگوں کا اپنا کوئی کاروبار یا کوئی اور ذریعۂ معاش بھی نہیں ہوتا۔

ایسے لوگ اپنی ساری عمر مدرسے کو دے دیتے ہیں، پھر مدارس کے مہتممین ایسے لوگوں کا خیال کیوں نہیں رکھتے؟
خود وہ اور ان کی اولادیں تو بڑی عیش و آرام کی زندگی بسر کر رہی ہوتی ہیں
مگر ان کے مدرسہ کا استاذ اس عمر میں بھی لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہے
اگر مہتممین ان غریب مدرسین کے لیے اچھی تنخواہ کے ساتھ ساتھ ان کی دیگر ضروریات کا بھی مناسب انتظام کریں تو ان لوگوں کو در در کے دھکے کھانے نہ پڑیں ۔

یہ صرف ایک سفیر اور مدرس کی کہانی تھی
اور نہ جانے کتنے حافظ اور مولوی ہوں گے جو آٹھ، دس ہزار پر زندگی کے ستم سہہ رہے ہوں گے۔

اگر آپ کے اردگرد بھی ایسے لوگ رہتے ہوں تو ان کی ضرور مدد کیجیے
اس سے اللہ تعالیٰ آپ کو بڑھا کر دے گا
یہ لوگ اپنے حال اور اپنے مستقبل کو قربان کرتے ہیں، ہمارے بچوں کے مستقبل کو روشن کرنے کیلیے ،
جب اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے ان اہل علم کا ضرور خیال رکھیے ۔

فاروق احمد

“टेंपो चालक की बेटी बनी जज”यह एक दिल को छू लेने वाली और प्रेरणादायक सफलता की कहानी है गुलफाम सैयद की, जो पंजाब के जिला म...
23/09/2026

“टेंपो चालक की बेटी बनी जज”

यह एक दिल को छू लेने वाली और प्रेरणादायक सफलता की कहानी है गुलफाम सैयद की, जो पंजाब के जिला मलेरकोटला के एक टेंपो (पिकअप ट्रक) चालक तालिब हुसैन की बेटी हैं। उन्होंने पंजाब सिविल सर्विसेज (ज्यूडिशियल) परीक्षा में पूरे पंजाब में 5वीं रैंक हासिल कर सफलता का परचम लहराया।

इस शानदार उपलब्धि के साथ गुलफाम सैयद अपने गृह जिले मलेरकोटला की पहली मुस्लिम महिला जज बनी हैं।

गुलफाम सैयद ने पटियाला स्थित पंजाबी यूनिवर्सिटी से कानून की पढ़ाई पूरी की। पढ़ाई के दौरान हॉस्टल की फीस बचाने के लिए वह रोजाना मलेरकोटला से पटियाला तक सफर करती थीं।

उन्होंने अपनी प्रारंभिक शिक्षा मलेरकोटला के इस्लामिया गर्ल्स सीनियर सेकेंडरी स्कूल से प्राप्त की। इसके बाद कानून की डिग्री हासिल की और न्यायिक सेवा में जाने के लिए कड़ी मेहनत, लगन और दृढ़ संकल्प के साथ तैयारी की।

गुलफाम सैयद की कहानी यह संदेश देती है कि हालात चाहे कितने भी कठिन हों, मेहनत, हौसले और लगन से मंजिल हासिल की जा सकती है।

سید المجاہدین اسیر مالٹا شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس سرہٗ العزیزسابق صدر المدرسین و شیخ الحدیث دارالعلوم...
23/09/2026

سید المجاہدین اسیر مالٹا شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی قدس سرہٗ العزیز
سابق صدر المدرسین و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند ۔

نام نامی۔ محمود حسن،
والد کا نام۔ حضرت مولانا ذوالفقار علی ۔

لقب۔ شیخ الہند
منصب۔ صدر المدرسین و شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند،
جمیعت علمائے ہند کے دوسرے صدر ۔

آزادی ہند میں اہم کردار ادا کرنے والے ، ہندوستان میں انگریزی اقتدار کا تخت الٹنے کے لئے تحریک ریشمی رومال شروع کیں 1916 ء میں انہیں گرفتار کر کے مالٹا جیل میں ڈال دیا گیا ۔

ولادت باسعادت۔ آپ 1268ھ مطابق 1851ء میں پیدا ہوئے ۔

وطن۔ دیوبند ، ضلع سہارنپور، اتر پردیش

تعلیم۔
آپ نے الف با اور قرآن پاک کا اکثر حصہ ایک معمر بزرگ میانجی منگلوری سے اور کسی قدر میانجی عبد اللطیف صاحب سے پڑھا، اس کے بعد فارسی کی سب کتابیں اور عربی کی ابتدائی کتابیں اپنے مشہور عالم چچا مولانا مہتاب علی صاحب سے پڑھیں ۔
اس کے بعد 15 محرم الحرام 1282 ھ سےب دار العلوم دیوبند کے مدرس اؤل حضرت مولانا ملا محمود صاحب سے پڑھنا شروع کیا ، 1286 ھ میں آپ نے صحاح ستہ حجۃ اللہ فی الارض حضرت مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ سے پڑھیں۔

حضرت کے اساتذہ کرام ۔
میانجی منگلوری،
میانجی عبد اللطیف صاحب،
حضرت مولانا مہتاب علی صاحب،
حضرت مولانا ملا محمود صاحب سے 1283ھ تا 1286 پڑھا،
حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب سے 1283ھ تا 1286 پڑھا،
حضرت مولانا ذوالفقار علی صاحب سے 1288 ھ کے بعد ادب کی چند کتابیں پڑھیں مثلاً دیوان متنبی، دیوان حماسہ، سبع معلقہ ،
حضرت مولانا قاسم نانوتوی علیہ الرحمہ سے صحاح ستہ اور اس کے بعد فنون کی چند کتابیں پڑھیں،

معین مدرسی دار العلوم دیوبند۔
حضرت 1288 ھ میں ابھی پورے طور پر فارغ بھی نہیں ہوۓ تھے کہ آپ کو معین مدرس مقرر کر دیا گیا ۔
پھر ایک سال ہی بعد حضرت شاہ رفیع الدین صاحب نے جو اس وقت کے مہتمم تھے مدرس چہارم کے لئے حضرت کو منتخب کر لیا۔

1293 ھ میں یعنی تقرر کے دوسرے سال ہی آپ نے ترمذی شریف ، مشکوٰۃ، ہدایہ وغیرہ کا درس دیا، 1295 ھ سے بخاری پڑھانا شروع کر دیں ،
1305 ھ میں آپ صدر المدرسین منتخب کۓ گۓ، اور 1339 تک اس عہدے پر فائز رہے ۔

تلامذہ ۔ان کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ ان کے بڑے شاگردوں میں حضرت مولانا غلام رسول ہزاروی ،علامہ انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا اصغر حسین دیوبندی، حکیم الأمت اشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام حسین احمد مدنی، شیخ الأدب اعزاز علی امروہی، مفتی اعظم کفایت اللہ دہلوی، مولانا مناظر احسن گیلانی، حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاری، مفتی اعظم محمد شفیع دیوبندی، حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مولانا سید فخر الدین احمد، بطل حریت حضرت مولانا عبید اللہ سندھی اور عزیر گل پشاوری شامل ہیں۔ ابراہیم موسی بیان کرتے ہیں کہ "ان کے تلامذہ کی ایک اچھی خاصی جماعت نے بعد میں مدارس کے میدان میں شہرت حاصل کی اور جنوبی ایشیا میں عوامی زندگی میں مذہبی تعلیم، سیاست اور ادارہ سازی جیسے متنوع شعبوں میں اپنا حصہ قربان کیا۔

بیعت و خلافت۔ حضرت شیخ الہند علیہ الرحمہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ و حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی علیہ الرحمہ کے خلیفہ و مجاز تھے ۔

تصانیف۔
ترجمہ شیخ الہند
الابواب والتراجم للبخاری،
ادلہ کاملہ،
ایضاح الادلہ،
احسن القری،
جھد المقل،
تحصیح سنن ابی داؤد وغیرہ قابل ذکر ہے ۔

وفات۔ 30 نومبر 1920ء میں آپ اس دار فانی سے دار بقاء کی جانب کوچ فرما گۓ انا للہ و انا الیہ رجعون ۔
جعل اللہ الجنت مثواہ

از 🖋️ تعریف الاسلام مرشد آبادی عفی اللہ عنہ
(منقول از تذکرۂ شیخ الہند)

ہمیں مدرسے کو سکول جیسا بنانے کی ضرورت نہیں، بلکہ مدرسے کے دینی ماحول کو اتنا خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے کہ بچہ خود وہاں ...
23/09/2026

ہمیں مدرسے کو سکول جیسا بنانے کی ضرورت نہیں، بلکہ مدرسے کے دینی ماحول کو اتنا خوبصورت بنانے کی ضرورت ہے کہ بچہ خود وہاں آنا چاہے۔
یاد رکھیے!
بچے قرآن سے نہیں بھاگتے…
بلکہ وہ ہمارے اندازِ تعلیم سے بھاگتے ہیں.
مدرسہ ایسا مقام ہونا چاہیے جہاں بچہ داخل ہوتے ہوئے خوف محسوس نہ کرے بلکہ دل میں اطمینان محسوس کرے۔

چند وجوہات
بچوں کے مدرسے سے دل اُچاٹ ہونے کا سبب بن سکتی ہیں:

🔹 ہر وقت سختی اور ڈانٹ کا ماحول
🔹 استاد اور بچے کے درمیان محبت و شفقت کی کمی
🔹 صرف سبق یاد کروانے پر زور، سمجھانے اور دلچسپی پیدا کرنے پر کم توجہ
🔹 بچے کی عمر، مزاج اور صلاحیت کا خیال نہ رکھنا
🔹 کھیل، تفریح اور مثبت سرگرمیوں کی مناسب گنجائش نہ ہونا
🔹 غلطی پر اصلاح کے بجائے بار بار شرمندہ کرنا
🔹 والدین کا صرف نمبر، سبق اور امتحان پر توجہ دینا، بچے کے جذبات پر نہیں

مدرسے کو ایسا مقام بنانا ہوگا جہاں بچہ قرآن پڑھنے کے ساتھ قرآن سے محبت بھی سیکھے۔
استاد صرف سبق سنانے والا نہیں، بلکہ بچے کے لیے شفقت کرنے والا مربی ہو۔
غلطی پر مار یا تذلیل کے بجائے حکمت، حوصلہ افزائی اور مناسب اصلاح ہو۔
سبق میں دلچسپی، سوال و جواب، سرگرمیوں اور عمر کے مطابق جدید تدریسی طریقوں کو شامل کیا جائے۔
بچے کو یہ احساس دیا جائے:
"مدرسہ وہ جگہ ہے جہاں مجھے ڈانٹنے والا نہیں، سنوارنے والا استاد ملتا ہے؛ جہاں مجھے صرف قرآن یاد نہیں کروایا جاتا، بلکہ قرآن سے محبت بھی سکھائی جاتی ہے۔"
ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ
"بچہ مدرسے سے کیوں بھاگتا ہے؟"
بلکہ یہ سوچنا چاہیے:
"ہم مدرسے کو بچے کے لیے ایسا محبوب اور پُرسکون مقام کیسے بنائیں کہ وہ خود مدرسے آنے کا انتظار کرے؟"

آپ کے تجربے میں
مدرسے سے بچے کی بے رغبتی کی سب سے بڑی وجہ کیا ہوتی ہے؟

کیا سختی بچے کو قرآن سے قریب کرتی ہے یا دور؟
کیا استاد کا رویہ بچے کی دینی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے؟
مدرسے میں کھیل اور تفریح کی کتنی گنجائش ہونی چاہیے؟
حفظِ قرآن میں بچے کی دلچسپی کیسے برقرار رکھی جا سکتی ہے؟
والدین اور مدرسے کے درمیان رابطہ بہتر کیسے ہو سکتا ہے؟
کیا اساتذہ کے لیے باقاعدہ تربیتی پروگرام ہونے چاہئیں؟

اپنے اخلاق درست کیجئے آپ بھی خوشبودار ہو جائیں گے ۔۔
23/09/2026

اپنے اخلاق درست کیجئے آپ بھی خوشبودار ہو جائیں گے

۔

۔

والد کی اہمیت اولاد کے جاننا ضروری ہے ۔۔
23/09/2026

والد کی اہمیت اولاد کے جاننا ضروری ہے

۔

۔

حکیم الأمت مجدد الملت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ خلیفۂ اجل سید الطائفہ حضرت اقدس حاجی امداد اللہ مہاجر ...
23/09/2026

حکیم الأمت مجدد الملت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی علیہ الرحمہ خلیفۂ اجل سید الطائفہ حضرت اقدس حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ

نام نامی - اشرف علی
یہ نام حضرت حافظ غلام مرتضیٰ پانی پتی مجزوب رحمتہ اللہ علیہ نے ولادت باسعادت سے پہلے ہے بلکہ استقرار حمل سے پہلے ہی نانہال میں جاکے تجویز فرمایا تھا اور وہی نام مشہور و مقبول ہوا، دادھال سے عبد الغنی تجویز کیا گیا تھا مگر وہ مشہور نہیں ہوا ۔

القاب - حکیم الأمت، مججد الملت

شرف نسب - حضرت والا کی دادھال فاروقی اور نانھال علوی ہے
والد ماجد - عبد الحق

تاریخِ ولادت باسعادت - 5 ربیع الثانی 1280ھ کو چہار شنبہ کے دن بوقت صبحِ صادق آپ کی ولادت باسعادت واقع ہوئی ۔

جاۓ وطن - تھانہ بھون، مظفر نگر، یو پی، انڈیا ۔

حفظ قرآن - حضرت والا نے قرآن شریف زیادہ تر حافظ حسین علی صاحب مرحوم سے حفظ کیا جو دہلی کے باشندے تھے میرٹھ میں سکونت اختیار کر لی تھی، اور شروع کے چند پارے آخون جی صاحب سے پڑھے تھے جو میرٹھ کے رہنے والے تھے پھر حافظ حسین علی صاحب سے تکمیل کی ۔

فارسی کی تعلیم - بالکل ابتدائی فارسی میرٹھ میں مختلف اساتذہ سے پڑھیں، پھر تھانہ بھون میں فارسی کی متوسطات حضرت مولانا فتح محمد صاحب رحمہ اللہ سے پڑھیں، اور ابتدائی کتب ابو الفضل تک اپنے ماموں واجد علی صاحب سے پڑھیں جو ادب فارسی کے استاذ کامل تھے ۔

دار العلوم دیوبند کا سفر -
پھر تحصیل عربی کے لئے دیوبند تشریف لے گئے وہاں بقیہ کتب فارسی حضرت مولانا منفعت علی صاحب دیوبندی سے پڑھیں یعنی پنج رقعہ، قصائد عرفی، سکندر نامہ ۔

عربی کی پوری تکمیل دیوبند ہی میں ہوئی اور بفضلہ تعالیٰ صرف 19 یا 20 سال ہی کی عمر میں آپ فارغ التحصیل ہو گۓ تھے ، مدرسہ دیوبند میں تقریباً پانچ سال بسلسلہ طالب علمی رہنا ہوا ۔آخر ذیقعدہ 1295 ھ میں وہاں داخل ہوۓ اور شروع 1301 ھ میں فارغ التحصیل ہو گۓ۔

اساتذہ کرام - حضرت والا کو اللہ تعالیٰ نے اساتذہ بھی ایسے عطاء فرماۓ تھے کہ ان میں سے ہر ایک اپنی جگہ غزالی اور رازئ وقت تھا،ان میں سے سب سے زیادہ مقتدر ہستی حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی علیہ الرحمہ کی تھی جو ہر فن میں ماہر ہونے کے علاوہ بہت بڑے صاحب باطن اور شیخ کامل بھی تھے حضرت والا نے مولانا یعقوب نانوتوی علیہ الرحمہ سے بڑے بڑے فیوض و برکات حاصل کئے ہیں اور زیادہ تر علوم عجیبہ و غریبہ انہیں سے حاصل فرمائے ہیں ، اور مولانا کے اکثر اقوال و احوال حقائق و معارف نہایت لطف لے کر بیان فرمایا کرتے تھے، اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حلقہ درس کیا ہوتا تھا حلقۂ توجہ ہوتا تھا ۔یہ چال تھا کہ تفسیر کا سبق ہو رہا ہے آیات کا مطلب بیان فرما رہے ہیں اور آنکھوں سے زار و قطار آنسو جاری ہیں'
دیگر اساتذہ کرام حضرت مولانا سید احمد صاحب، جناب ملا محمود صاحب،جناب مولانا عبد العلی صاحب حضرت مولانا محمود حسن صاحب رحمھم اللہ تھے ۔

قرأت کی مشق - حضرت والا نے قرأت کی مشق مشہور آفاق جناب قاری محمد عبد اللہ صاحب مہاجر مکی سے بمقام مکہ معظمہ فرمائی تھی

درس وتدریس مدرسہ فیض عام کانپور - درسیات سے فراغت کے بعد حضرت والا 14 سال تک بمقام کانپور درس و تدریس میں مشغول رہے ،اور اس درمیان اپنے مواعظ حسنہ اور تصنیفات مفیدہ سے بھی لوگوں کو مستفیض فرماتے رہے ، اور افتاء کا کام بھی اپنے ذمہ لے رکھا تھا اور فتاوی کی نقل بھی مدرسہ میں رکھی جاتی تھی جن کا ایک بڑا مجموعہ ہو گیا تھا ۔
1315 ھ میں کانپور چھوڑ کر اپنے آبائی وطن تھانہ بھون لے گئے اور وہاں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ کی خانقاہ کو نۓ سرے سے آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کے نام سے ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جہاں آخر دم تک تدریس تزکیہ نفوس اور اصلاح معاشرہ جیسی خدمات سر انجام دیتے رہے ۔
اس مراجعت پر حاجی صاحب رحمہ اللہ نے ان کو کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا ہوا تھا "بہتر ہوا کہ آپ تھانہ بھون تشریف لے گئے امید ہے کہ خلائق کثیرہ کو آپ سے فائدۂ ظاہری و باطنی ہوگا اور آپ ہمارے مدرسہ و مسجد کو از سر نو آباد کریں گے ، میں ہر وقت آپ کے حال میں دعا کرتا ہوں "

بیعت و سلوک - ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد دل میں تزکیۂ باطن کا داعیہ پیدا ہوا چنانچہ شوال 1301 ھ میں جب کہ طالم علمی کی زندگی کو ختم فرما کر کانپور میں اشاعت علوم میں مصروف تھے سفر حج کی توفیق ہوئی ، مکہ معظمہ پہنچ کر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضری دی ، حاجی صاحب حضرت کے آنے سے بہت خوش ہوئے اور دست بدست بیعت کی نعمت سے سرفراز فرمایا ،۔ اور فرمایا کہ تم میرے پاس چھ مہینے رہ جاؤ لیکن والد ماجد نے مفارقت کو گوارا نہ کیا تو حاجی صاحب نے فرمایا کہ والد اطاعت مقدم ہے اس وقت چلے جاؤ بعد میں دیکھا جائے گا ، 1310 ھ میں دوبارہ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور حاجی صاحب کی خدمت میں چھ مہینے گزارے ، اس دوران میں حاجی صاحب نے ان کو شرف خلافت سے نوازا ، اور فرمایا کہ میاں اشرف توکل بخدا تھانہ بھون جاکر بیٹھ جانا اگر سخت حالات پیش آئیں تو عجلت مت کرنا ان وصیتوں اور باطنی دولت کو لیکر 1311 ھ میں وطن لوٹ آۓ اور حاجی صاحب کے وصیت کے مطابق تھانہ بھون میں رشد و ہدایت کا کام شروع کر دیا ہندوستان طول و عرض سے لوگ پروانہ وار آتے رہے اور دین اسلام کا کام کرتے رہے ۔

تصانیف -
ہزاروں تصنیف ہیں ان میں سے تفسیر بیان القرآن،
بہشتی زیور ، امداد الفتاوی، وغیرہ قابل ذکر ہے

یوم وفات - 16 رجب 1362 ھ میں 80 سال تین ماہ گیارہ دن کی عمر میں آپ اس دار فانی سے کوچ فرما گۓ انا للہ و انا الیہ رجعون ، ان کی نماز جنازہ ظفر احمد عثمانی نے پڑھائی اور تھانہ بھون کے قبرستان میں مدفون ہیں ۔
اللہ تعالی حضرت کی خدمات عظیمہ کو قبول فرمائے، درجات کو بلند فرمائے، ان کی تعلیمات پر ہمیں چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔

🖋️ تعریف الاسلام مرشد آبادی عفی اللہ عنہ

Address

Jamtara

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Qari Firdous Kousar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Qari Firdous Kousar:

Shortcuts

Share

Category