15/10/2026
گھریلو جھگڑے کئی قسم کے ہوتے ہیں، لیکن اس سے بچیں۔
مثلاً میاں بیوی کا جھگڑا، باپ بیٹے کا جھگڑا، بہن بھائی کا جھگڑا، بہنوں کا آپس میں جھگڑا، ساس بہو کا جھگڑا، نند بھاوج کا جھگڑا، جیٹھانی دیورانی کا جھگڑا، دیور بھابھی کا جھگڑا، دیورانی جیٹھ کا جھگڑا اور باپ بیٹی کا جھگڑا۔
اگر ہم بات کریں میاں بیوی کے جھگڑے کی تو ان کے در میان زیادہ تر جھگڑے کسی ڈیمانڈ کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ مثلاً بیوی کہتی ہے: " مجھے الگ رہنا ہے، میں اپنا الگ ہیں۔ پکاؤں گی، میری آپ کے فیملی کے ساتھ بنتی نہیں " وغیرہ وغیرہ۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب لڑکی کی شادی ہوتی ہے تو اس کی اپنی سوچ اور کچھ خواب ہوتے ہیں، جس کی تحمیل کے لیے وہ کوششیں کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف اس کے گھر والے اس کو اپنی باتوں کے ذریعے اس قدر مرعوب کرتے ہیں، اور لڑکی جو سنہرے خواب دیکھ کر آتی ہے اس کا جینا دو بھر کر دیتی ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سب سے پہلے تو ایسے خالہ خیرن ( یعنی کان بھرنے والی خاتون ) جیسے لوگوں سے چھٹکارا پانا پڑے گا جو لگائی بجھائی میں لگی رہتی ہیں، تب جا کر گھر آباد ہوگا۔
باپ بیٹے کا جھگڑا زیادہ تر عارضی ہوتا ہے اور اس میں بھی کسی نہ کسی عورت کا کردار قابل غور ہوتا ہے۔ لیکن اکثر یہ جھگڑے بہت آگے نکل جاتے ہیں اور مجبوراً باپ اپنے بیٹے کو عاق کر دیتا ہے، اور بیٹا ہمیشہ ندامت کے آنسوروتا رہتاہے۔
بہن بھائی کا جھگڑا: میرے دوستو! یہ رشتہ ایسا ہے کہ جتنا آپس میں لڑتے ہیں اتنا ہی پیار بڑھتا ہے۔ (اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس لڑائی کو فروغ دیا جائے)۔ یہ لڑائی عارضی ہوتی ہے۔ وقت جب دونوں میں سے کسی کا بھی پڑتا ہے تو یہ دونوں ہی کبھی منع نہیں کرتے اور ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ زیادہ تر بہنیں پیش قدمی کرتی ہوئی یہ کام سرانجام دیتی ہیں۔
بھائی بھائی کا جھگڑا: یہ جھگڑا ہمیشہ دونوں بھائیوں کی شادی کے بعد ہی ہوتا نظر آتا ہے۔ زیادہ تر ایسے جھگڑے کی پیٹھ پیچھے بھی اکثر عورت کا کردار ہوتا ہے۔ اور اگر بھائی آپس میں اتفاق کر لیں کہ ہمیں کسی قیمت پر بھی نہیں الجھنا ہے، تو عورت پریشان رہتی ہے اور تعویذ گنڈے کی طرف راغب ہو جاتی ہے کیونکہ اسے اپنی بات منوانی ہوتی ہے۔
بہنوں کا آپس میں جھگڑا: یہ جھگڑا زیادہ تر ان گھروں میں نظر آئے گا جہاں بیٹیوں کے رشتے نہیں آ رہے ہوتے اور ایسی لڑکیاں عمر کے بڑھنے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ چڑچڑی اور بدزبان ہوتی جاتی ہیں اور فوبیا جیسی بیماری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ چاہے وہ صحت و صفائی کی بات ہو، چاہے وہ شادی بیاہ یا گھر کے روزمرہ کے کاموں کی بات ہو، ہر ایک نے اپنے آپ کو برتر ثابت کرنا ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایک دوسرے کو کوسنا اور گالی گلوچ تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ ہر گھر اس مسئلہ سے محفوظ رہے، بہت کڑا امتحان ہوتا ہے ماں باپ کے لیے اگر ایسا ہو۔
ساس بہو کا جھگڑا، نند بھاوج، جیٹھانی، دیورانی، دیور بھابھی، جیٹھ دیورانی کا جھگڑا: یہ تو ایسے جھگڑے ہیں کہ اگر پڑھے لکھے لوگ ایسا کرتے ہیں تو ایسے لوگ سراسر بیوقوف ہیں اور اپنی زندگی کے مزے ضائع کر رہے ہیں۔ یہ وہ رشتے ہیں کہ اگر ان میں آپس میں اتفاق ہو تو نئی نسل ایسی پروان چڑھے گی کہ لوگ مثال دیں۔
باپ بیٹی کا جھگڑا: یہ جھگڑا بہت ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ اکثر جگہوں پر نظر آئے گا جہاں ماں باپ کی عزت نہیں کی جاتی ہوگی۔ ویسے آج کل تو لوگ عزت کے لفظ ہی بھول گئے ہیں۔
لہٰذا میرے دوستو! اپنے گھروں پر توجہ دو اور نئی آنے والی نسل کو ایسا ماحول فراہم کرو کہ وہ ایک اچھے انسان بن کر آپ سب کا نام روشن کر سکیں۔ کیا خیال ہے؟ مذکورہ بالا جھگڑوں کے علاوہ بھی کوئی آفت ہوتی ہوں گی گھروں میں؟
قارئینِ حضرات! یہ خیال رہے کہ گھریلو جھگڑوں کے اثرات کمسن بچے خاموشی سے جذب کرتے ہیں۔ اگرچہ جھگڑے کمسن بچوں کی سمجھ میں نہیں آتے لیکن اس سے ان کی شخصیت پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، وہ عمر بھر ان سے چھٹکارا نہیں پاتے۔ لڑائی جھگڑے، گھریلو چپقلش، نا اتفاقیاں بچوں کے ذہنوں پر ان مٹ نقوش چھوڑ دیتی ہیں جس سے بچوں کی ذہنی نشوونما بھی شدید متاثر ہوتی ہے۔ بچوں پر یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں کہ آپ کے درمیان کبھی کوئی اختلاف ہی نہیں ہوا۔ اگر بچوں کے سامنے یا انہیں بیٹھ کر گھریلو اختلافی مسائل پر بحث اچھی طرح کی جائے تو بچے یہ سیکھ رہے ہوتے ہیں کہ گھریلو تنازع کو کس طرح حل کیا جاتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ دراصل بچے کم عمری میں گھریلو ماحول سے یہ سیکھ لیتا ہے کہ اختلافی معاملات کو کس طرح سلجھایا جا سکتا ہے۔ اگر بچوں کے سامنے تشدد، گالی گلوچ، چیخ و پکار، گھر کی اشیاء کو پھینکا جائے تو اس طرح بچہ اپنے گھریلو ماحول سے یہ سیکھ لیتا ہے کہ اپنے مطلب کے لیے چیزوں کو پھینکنے یا چیخ و پکار کر کے منوا سکتے ہیں۔ اس عادت کا اثر نہ صرف اس کی سماجی زندگی بلکہ شادی کے بعد بھی خانگی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ گھریلو اختلافات کو بچوں کے سامنے مثبت انداز سے حل کرنا دراصل بچوں کی بہترین تربیت ہوتی ہے اور خوشگوار زندگی گزارنے والے افراد کے بچوں کی زندگیاں بھی خوشگوار ہوتی ہیں۔ اس لیے کوشش کی جائے کہ زندگی بہتر طریقے سے گزاری جائے تاکہ بچوں کے ذہنوں میں منفی اثرات مرتب نہ ہو سکیں۔
بلا شبہ بچوں کی پہلی تربیت گاہ اس کا گھر اور گھریلو ماحول ہوتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم بچوں کی بہتر تربیت کے لیے اپنے گھر اور گھریلو ماحول کو مثبت رکھیں، کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ گھریلو جھگڑوں کا سب سے بڑا نقصان معصوم بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ جو بچے اپنے والدین کو ہر وقت لڑتے جھگڑتے دیکھتے ہیں وہ ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے اور ان کی شخصیت میں چڑچڑاپن اور جارحیت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں پلے بڑھے بچے اکثر معاشرے کے اچھے شہری نہیں بن پاتے۔
دعا ہے کہ ہم سب کے تمام مسئلے حسن و خوبی کے ساتھ انجام پا جائیں، آپس میں محبت قائم رہے، خاندان خوشحال رہے اور جن بیٹے بیٹیوں کے رشتے کے لیے ان کے ماں باپ پریشان ہیں، ان کی یہ مشکل آسان ہو جائے۔
#گھریلوجھگڑے