30/10/2024
پیکر تھا وفا کا، محبت کا اک خدا تھا، وہ شخص جو ہمارے لیے اس جہاں سے جدا تھا۔
ہر لفظ اس کے، چاہت کے خزانے تھے، ہمارے دامن کو اس نے دعاؤں سے بھرا تھا۔
کچھ یادیں اور احساسات ایسے ہوتے ہیں، جو وقت کے ساتھ کبھی مدھم نہیں ہوتے۔ ہمارے والد صاحب کی محبت اور ان کا وجود بھی ہمارے لیے ایسی ہی ایک دائمی روشنی تھی، جو ہماری زندگی کو ہر پل روشن کیے رکھتی تھی۔ ان کی موجودگی میں ایک خاص اطمینان، ایک بے لوث شفقت کا احساس ہوتا تھا، جیسے دنیا کی ہر مشکل کا حل ان کے سائے میں ہو۔
وہ نہ صرف ایک محبت کرنے والے والد تھے، بلکہ اپنے ہر عمل سے ہمیں زندگی کی حقیقی معنویت اور اس کے مقصد سے روشناس کراتے۔ ان کی ہر نصیحت، ان کی ہر بات میرے دل کے نہاں خانے میں محفوظ ہے، اور ہر مشکل وقت میں ان کی باتیں میرے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہیں۔
اس شام کی حدت آج بھی مرے دل سے نہیں جاتی، جس شام ترا سایہ مرے سر سے اٹھا تھا۔
زندگی کے وہ لمحے جو ان کے ساتھ گزرے، آج قیمتی خزانے کی مانند میرے دل میں محفوظ ہیں۔ ان کی ہنسی، ان کا پیار، ان کا غصہ سب کچھ محبت کی ایک شکل تھی، جس میں ایک باپ کی بے پایاں شفقت چھپی ہوئی تھی۔ جو لوگ یہ نعمت آج بھی رکھتے ہیں، میں ان سے یہی کہوں گا کہ اپنے والد کی ہر مسکراہٹ، ہر پیار کو دل سے سمیٹ لیں، کیونکہ یہ وہ خزانہ ہے جو زندگی بھر ساتھ رہے گا۔ جب وہ دنیا سے چلے جاتے ہیں، تو ان کی آواز، ان کی باتیں، سب خوابوں کی مانند لگنے لگتی ہیں، اور پھر ان کا سایہ ڈھونڈنے ہمیں ان کے آخری مکاں کی طرف جانا پڑتا ہے۔
اگر تمہارے بابا تمہارے ساتھ ہیں، تو ان کی محبتوں کو سمیٹ لو، ان کے ساتھ ہر لمحہ گزارو، کیونکہ یہ وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ ان کے بوسوں میں جو محبت چھپی ہے، وہ تمہاری زندگی کو تا بندگی میں بدل دے گی۔ لیکن اگر تم بھی میری طرح اس نعمت سے محروم ہو چکے ہو، تو خدا تم پر اپنا خاص کرم کرے، اور تمہارے والد کے درجات کو بلند فرمائے۔ (آمین)
30 اکتوبر 2022، ایک ایسا دن تھا جب ہمارےسر سے وہ سایہ اٹھ گیا، جو ہماری دنیا کا مرکز تھا۔
دو سال گزر گئے، اور 30 اکتوبر 2024 کو والد صاحب کو بچھڑے ہوئے دوسال مکمل ہوئے، مگر ان کی جدائی کا درد آج بھی تازہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ زخم بھرنے کی بجائے اور گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی نصیحتیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں، ان کا پیار آج بھی میری زندگی کی راہوں کو روشن کرتا ہے، اور ان کی یادیں آج بھی دل کو خوب رُلاتی ہیں۔
ہمارے والدمرحوم نے ایک عام آدمی کی زندگی گزاری، مگر ان کی سادگی میں جو محبت اور عظمت تھی، وہ ہمارے لیے بہت خاص تھی۔ ان کا ہر عمل، ہر بات، ہمیں سکھاتی تھی کہ زندگی میں سچائی، محبت اور خدمت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
"رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلۡاچمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ"
(اے ہمارے رب! مجھے، میرے والدین اور تمام مومنین کو بخش دے، جس دن حساب قائم ہو گا)