Aakash Adbi Sangam Jammu Kashmir

Aakash Adbi Sangam Jammu Kashmir A Literary Forum to provide platform to Lovers of Language and Literature.

 # # # # کہکشان ادب سے  # #                                            ،۔ 5 اگست      مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی عالمی...
05/08/2026

# # # # کہکشان ادب سے # #

،۔ 5 اگست مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والی عالمی
شہرت یافتہ شاعرہ " ڈاکٹر قمر سرور"کا یوم ولادت ہے۔

آکاش ادبی سنگم جموں و کشمیر کی طرف سے "ڈاکٹر قمر سرور" کو یوم ولادت بہت بہت مبارک۔
مالک دو جہاں ان کو تندرستی والی عمر دراز عطا کرے۔
# # # # # # # # #
یوم ولادت کے موقعے پر پیش خدمت ہے 'ڈاکٹر قمر سرور ' کا کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
********************
کبھی سورج نہ چندا دیکھتی ہوں
فقط میں اس کا چہرا دیکھتی ہوں

تری تصویر کو سب سے چھپا کر
میں پہروں چھپ کے تنہا دیکھتی ہوں

مجھے معلوم ہے سب عہد و پیماں
مگر میں پھر بھی رستہ دیکھتی ہوں

اُدھر ہی چلتی رہتی ہوں ہمیشہ
جدھر اس کا اشارہ دیکھتی ہوں

زمانہ ہو تہہ و بالا مجھے کیا میں بس اس کا اشارہ دیکھتی ہوں

جلن ہوتی ہے ، سچ کہتی ہوں، جب بھی
اسے ہوتا کسی کا دیکھتی ہوں

اُڑانیں ، یاد آجاتی ہیں اس کی
اگر اڑتا پرندہ دیکھتی ہوں

کسی کے یاد آجاتے ہیں آنسو
قمر جب ٹوٹا تارا دیکھتی ہوں
, # # # # # # # # # # # # #

 # # # # کہکشان ادب سے  # # # #۔4اگست ، کرناٹک کے ضلع منگلور کے پنمبور علاقے سے تعلق رکھنے والی مشہور و معروف نسوانی آوا...
04/08/2026

# # # # کہکشان ادب سے # # # #
۔4اگست ، کرناٹک کے ضلع منگلور کے پنمبور علاقے سے تعلق رکھنے والی مشہور و معروف نسوانی آواز " سیدہ سلمیٰ صنم" کا یوم ولادت ہے۔
سیدہ سلمیٰ صنم کا شمار برصغیر کے مایا ناز فکشن نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی انعامات و اعزازات سے نوازا گیا ہے۔
آکاش ادبی سنگم جموں و کشمیر کی طرف سے "سیدہ سلمیٰ صنم" کو یوم ولادت بہت بہت مبارک۔
مالک دو جہاں ان کو تندرستی والی عمر دراز عطا کرے۔

26/07/2026

پروگرام 'ادیب کی کہانی ادیب کی زبانی
میں 'پیش خدمت ہے جموں و کشمیر ،ضلع گاندربل کے گاؤں اراہامہ سے تعلق رکھنے والے معروف کشمیری شاعر، ادیب اور معلم محترم اظہر نظیر کا کشمیری کلام۔۔۔۔۔۔۔۔!۔
آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔۔!۔۔۔۔۔۔!

******************

 # # # # #کہکشان ادب سے # # # # #آج اتر پردیش  سے تعلق رکھنے والے' بھوپال میں مقیم مشہور و معروف ادیب، شاعر اور صحافی "ڈ...
20/07/2026

# # # # #کہکشان ادب سے # # # # #
آج اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے' بھوپال میں مقیم مشہور و معروف ادیب، شاعر اور صحافی "ڈاکٹر مہتاب عالم " کا یوم ولادت ہے۔
"ڈاکٹر مہتاب عالم " کا شمار برصغیر کے مایہ ناز ادیبوں میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی انفرادیت سے اردو ادب میں ایک مستحکم مقام بنایا ہے۔
آکاش ادبی سنگم جموں و کشمیر کی طرف سے "ڈاکٹر مہتاب عالم " کو یوم ولادت بہت بہت مبارک۔
مالک دو جہاں ان کو تندرستی والی عمر دراز عطا کرے۔

*************************************************

۔ # # # # کہکشان ادب سے  # # #  14جولائی جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام علاقے سے تعلق رکھنے والی افسانہ نگار محت...
14/07/2026

۔ # # # # کہکشان ادب سے # # # 14جولائی جموں و کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے پہلگام علاقے سے تعلق رکھنے والی افسانہ نگار محترمہ' شبنم بنت رشید 'کا یوم ولادت ہے۔
آکاش ادبی سنگم جموں و کشمیر کی طرف سے محترمہ' شبنم بنت رشید 'کو یوم ولادت بہت بہت مبارک ۔
مالک دو جہاں ان کو تندرستی والی عمر دراز عطا کرے۔
***************** *****
یوم ولادت کے موقعے پر پیش خدمت ہے ' شبنم بنت رشید' کا افسانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"درد کا مارا" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔!۔۔۔۔۔۔۔!۔۔۔۔۔!۔۔ آپ سب کی بصارتوں کی نذر۔۔۔۔۔۔۔۔!۔۔۔۔۔!۔۔۔۔۔۔!

میرا نام آفتاب ہے۔ میں بچپن سے اکثر دنیا کے غموں اور تکلیفوں کی اندھیری راہوں پر بھٹکتا رہا۔ دادی کو شاید اس بات کا علم تھا کہ میں وہ نصیب اپنے لئے لکھ کر نہیں آیا ہوں جس نصیب کی بدولت انسان کی جانب خوشیان خود بہ خود چلی آتیں ہے۔
گھر میں ہلچل کا ماحول بڑھتے ہی دادی نے مجھے بتایا کہ تمہاری ماں دلہن بن کر واپس اس گھر میں آنے والی ہے۔ ماں کا چہرہ ذہن میں آتے ہی میں خوش ہوا لیکن ابو نے دلہن ماں کے پاس جانے سے پہلے ہی منع کیا۔
جس دن دلہن ماں کو گھر آنا تھا ابو نے حد ہی کردی مجھے پڑوسیوں کے گھر لے کر انکے حوالے کر کے رکھا، لیکن دادی نے مجھے واپس گھر لاکر ابو کو ڈانٹ کر کہا کہ کیوں اس درد کے مارے کو بے گانہ بنا رہے ہو؟ اس کا ہمارے سوا اس دنیا میں ہے ہی کون۔ ماں کے صدمے سے اس بیچارے نے پہلے ہی ہنسنا، کھیلنا چهوڑ دیا اب تو زیادہ بھوک بڑھنے کے ساتھ ساتھ اسکا بستر بھی گیلا ہونے لگا ہے۔
پہلے دن میں یہ طے نہ کر سکا کہ دلہن ماں میری ماں ہے یا کوئی اور کیوں کہ میں نے دروازہ کے پیچھے رہ کر اسکے مہندی سے رنگے ہاتھوں اور صرف اسکے دوپٹے کو دیکھ لیا چہرہ بالکل دیکھ نہ پایا ۔چند دنوں کے بعد جونہی میری نظر اسکے چہرے پر پڑی تو وہ میری ماں تھی ہی نہیں بلکہ بعد میں پتہ چلا دادی مجھے بہلا رہی تھی۔
مزید کئی دن گزر گئے تو دادی نے آہ بھرتے ہوئے مجھ سے کہا شاید نئی بہو دل کی بڑی مفلس ہے کیونکہ اسکا رویہ اور مزاج عجیب سا ہے ۔
پہلے دن سے ہی میرے دل میں دلہن ماں کا خوف بیٹھ گیا اسلئے میں اسکے سامنے ہرگر نہ جاتا تھا ۔ پھر بھی وہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر مجھے ڈانٹتی رہتی تھی ۔ ساتھ ساتھ میرے خلاف ابو کے کان بھرنے لگی۔ میں سہم جاتاتھا . جس وجہ سے دادی اسے کبھی لڑ پڑتی تھی تو کبھی اسے سمجھا کر کہتی تھی کہ کیوں بہو اس مسکین کو ستاکر اپنے کھاتے میں گناہ لکهوارہی ہو۔ اس بات سے دلہن ماں آپے سے باہر ہوکر دادی پر طرح طرح کی تہمتیں اور الزام لگاکر اسکے ساتھ بہت برا برتاو کرنے لگی ۔گھر میں لڑائی جھگڑا روز کا معمول بن گیا۔ تنگ آکر دادی نے ابو سے کہا کہ آفتاب کو عشرت کے گھر چهوڑ آو۔ ابو مجھے دوسرے دن عشرت بوا کے گھر چھوڑ آئے۔ لیکن مجھے محسوس ہوا کہ وہ اپنے گھر میں بالکل بے اختیار ہیں۔ پھر بھی دن میں کئی بار وہ چوری چھپے مجھے گھر میں بچا کچا کھانا کھلاتی رہی جس وجہ سے اسکی ساسوں ماں کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے۔ بہو!کیا تمہیں اس بات کا احساس ہے ؟ یہاں جگہ کی کتنی تنگی ہے گھر میں پہلے سے چار چار بچے موجود ہیں۔ انہیں رزق مہیا کرانا کتنا مشکل ہے ایک پیسہ سو سو بار سوچ کر خرچ کر تے ہیں اوپر سے بن بلائے تمہارا بھتیجا فرصت سے آکر گھر میں بیٹھ گیا. دن بھر کھاتا رہتا ہے اور بستر گیلا کرکے پورے گھر میں بدبو پهيلا کر ہمارا سکھ چین چھین لیا، وہ دن بهر واویلا کرکے عشرت بوا کی توہین کرنے لگی۔ بے عزتی سہتے سہتے جب اسکے سر سے پانی اوپر ہوگیا تو اسنے ابو کو گھر بلایا۔
ابو مجھے گھر لے آئے ۔تو دوسرے دن صبح کی چائے پی کر ہی مجھے عفت بوا ( چھوٹی پھپھو )کے گھر پہنچایا، ابو نے اسے سمجھایا کہ آفتاب کو کوئی مرض نہیں ہے بلکہ چھوٹا بچہ ہے۔ یہاں رہ کر ہنستے کھیلنے لگے گا تو اسکی طبیعت بھی ٹھیک رہے گی۔ عفت بوا مجھ پر جان چھڑکتی تھی وہ مجھے اپنے گھر میں اپنے قریب دیکھ کر بہت خوش ہوئی ۔ اسکے گھر میں مجھے بہت مزہ آیا وہ طبيعتا بالکل دادی جیسی تھى ہمدرد، خیال رکھنے والی اور بات سمجھنے والی۔ اسکی رسوٸی میں ہر روز لذیذ کھانا بنتا تھا ، مجھے بھی پیٹ بھر کے ملتا تھا، یہاں کوئی بندش نہ تھی، اسکے سرال والے بھی اچھے تھے۔ پہلے دن سے بوا نے میرا دوا اور دعا شروع کیا ۔گلے میں تعویز بھی پہناٸی مگر میری طبیعت میں کوئی بدلاو نہ آیا۔ اسی لیے وہ میری کمزوریاں اپنے سسرال والوں سے زیادہ دیر چھپا نہ پاٸی ۔جب انہیں پتا چلا تو وہ ان کے سامنے بڑی شرمندہ ہوٸی۔ بوا نے انہیں سمجھانے کی بہت کوشش کی ۔ لیکن انکا رویہ بھی بدل گیا۔ انہوں نے عفت بوا سے کہاکہ شاید آپ کے بھتیجے کے سر پر بہت برا سایا ہے ۔ اسے پہلے اس گھر میں اسکے ساتھ کچھ الٹا سیدھا ہوجائے بہتر ہے کہ اسے اپنے ہی گھر بھیج دو۔ مجبور ہو کر بوا نے ابو کو گھر بلاکر ہاتھ جوڑ کر روتے ہوئے ابو سے کہا کہ بھائی جان مجهکو غلط نہ سمجھنا۔ سسرال والوں کے سامنے ناک اونچی رہنی چاہیے۔ چھوٹا بچہ سگا بھتیجا در در کی ٹھوکریں کھاتاہے تو کھاتا رہے ۔ابو واپسی کے رستے میں بڑبڑاتے رہے اور اپنی کسی بھی بہن کے ساتھ آٸنده رشتہ نہ رکھنے کی قسم کهاٸی۔
میں ابو کی انگلی پکڑ کر گهر پہنچا شاید دادی میرا غم دل میں لے کر علیل اور کمزور ہوچکی تھی۔ اسنے مجھے اپنے پاس بٹھا کر کہا کہ بیٹا میں تمہارا انتظار کر رہی تھی میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں۔ مجھ کو معاف کرنا میں تمہارے لئے کچھ نہ کرپاٸی ، مجھے بڑھاپے میں اپنے بیٹے نے بڑا بے بس بنا دیا کیونکہ وہ صرف اپنے بارے سوچتا ہے ۔ وہی تمہاری اس حالت کا ذمہ دار ہے ۔ ورنہ تم تو اپنی ماں کے لاڈلے تھے ۔ وہ سادہ طبیعت کی مگر نیک خاتون تھی البتہ تمہارے ابو کو پسند نہ تھی۔ طلاق دے کر اسے گھر سے نکال دیا۔ اسکا کوئی اپنا نہ تھا نہ اسکی طرف سے بولنے والا نہ لڑنے والا اور نا ہی اسے کوئی پناہ دینے والا پتا نہیں اب وہ کہاں ہے۔ زندہ بھی ہے یا نہیں میں نہیں جانتی ۔ میرے بیٹے میں یہ بھی نہیں جانتی کہ تمہارے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے مگر تم اپنی حفاظت خود کرنا کبھی ہمت نہ ہارنا ، پهر دادی دل کھول کر روئی میں نے اسے چپ کراکے اسکے آنسوں صاف کیے اور اسے کہا کہ دادی میں چھوٹا ضرور ہوں لیکن سب سمجھتا ہوں۔ مگر دادی یہ طلاق کیا ہوتا ہے ؟ طلاق لفظوں کا زہر بھرا وہ خنجر ہوتا ہے جو بے غیرت 'بے حس اور بے ضمیر شوہر اپنی بے قصور بیوی کے سینے میں گھونپ کر اسکے ساتھ کئی کئی زندگیوں کو زندہ درگور کرتے ہیں ۔ اس طلاق سے تو بسےبساۓ گھر تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔ دادی نے جواب دیا بےضمیر 'خنجر، زہر۔۔۔۔ میں ابھی دادی کہے ہوئے لفظوں کو ذہن میں دہرا دہرا کر سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا تو دوسرے دن دادی انتقال کر گئی ۔
ایک رات کو میں نے دلہن ماں کو ابو سے باتیں کرتے سنا ۔وہ ابو سے کہہ رہی تھی کہ تمہاری ماں کو گزرے ہوئے پورے پندرہ دن ہوگئے۔ کیا تمہیں پتہ نہیں کہ میں ماں بننے والی ہوں، خوش رہنا چاہتی ہوں ۔ گھر میں بھی خوشیوں بھرا ماحول چاہتی ہوں ۔ جتنی جلدی ہو سکے آپ اس منحوس آفتاب کو دور کہیں کسی یتیم خانے میں داخل کریں ۔ آپ کے لیے تو عمر بھر کا بوجھ ہے ہی لیکن میرے لیے بھی درد سر بن گیا ہے۔ اس نے تو بستر گیلا کر کر کے میرا جینا ہی حرام کردیا - پیٹ تو کبھی اسکا بھرتا نہیں۔ طلاق دیتے وقت اسے اپنی ماں کے حوالے کر دینا چاہیے تھا۔ ابو کے اندر اتنی مجال نہ تھی کہ وه دلہن ماں کو کسی بات پر ٹو کتے بلکہ وہ تو ہوں ہاں میں جواب دے کر اسی کی ہاں میں ہاں ملاتے رہے ۔
دوسرے دن دوپہر سے پہلے ہی یتیم خانے کی گاڑی گھر کے آنگن میں داخل ہوئی۔ ابو نے کاغذی لوازمات پورے کئے۔ دلہن ماں نے میری کپڑوں کی گٹھری گاڑی میں رکھ کر اپنا دامن چھڑایا لیکن میں نے ابو کا دامن پکڑ کر روتے ہوئے کہا ابو میں کہیں نہیں جاٶں گا ۔میں نہ آج کے بعد زیادہ کھانا مانگوں گا اور نا ہی بستر گیلا کروں گا، مجھے اپنے سے الگ نا کرو اج ابو بالکل خاموش تھے۔ انکی آنکھوں میں میرا درد پنہاں تھا مگر وہ خود دلہن ماں کے سامنے بھیگی بلی بن جاتے تھے ۔ کچھ دیر بعد گاڑی ہوا سے باتیں کرتے ہوئے مجھے یتیم خانے لے گئی۔
روز روز میرے کپڑے اور بستر دیکھ کر وہاں کے چند شرارتی بچوں نے میرا مزاق بنایا۔جس وجہ سے میں سخت ہی بے چین ہوا ۔ جیسے تیسے کٸی دن گزر گۓ۔ پھر ایک برستی اور تاریک رات کو وہاں
کا راستہ ٹٹولتے ہوۓ بھاگ نکلا۔ اندازے سے
چلتا رہا ۔بھیگ کر اتنا تھک گیا کہ ایک درخت کے نیچے ڈھیر ہوگیا۔ نیند کا غلبہ تھا اسلئے گہری نیند سو گیا۔ آنکھ کھلی توخود کو ایک کمرے میں پایا۔ دوسرے کمرے میں باتیں ہورہی تھیں۔ ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے کہہ رہا تھا کہ ابھی تو سو رہا ہے ۔دن بھر اسے آرم کرنے دو تو شام کو اسے تمہارے حوالے کردوں گا۔ پھر باہر دروازہ بند ہونے کی آواز آٸی۔شاید ان میں سے ایک چلا گیا۔ پھر بھونچال کے جھٹکے کی طرح میرے کمرے کا دروازہ کھلا۔ ایک آدم ہاتھ میں کھانے کا پلیٹ لے کر آیا شکل اور لہجے سے بالکل قصائی لگ رہا تھا۔ میں ڈر کے مارے اٹھ کے بیٹھ گیا ۔ اس نے مجھ سے کئی سوال پوچھے مجھ پر خوف طاری تھا اسلئے کوئی جواب نہ دے سکا۔ کھانے کی پلیٹ میری طرف بڑھانی ، پھر ایک بڑا ساچاقو نکال کر ایک طرف رکھ دیا۔ ستم جھیلتے جھیلتے تھوڑا سا سمجھ دار ہوگیا تھا اسلئے میں سمجھ گیا کہ میرے ساتھ ضرور کچھ نہ کچھ برا ہونے والا ہے۔ اسلئے شام ہونے سے پہلے ہی اس آدمی کو چکمہ دے کر وہاں سے بھاگ نکل گیا۔
بے خبری کے عالم میں نہ جانے کیسے زندگی نے مجھے ایک بہت ہی بڑے بس اڑے میں پہنچایا ۔ یہاں نئی پرانی بے شمار گاڑیاں تھیں زندگی رواں دواں تھیں ہرکوئی جلدی میں تھا کسی کو کسی کی فکر نہ تھی اور نا ہی کوئی کسی کو جانتا پہچانتا تھا۔ ہر روز یہ اڑا نۓ نئے لوگوں کے ہجوم سے بھر جاتا تھا۔ شام ہوتے ہی سنسان بھی ہوجاتا تھا۔ اڈے کے پیچھے قطار میں بے شمار بوسیدہ اور خست گاڑیاں پڑی تھیں۔ ان ہی میں سے ایک گاڑی کو میں نے چن کر اپنا آشیانہ بنایا، تھیلے والوں کی صدائیں، اجنبی لوگوں کی بھیڑ، گاڑیوں کا شور اور تیل کی مخصوص بو سے گزرتا ہوا دن بھر مانگ مانگ کر اپنا پیٹ بھرتا ۔ شام ہوتے ہی چپکے سے گاڑی میں گھس کر میں سہم جاتا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا و بی تو ایک ساٸبان تها. مگر رات تو میرے لئے کسی میدان جنگ سے کم نہ ہوتی تھی ۔

ماں

ماں تم ہو کہاں
رات بڑی دشوار ہے
دادی پاس نہیں
نیند آتی ہیں
گہرا اندھیرا ہے
بستر گیلا ہے
ڈسٹی تنہائی ہے۔
چوہے، کیڑے آتے ہیں
مچھر بھی ستاتے ہیں
مگر
خود کو یوں بہلاتا ہوں
تم میرے سرہانے ہو
بال سہلاتی ہو
لوری سنائی ہو
دھیرے سے سلاتی ہو
صبح سورج اگتا ہے
وہ مجھے جگاتا ہے
بھوکا پیاسا ہوتا ہوں
جی بھر کے روتا ہوں
پھر تمہیں بلاتا ہوں
ماں!
ماں تم ہو کہاں
انتہاٸی تکلیف دہ مرحلوں سے بار بار گزرتا ہوا وقت کے ساتھ بڑاہوا۔ کمزوریوں سے چھٹکارا ملا تو ایک نئی دنیا سے تعارف ہوا ۔باقائده مزدوری کرنے لگا ساتھ ساتھ اس وجود کو تلاشتا رہا جسکو کبھی اپنے وجود سے الگ نہ سمجھا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ سمندر میں انسان ایک سوئی ڈھونڈ سکتا ہے کیا؟ اسلئے ایک روز دل میں محبت اور امید کے دیے روشن کر کے گھر چلا گیا۔ وہ گھر ویسا کا ویسا بلکہ پہلے سے بدتر قبرستان جیسا بڑی مشکل سے دلہن ماں نے دروازہ کھولا پہچانتے ہی خوش ہونے کے بجائے کہا تم کس مٹی کے بنے ہو؟ چہرے پر عمر کے اثرات عیاں لیکن پیشانی پر پہلے کی طرح اکڑاور نفرت کی لکیریں موجود تھیں۔ پوچھنے پر بتایا کہ کئی مہینے پہلے ابو فوت ہو گئے ہیں ۔ ابو کی موت سے زیادہ اس بات کا افسوس ہوا کہ کیوں دلہن ماں کا دل آج بھی جذبات سے خالی ہے، کچھ دیر اپنی نظریں جھکائیں بیٹھا رہا پھر کھڑا ہوا اور دلہن ماں سے کہا کہ چلتا ہوں ماں میں درد کا مارا جیسے آیا ویسے لوٹ کے جانے لگا رک کر کرتا بھی کیا ۔زخم ہرے اور قدم بوجھل ہوگئے۔ دل تو درد سے بھر گیا۔ پہلا قدم صحن کے باہر رکھنے والا تھا کہ پیچھے سے آواز آٸی" بھائی "میرے قدم رک گئے۔
پیچھے مڑ کر دیکھا ذرا سے فاصلے پر ایک خوبرو نوجوان ننگے پاؤں کھڑا تها، شکل صورت قد اور خد و خال میں بالکل ابو جیسا ۔میرے بھائی اس نے دوبارہ کہا ماں آپ کو مرا ہوا ثابت کرنے پر تلی تھی لیکن میں پہلے سے یہ بات ماننے سے انکار کر رہا تھا۔ کئی مہینے پہلے ابو کی محبت سے محروم ہوا ہوں۔ بھائی اب آپ بھی مجھے اپنی محبت سے محروم ناکرو۔ بھائی خدا کے لئے آپ مجھے چھوڑ کر نا جاو میں اپنے حصے کی تمام خوشیاں آپ کے قدموں میں ڈال دوں گا ۔میرا وعدہ ہے آپ بڑے بھائی ہونے کا فرض پورا کرو یا نا کرو میں چھوٹے بھائی ہونے کا حق ضرور پورا کروں گا۔ وہ میرے قریب آیا میرے دونوں ہاتھ تھام لئے۔ مجھے گلے لگا کر کہا بھائی اب میں آپ کے بنا ایک پل بھی رہ نہ پاوں گا۔ اپنی نم آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے اسنے کہا بھائی ابو کہتے تھے کہ میں بالکل آپ پر گیا ہوں کیونکہ میں بچین میں بڑا پیٹو تھا اور بستر بھی گیلا کرتا تها. دروازے پر کھڑی دلہن ماں آج پہلی بار چپ تھی ظاہر سی بات تھی وہ اپنے بیٹے کی باتوں سے کہاں متفق ہونگی لیکن وہ سوچ رہی ہوگی کہ کیا کبھی وقت ایسے گردش میں آتا ہے جب محبت کا آفتاب اگ کر اپنے عروج پر آتا ہے تو دور دورتک نفرت کی پرچھائیوں کو خود بہ خود سمٹ کر ہمیشہ کے لئے فنا ہونا پڑتا ہے ۔

9 جولائی جموں و کشمیر کے مشہور و معروف، معتبر اور مایہ ناز افسانہ نگار جناب' نور شاہ 'کا یوم ولادت ہے۔ آکاش ادبی سنگم جم...
09/07/2026

9 جولائی جموں و کشمیر کے مشہور و معروف، معتبر اور مایہ ناز افسانہ نگار جناب' نور شاہ 'کا یوم ولادت ہے۔
آکاش ادبی سنگم جموں و کشمیر کی طرف سے محترم 'نور شاہ' کو یوم ولادت بہت بہت مبارک ۔
مالک دو جہاں ان کو تندرستی والی عمر دراز عطا کرے۔
***************** *****
یوم ولادت کے موقعے پر پیش خدمت ہے
محترم رئیس احمد کمار کا مضمون" نور شاہ ادبی ستاروں کی نظر میں: بحوالہ؛ کیسا ہے یہ جنون" ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*************آپ سب کی بصارتوں کی نذر************
""""""""""""""
نور شاہ برصغیر کے ممتاز ادیبوں میں شمار ہوتے ہیں۔ موصوف ضعیف العمر ہونے کے باوجود بھی اپنے طاقتور قلم سے مضامین، تبصرے، افسانے اور افسانچے تخلیق کررہے ہیں۔ ان کی تحاریر مسلسل روزناموں، ہفت روزہ اخبارات اور رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ کئی دہائیوں سے لگاتار ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں اور ادبی محفلوں میں ان کی حاضری کو ادبی حلقے اپنے لئے باعث فخر گردانتے ہیں۔ درجنوں تصانیف کے خالق ہونے کے باوجود نور شاہ کو بحیثیت ایک افسانہ نگار ہی ادبی دنیا میں مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ عصمت چغتائی اور کرشن چندر جیسی اہم شخصیات بھی نور شاہ کی تحاریر کو پسند کرتے اور سراہتے ہیں۔
ان کی تصانیف میں "کیسا ہے یہ جنون"بھی شامل ہے جس میں افسانے، ریڑیائی ڈرامے، افسانچے، تراجم، فلمی فیچر اور سیلاب کی کہانیاں شامل کی گئی ہیں۔ یہ تصنیف 257 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کئی نامور ادبی ستاروں کے مضامین کو بھی شامل کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر نور شاہ کے ادبی سفر کو صفحہ قرطاس پر لانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ اس کتاب پر پہلا تبصرہ ڈاکٹر جوہر قدوسی صاحب نے'نور شاہ: کشمیر، کرب، کہانی' عنوان کے تحت تحریر فرمایا ہے جو نو صفحات پر مشتمل ہے۔ موصوف نے نور شاہ کی ادبی زندگی اور کارناموں پر ایک مفصل مضمون لکھا ہے۔ ان کے مطابق نور شاہ نے کم و بیش نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنے ادبی سفر کے دوران بے شمار افسانے لکھے ہیں۔ ان کے افسانوی مجموعوں جن میں بے گھاٹ کی ناو، ویرانے کے پھول، ایک تھی ملکہ، گیلے پتھروں کی مہک، من کا آنگن اداس، آسمان پھول اور لہو، بے ثمر سچ، اور کشمیر کہانی اور کئی ناولوں جیسے نیلی جھیل کالے سائے، پائل کی زنجیر اور آدھی رات کا سورج وغیرہ پر مختصراً تبصرہ پیش کیا ہے۔ ڈاکٹر جوہر قدوسی کے مطابق معاصر اردو افسانہ نگاروں میں چند ایک کو ہی نور شاہ کے مدمقابل رکھا جاسکتا ہے۔ وہ کسی مخصوص سیاسی نظریہ، سماجی تصور کی حمایت یا مخالفت نہیں کرتے، ادب کے کسی گروہ سے بھی وابستہ نہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ اتنے بڑے ادیب اور افسانہ نگار کو ابھی تک کوئی بڑا انعام نہیں دیا گیا ہے۔ بقول ڈاکٹر جوہر قدوسی نور شاہ اپنی کشمیر کی کہانیوں کے زریعے ادب میں سچ اور صرف سچ کے ایماندارانہ بیان کا ایک نیا رجحان پیدا کیا ہے۔ ملک کی نامور قلمکار ڈاکٹر شمع افروز زیدی نے 'نور شاہ کی کہانیاں' عنوان کے تحت ایک منفرد اور طویل مضمون قلمبند کیا ہے۔ نور شاہ کی پیدائش سے لے کر جوانی کی منزلیں طے کرنے، پھر عمر بڑھنے کے ساتھ مزاج میں پختگی آنے تک کے سفر کو ڈاکٹر شمع افروز نے نہایت سلیقے سے بیان کیا ہے۔ بقول ان کے نور شاہ نے پہلی کہانی "گلاب کا پھول" ماہنامہ بیسویں صدی کو بجھوادی جو بعد میں شائع بھی ہوئی جس سے ان کے شوق کو مزید جلا ملی اور یوں وہ مسلسل کہانیاں لکھنے لگے۔ ماہنامہ بیسویں صدی کو ہر عمر کے لوگ پڑھتے ہیں اور بقول ڈاکٹر شمع افروز ان کی والدہ نور شاہ کی کہانیاں بچپن سے ہی بڑی دلچسپی سے پڑھا کرتی تھی جب یہ رسالہ ان کے گھر آتا تھا اور خود بھی ان کی پہلی کہانی بیسویں صدی میں ہی تب پڑی جب وہ آٹھویں درجہ کی طالبہ تھی۔ پھر وہ لگاتار ان کی کہانیاں پڑھ کر انہیں تلاش کرنے کی جستجو میں لگی۔ ان کی تلاش تب ختم ہوئی جب یہ عظیم فنکار پہلی بار ۱۹۸۱ ء میں دفتر بیسویں صدی دریا گنج میں نیر صاحب سے ملاقات کی غرض سے آئے تھے۔ بقول ڈاکٹر شمع افروز نور شاہ وہ فنکار ہے جس کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اس نے شعور کی منزلیں طے کی ہیں۔ نور شاہ کا ادبی سفر چھ دہائیوں پر محیط ہے اور تاحال ان کا یہ سفر اسی انداز اور قوت سے رواں دواں ہے۔ محکمہ زراعت، دیہی ترقی اور سائنس و ٹیکنالوجی میں ڈائریکٹر اور ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز رہنے کے ساتھ ساتھ نور شاہ کہانیاں بھی تخلیق کرتے رہے۔ ان کا زہن بےحد زرخیز اور خلاق ہے، کشمیری ہونے کے ناطے وادی کے چپے چپے سے واقف ہیں، اس کی خوبصورتی اور حسن کو خوبصورت انداز میں انہوں نے صفحہ قرطاس پر بکھیرا ہے۔ مشہور ناول نگار دیپک بدکی نے بڑی عرق ریزی سے ایک طویل مضمون "نور شاہ کا تخلیقی سفر" عنوان کے تحت تحریر کیا ہے۔ بقول ان کے نور شاہ ایک ایسے تخلیق کار ہیں جو اپنے دل میں پون صدی کے تغیرات، انقلابات، قوم کا المیہ، اپنوں سے بچھڑنے کا غم اور انسان کا دردوکرب لیے ہمیں آج اپنے افسانوں اور کہانیوں سے محظوظ کررہے ہیں۔ عبدالقادر سروری فرماتے ہیں کہ نور شاہ وادی کے افسانہ نگاروں میں غالباً سب سے زیادہ لکھنے والے افسانہ نگار ہیں، کہانی لکھنے میں انہیں نہ صرف زوق ہے بلکہ سلیقہ اور اچھا سلیقہ ہے۔ نور شاہ کے سبھی بھائی اردو ادب کی طرف مائل تھے، سرینگر کے مشہور ڈلگیٹ علاقے میں اپنا بچپن اور لڑکپن گزارنے والے اس ادیب نے اسی ماحول سے ترغیب پاکر افسانے کو اپنے اظہار کا زریعہ بنایا اور عمر بھر اس کے ہوکر رہ گئے۔ دیپک بدکی مزید فرماتے ہیں کہ نور شاہ کو بچپن ہی سے افسانہ نگاری کا شوق رہا لیکن ان کی ادبی زندگی کی باضابطہ شروعات ۱۹۵۸ میں ہوئی۔ ۱۹۵۹ میں "ہمارا ادب" کے انتخاب کے لیے ان کی ایک کہانی "گلاب کا پھول" چن لی گئی۔ دیپک بدکی نے نور شاہ کی ادبی زندگی اور ادبی کارناموں کا وسیع احاطہ کیا ہے اور ان کے ہر افسانوی مجموعے و ناول پر مختصراً قاری تک بات پہچانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ بقول دیپک بدکی نور شاہ نے تین ناولٹ، ساٹھ سے زیادہ ریڑیائی ڑرامے لکھے ہیں جو ریڑیو کشمیر سرینگر اور جموں سے نشر ہوچکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ نور شاہ نے دوردرشن سرینگر کے لیے کئی ٹیلیویژن سیریل جیسے 'دردکا رشتہ'، گل اور بلبل، تلخیاں اور سفر زندگی کا وغیرہ تحریر کئے ہیں۔ نور شاہ کے افسانوں پر جدیدیت کا اثر بہت کم نظر آتا ہے ، وہ استعاراتی و علاماتی چیستاں سے پرہیز کرتے ہیں اور اپنے جزبات کا اظہار کھل کر کرتے ہیں۔ ڈاکٹر اشرف آثاری جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے اور جو نامی گرامی افسانہ نگار کی حیثیت سے جانے جاتے تھے نے بھی 'نور شاہ میری نظر میں' عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے۔ ڈاکٹر اشرف آثاری فرماتے ہیں کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے کہانی کار نور شاہ کا نام نہ صرف ملکی سطح پر ہی بلکہ اردو زبان و ادب کے عالمی منظرنامے پر بھی انہیں ایک قابل قدر مقام حاصل ہوچکا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ نور شاہ کی نثر نگاری میں ایک خوبصورت آہنگ بھی ہے ایک دلفریب ترنم بھی ہے۔ ڈاکٹر اشرف آثاری کے مطابق نور شاہ کی کہانیوں کے مطالعے سے ان کی ہمہ گیر مطالعے کا، ان کے زور قلم کا، ان کے وسیع و عریض مشاہدے کا پتہ چلتا ہے اور اس بات کی جانکاری بھی حاصل ہوجاتی ہے کہ ان کے پاس الفاظ کا زخیرہ کتنا وسیع ہے۔ بقول ان کے نور شاہ کے اندر فنکار واہموں اور اندیشوں میں گھرا ہوا ہرگز نہیں ہے اور نہ ہی کسی مایوسی یا قنوطیت کا ہی شکار ہے بلکہ وہ اس طرح کی ناموافق سچویشن کو بھی ایک اڈوینچر کی طرح لیتا ہے اور آگے بڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ وادی کشمیر کے ادبی حلقوں کو اس عظیم لکھاری پر ہمیشہ فخر محسوس کرنا چاہئے کیونکہ اردو ادبی دنیا میں نور شاہ کی وجہ سے ہمیں ایک منفرد پہچان حاصل ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ جموں و کشمیر بورڈ آف سکول ایجوکیشن نے دسویں جماعت کی اردو نصابی کتاب میں ایک افسانہ آسمان، پھول اور لہو شامل کیا ہے جو نور شاہ صاحب نے ہی تخلیق کیا ہے۔

 # # # # #کہکشان ادب سے # # # # #آج جموں کشمیر کے ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والےمشہور و معروف شاعر ذوالفقار نقوی کا یوم ول...
10/06/2026

# # # # #کہکشان ادب سے # # # # #
آج جموں کشمیر کے ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والےمشہور و معروف شاعر ذوالفقار نقوی کا یوم ولادت ہے۔ ذوالفقارنقوی کو شاعری کا شوق بچپن سے ہی دامن گیر تھا۔
آپکا کلام پاکستان اور ہندوستان کے متعدد ادبی جریدوں میں شائع ہوتا رہتا ہے۔
آکاش ادبی سنگم جموں و کشمیر کی طرف سے محترم ذوالفقار نقوی صاحب کو یوم ولادت بہت بہت مبارک۔
مالک دو جہاں ان کو تندرستی والی عمر دراز عطا کرے۔

*************************************************
محترم ذوالفقار نقوی کے جنم دن کے موقعے پر پیش خدمت ہے ان کی یہ غزل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوزہ گر دیکھ اگر چاک پہ آنا ہے مجھے
پھر ترے ہاتھ سے ہر چاک سلانا ہے مجھے

رات بھر دیکھتا آیا ہوں چراغوں کا دھواں
صبحِ عاشور سے اب آنکھ ملانا ہے مجھے

ہاتھ اٹھے نہ کوئی اب کے دعا کی خاطر
ایک دیوار پسِ دار بنانا ہے مجھے

سر بچے یا نہ بچے تیرے زیاں خانے میں
اپنی دستار بہر طور بچانا ہے مجھے

چھوڑ آیا ہوں در دل پہ میں آنکھیں اپنی
اب ذرا جائے جو کہتا تھا کہ جانا ہے مجھے

باندھ رکھے ہیں مرے پاؤں میں گھنگھرو کس نے
اپنی سر تال پہ اب کس نے نچانا ہے مجھے

ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال سے ادبی دنیا میں خلا پیدا ہوگیا۔زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیںپاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں ...
28/05/2026

ڈاکٹر بشیر بدر کے انتقال سے ادبی دنیا میں خلا پیدا ہوگیا۔

زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے

مالک دوجہاں بشیر بدر صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کریں۔۔۔

آکاش ادبی سنگم کی جانب سے آپ سب کو عید الاضحی بہت بہت مبارکباد ۔۔۔۔مالک دو جہاں اس عید کے صدقے ہماری پریشانیوں کو دور فر...
26/05/2026

آکاش ادبی سنگم کی جانب سے آپ سب کو عید الاضحی بہت بہت مبارکباد ۔۔۔۔
مالک دو جہاں اس عید کے صدقے ہماری پریشانیوں کو دور فرمائے ۔آمین

 # # # # کہکشان ادب سے  # # # #21مئی، جموں و کشمیر کے پونچھ علاقے سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف شاعر اور ادیب محترم '...
21/05/2026

# # # # کہکشان ادب سے # # # #
21مئی، جموں و کشمیر کے پونچھ علاقے سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف شاعر اور ادیب محترم 'عرفان عارف ' کا یوم ولادت ہے۔
آکاش ادبی سنگم جموں و کشمیر کی طرف سے محترم 'عرفان عارف ' کو یوم ولادت بہت بہت مبارک۔
مالک دو جہاں ان کو تندرستی والی عمر دراز عطا کرے۔
# # # # # # # # # # # # # # #
یومِ ولادت کے موقعے پر پیش خدمت ہے محترم عرفان عارف کا کلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
# # # # # # # # # # # # # # # #
فیصلہ ایسا سناتا جاؤں گا
خود بخود دل میں سماتا جاؤں گا

سب چٹانوں کو ہٹاتا جاؤں گا
راستہ اپنا بناتا جاؤں گا

آگ کا دریا بہاتا جاؤں گا
اس چمن کو میں سجاتا جاؤں گا

میں صفائی تو نہیں دوں گا کوئی
جو ہے سچ بس وہ بتاتا جاؤں گا

جرم کر کے بھی رہوں گا پارسا
سب ثبوتوں کو مٹاتا جاؤں گا
شعر محفل میں پڑھوں گا اس طرح
آئینہ سب کو دکھاتا جاؤں گا

ان کی عادت ہے وہ ٹھہرے بے وفا
رسم الفت میں نبھاتا جاؤں گا

آندھیوں کے سامنے رکھ کر چراغ
حوصلے کو آزماتا جاؤں گا

گلشن عرفان عارف میں مدام
گل اخوت کے کھلاتا جاؤں گا
# # # # # # # # # # #

Address

Brinty Anantnag
Anantnag
192210

Telephone

+919906705778

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aakash Adbi Sangam Jammu Kashmir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Aakash Adbi Sangam Jammu Kashmir:

Shortcuts

Share

Category