Dil ki pukaar with Saiqa Rajput

Dil ki pukaar with Saiqa Rajput An ordinary human being among the atrocities of this world and it's beasts. Please be respectful and enjoy ❤️

Created this page to share my own poems, original, fresh out of heart, mind and soul.

کچھ چیزیں آخر کیوں سنور جاتی ہیں، اور کچھ ہزار کوششوں کے باوجود آخر کیوں بکھر جاتی ہیں? کچھ لوگ کیوں ٹھہر جاتے ہیں،اور ک...
26/09/2026

کچھ چیزیں آخر کیوں سنور جاتی ہیں، اور کچھ ہزار کوششوں کے باوجود آخر کیوں بکھر جاتی ہیں?

کچھ لوگ کیوں ٹھہر جاتے ہیں،
اور کچھ کیوں چلے جاتے ہیں?

جس چیز کو آپ پوری شدت سے چاہتے ہیں،
وہ پھر بھی آپ کے ہاتھوں سے کیوں پھسل جاتی ہے?

لیکن.....

"ہر وہ چیز جو آپ سے دور ہو جائے، ضروری نہیں کہ وہ نقصان ہی ہو"

آپ کی زندگی کے کچھ سب سے بڑے دکھ،
بالآخر آپ کو آپ کی زندگی کی کچھ سب سے خوبصورت نعمتوں کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔

کچھ دروازے اس لیے بند ہونا ضروری ہوتے ہیں،
کیونکہ کچھ نئے راستے آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔

اور کچھ خوابوں کا بکھر جانا ضروری ہوتا ہے،
کیونکہ حقیقت آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہوتی ہے۔

یہ بات دکھ کے وقت آسان نہیں لگتی۔

جب ہم کسی چیز کو دل سے چاہتے ہیں،
تو اُس سے آگے کچھ دیکھ پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

آپ کو کوئی دوسرا دروازہ نہیں چاہیے ہوتا۔
آپ کو کوئی دوسرا شخص نہیں چاہیے ہوتا۔
آپ کو کسی پراسرار سبق کی تلاش نہیں ہوتی۔۔

آپ بس چاہتے ہیں کہ چیزیں ٹھیک ہو جائیں۔

لیکن جو کچھ آگے آنے والا ہے،
اُس پر بھروسہ کرنا بھی زندگی کا ایک حصہ ہے۔

ہمیں گرنا پڑتا ہے تاکہ ہم دوبارہ اٹھنا سیکھ سکیں۔
کچھ لوگوں کو کھونا پڑتا ہے تاکہ ہم صحیح لوگوں کی قدر پہچان سکیں۔
دل ٹوٹنے کے راستے سے گزرنا پڑتا ہے تاکہ آخرکار سمجھ سکیں کہ صحیح محبت کیسی محسوس ہونی چاہیے۔

آپ کو ہمیشہ وہ نہیں ملتا جو آپ چاہتے ہیں۔۔
لیکن کسی نہ کسی طرح زندگی آپ کو وہ دے دیتی ہے جس کی آپ کو ضرورت ہوتی ہے۔

اور شاید یہی اصل سبق ہے۔

ہر انجام کو سمجھنا ضروری نہیں۔
ہر سوال کا جواب جاننا ضروری نہیں۔

کبھی کبھی بس اتنا جان لینا کافی ہوتا ہے کہ
جو ختم ہوا، شاید وہ ختم ہونے کے لیے ہی تھا۔

اور ہر اختتام، آخرکار کسی نئی چیز کے لیے جگہ چھوڑ دیتا ہے۔

ایک نئی راہ۔
ایک بہتر آغاز۔
ایک اور موقع۔

AWARAGARDجو خواب دکھائے تھے تُو نے کبھی،حلق میں آ کے اب اٹک سے گئے ہیں۔جو وعدے کیے تھے کبھی ساتھ چلنے کے،گردشِ وقت میں آ...
25/09/2026

AWARAGARD
جو خواب دکھائے تھے تُو نے کبھی،
حلق میں آ کے اب اٹک سے گئے ہیں۔

جو وعدے کیے تھے کبھی ساتھ چلنے کے،
گردشِ وقت میں آ کے ڈھلک سے گئے ہیں۔

نگاہوں میں ہی پڑھ لیتا تھا جو اجنبی،
وہ داستان کہنے سے اب جھجک سے گئے ہیں۔

ابھرتے تھے جذبات جو دل میں کبھی،
وہ ہونٹوں پہ آ کر آج جھٹک سے گئے ہیں۔

جو راستے جاتے تھے تیری طرف ہر اور سے،
اپنی ہی منزل سے سبھی بھٹک سے گئے ہیں۔

اب ہوش میں آتے ہی کہاں ہیں ہم، بے پرواہ،
تیری ہی ذات میں ہر سو بہک سے گئے ہیں۔

آغوشِ شب میں تیری یاد جو سلگتی ہے،
صدیوں میں آ کے لمحے یہ سرک سے گئے ہیں۔

وہ کیا ہے جو تھم سا گیا ہے میرے اندر،
جس کی خوشبو سے آج بھی مہک سے گئے ہیں۔

آوارہ گردوں کی صف میں کھڑے ہیں ہم، پارسا،
کم ظرف اہلِ جہاں کو یوں کھٹک سے گئے ہیں۔

جو درد چھپائے تھے زمانے سے ہم نے کبھی،
وہ آنکھوں سے آخر بے باک چھلک سے گئے ہیں۔
By Saiqa Rajput
At Dil ki pukaar with Saiqa Rajput

SAAHIR... اُس کی مٹھی میں رہا بہت دن میرا وجودمیرے ساحر سے کہو، اب مجھے آزاد کرےاُس نے ہاتھوں میں اُلجھا رکھی ہیں زنجیری...
24/09/2026

SAAHIR...
اُس کی مٹھی میں رہا بہت دن میرا وجود
میرے ساحر سے کہو، اب مجھے آزاد کرے

اُس نے ہاتھوں میں اُلجھا رکھی ہیں زنجیریں
اپنے صید سے یوں کھلواڑ, بھلا کون صیّاد کرے

کہو اُسے کہ میری خُرمت کا تماشا نہ بنائے
میرے حریفوں سے مل کر نہ اب میری فریاد کرے

توڑ دیے ہیں اب تو اُمیدِ وفا کے سارے سلسلے ہم نے
مجھے جکڑنے کو اب وہ کوئی اور قصہ ایجاد کرے

میری ذات کے ذرّوں سے جو گھروندا بنایا ہے اُسنے
کہو اُسے کہ چراغِ ندامت سے اب اسے آباد کرے

میں سوز و غم کے دریا کو بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں
غرض نہیں اب, کہ وہ مجھے بھولے یا کبھی یاد کرے

By Saiqa Rajput
At Dil ki pukaar with Saiqa Rajput

ابنِ آدم کہاں سمجھ پائے ہیں عورت ذات کو۔عورت اِن کی کہانی کا بس ایک کردار ہے—کبھی ماں، کبھی بہن، کبھی بیوی، تو کبھی بیٹی...
24/09/2026

ابنِ آدم کہاں سمجھ پائے ہیں عورت ذات کو۔

عورت اِن کی کہانی کا بس ایک کردار ہے—کبھی ماں، کبھی بہن، کبھی بیوی، تو کبھی بیٹی۔
اِن کے حساب سے چلے تو ٹھیک، ورنہ اُس کا کردار ہی مٹا دیتے ہیں۔

عورت اِنہیں بھا جائے تو اُسے پانے کی خاطر زمین و آسمان ایک کر دیتے ہیں۔
اور جب عورت اِن کی دسترس میں ہو، اِنہیں محبت سے سالوں تک تکتی رہے، تو اِن کی سرد مہری کم ہونے کا نام نہیں لیتی۔

اور پھر جب عورت اِنہیں چھوڑ جانے کا فیصلہ کر لے، تو سلسلہ شروع ہوتا ہے—

پہلے اُس کا مذاق اُڑاتے ہیں۔
پھر اُسے دھمکاتے ہیں۔
پھر اُسے اُنہی اپنوں کے کٹہرے میں لا کھڑا کرتے ہیں، جن سے وہ اُس کی ہزاروں بے غیرتیاں چھپاتی رہی ہوتی ہے۔
پھر عزت کی دہائی دیتے ہیں—خاندان کی، مقام کی، معاشرے کی۔

پھر اُس کے اپنے کردار کا حوالہ دیتے ہیں:

“تم ایسی تو نہ تھیں…”

پھر پوچھتے ہیں،
“کس چیز کی کمی ہے؟”

پھر کہتے ہیں،
“محبت تو کرتا ہوں، کہہ نہیں پاتا…”

اور پھر اپنی ہر سختی کے لیے کوئی نہ کوئی مجبوری پیش کر دیتے ہیں۔

اور یہ فہرست چلتی رہتی ہے…

جب تک عورت اِن میں سے کسی ایک جال میں پھنس نہ جائے۔

اور اگر وہ نہ پھنسے، اگر وہ اپنا فیصلہ بدلنے سے انکار کر دے، تو پھر اُس کے کردار کی دھجیاں اُڑا دی جاتی ہیں۔

جیسے اُس کی پوری زندگی کی کوئی معنی ہی نہ تھی۔
جیسے اُس کی ساری وفائیں، ساری محبتیں، ساری قربانیاں بے معنی تھیں۔
جیسے اُس کا صرف ایک فیصلہ اُس کے پورے کردار کو پرکھنے کے لیے کافی ہو۔

عورت نے اگر ساری زندگی نبھایا، تو وہ اُس کا فرض تھا۔
اور ایک دن خود کو چُن لیا، تو وہ بے وفا ہو گئی۔

تو پھر، عورت کو کیا سمجھیں گے ابنِ آدم؟

جب اُنہیں کبھی اُسے سمجھنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔

اُنہیں صرف وہ عورت سمجھ آتی ہے جو اُن کے مطابق جیتی ہے۔
جو اُن کی مرضی میں اپنی مرضی ملا دیتی ہے۔
جو اُن کے دیے ہوئے کردار میں خود کو سمیٹ لیتی ہے۔

لیکن جس دن وہ عورت اپنا کردار خود لکھنے لگے...
اُسی دن اُنہیں اُس کی سمجھ آنا بند ہو جاتی ہے۔

مسئلہ عورت کو سمجھنے کا نہیں ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ ابنِ آدم نے کبھی عورت کو اپنے برابر ایک مکمل انسان سمجھا ہی نہیں۔

اس کی نرمی کو اس کی کمزوری مت سمجھنا۔اس کا دل بہت نرم ہے،لیکن وہ اندر سے بہت مضبوط ہے۔وہ معاف کر دیتی ہے،غلطیوں کو نظران...
22/09/2026

اس کی نرمی کو اس کی کمزوری مت سمجھنا۔

اس کا دل بہت نرم ہے،
لیکن وہ اندر سے بہت مضبوط ہے۔

وہ معاف کر دیتی ہے،
غلطیوں کو نظرانداز کر دیتی ہے،
اور رشتوں کی قدر کرنا جانتی ہے۔

اگر تم نے اس کے ساتھ برا کیا،
اس کے بھروسے کو توڑا،
اس کی محبت کی قدر نہیں کی،
تو وہ تمہیں کئی مواقع دے گی۔

لیکن ایک دن…
وہ بغیر کسی شور کے تم سے دور ہو جائے گی،
اور شاید کبھی واپس نہ آنے کے لیے۔

کیونکہ اسے جانے میں بہت وقت لگا ہوتا ہے۔

پہلے اس کا اعتماد ٹوٹتا ہے،
پھر آہستہ آہستہ آپ اس کے ذہن سے اترنے لگتے ہیں،
پھر دھیرے دھیرے اس کے دل میں اپنا مقام کھونے لگتے ہیں۔

اور ایک دن ایسا آتا ہے
جب محبت اور نفرت کے درمیان
صرف ایک بہت باریک سی لکیر رہ جاتی ہے،
جو آپ کے ایک لفظ سے بھی عبور ہو سکتی ہے۔

ایک مضبوط اور باشعور عورت
اس لکیر کے پار جانے سے پہلے ہی رخصت ہو جاتی ہے۔

کیونکہ جس انسان سے اس نے محبت کی ہو،
اسی سے نفرت کرنا
اس کی اپنی ذات کی توہین ہے۔

نفرت دل کو داغ دار کر دیتی ہے،
اور وہ محبت کے بغیر تو جی سکتی ہے،
لیکن نفرت کے داغ کے ساتھ نہیں۔

اس لیے اس کے جانے کو بھی
اس کی مہربانی سمجھو۔

وہ ذہنی طور پر بہت پہلے جا چکی ہوتی ہے۔

اسے مت روکو،
کیونکہ اب وہ تمہاری نہیں رہی۔
تم اسے بہت پہلے کھو چکے ہو۔

اس لیے…
جانے دو اسے۔

اور جب وہ چلی جائے گی،
تو شاید تب تمہیں احساس ہو
کہ جسے تم کمزور سمجھتے رہے،
وہ حقیقت میں کتنی مضبوط عورت تھی۔

اس کا نرم دل ہونا اس کی کمزوری نہیں،
اس کی خوبی تھی۔

کیونکہ جو انسان بہت کچھ برداشت کرنے کے باوجود
اچھا رہنا جانتا ہے،
اس کی طاقت کو سمجھنا
ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
Saiqa Rajput

“کیسے ہو؟”یہ تو راہ چلتے لوگ بھی پوچھ لیتے ہیں…جن سے دل سے محبت ہو،وہ آپ کے لیے صرف ایک آپشن نہیں،آپ کی ترجیح ہوتے ہیں۔ا...
21/09/2026

“کیسے ہو؟”
یہ تو راہ چلتے لوگ بھی پوچھ لیتے ہیں…

جن سے دل سے محبت ہو،
وہ آپ کے لیے صرف ایک آپشن نہیں،
آپ کی ترجیح ہوتے ہیں۔
ان کے لیے وقت نکالا نہیں جاتا،
وقت خود نکل آتا ہے…
ان سے بات کرنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں،
اور ان کی خاموشی بے چین کر دیتی ہے۔

رشتے صرف لفظوں سے نہیں،
احساسوں سے زندہ رہتے ہیں۔
صرف “کیسے ہو؟” پوچھ لینا کافی نہیں ہوتا،
کبھی بغیر پوچھے بھی سمجھ لینا پڑتا ہے۔

راہ چلتے لوگ
حال پوچھ کر گزر جاتے ہیں…
لیکن جو دل میں بستے ہیں،
انہیں صرف آپ کا حال جاننے کی نہیں،
آپ کو دیکھنے کی طلب ہوتی ہے،
آپ کی آواز سننے کی خواہش ہوتی ہے۔

وہ آپ کے چہرے کو دیکھ کر ہی جان لیتے ہیں
کہ آپ کے “میں ٹھیک ہوں” کے پیچھے
کتنی گہری کہانی چھپی ہے..
ایک ایسی کہانی،
جو شاید آپ لفظوں میں کہہ نہیں پا رہے…

محبت میں صرف آپ کی موجودگی کافی نہیں ہوتی،
آپ کی کمی بھی محسوس ہونی چاہیے…
ورنہ “کیسے ہو؟” پوچھنے والے تو بہت مل جاتے ہیں..
Saiqa Rajput

انسان زندگی میں اُن راستوں سے بھی گزرتا ہے جن کے بارے میں اُس نے کبھی سوچا تک نہیں ہوتا کہ ایک دن وہ اُسے اس قدر توڑ دیں...
21/09/2026

انسان زندگی میں اُن راستوں سے بھی گزرتا ہے جن کے بارے میں اُس نے کبھی سوچا تک نہیں ہوتا کہ ایک دن وہ اُسے اس قدر توڑ دیں گے۔

انسان غلط فیصلے کرتا ہے۔
غلط لوگوں سے محبت کرتا ہے۔
ایسی جگہوں پر بہت دیر تک ٹھہرا رہتا ہے جو آہستہ آہستہ اُسے اندر سے ختم کر رہی ہوتی ہیں۔
اُن لوگوں پر بھی بھروسہ کر لیتا ہے جو اُس اعتماد کے کبھی مستحق نہیں تھے۔

کچھ لمحے ایسے آتے ہیں جب انسان تھک جاتا ہے، رو دیتا ہے، بکھر جاتا ہے۔۔ اور اُسے لگتا ہے کہ شاید اب دوبارہ کھڑا ہونا ممکن نہیں۔

مگر پھر....

پھر انسان آہستہ آہستہ خود کو سمیٹنا شروع کرتا ہے۔
ایک دن، ایک فیصلہ، ایک چھوٹی سی کوشش۔۔ اور پھر ایک اور....

وہ اب بھی روتا ہے، کبھی لڑکھڑاتا ہے، کبھی ماضی کو یاد کر کے ٹوٹتا بھی ہے...... مگر رکنا چھوڑ دیتا ہے۔

اور وقت کے ساتھ اُسے احساس ہوتا ہے کہ جو کچھ اُسے توڑنے آیا تھا، وہ اُسے ختم نہیں کر سکا بلکہ اُس کے اندر وہ طاقت پیدا کر گیا جس سے وہ پہلے واقف ہی نہیں تھا۔

انسان اپنی زندگی کے اُن تمام مرحلوں سے گزر کر بھی زندہ رہتا ہے جن کے بارے میں اُسے کبھی لگتا تھا کہ وہ اُسے تباہ کر دیں گے۔

اب بھی کھڑا ہے۔
اب بھی بڑھ رہا ہے۔
وہ اب بھی محبت کر سکتا ہے۔
اب بھی خواب دیکھ سکتا ہے۔
اب بھی امید رکھ سکتا ہے۔
اور سب سے بڑھ کر۔۔ اب بھی خود کو دوبارہ بنا سکتا ہے۔

اور جو کچھ انسان جھیل چکا ہو، اُس کے بعد ایک بات وہ آخرکار پورے یقین سے جان لیتا ہے۔۔
انسان کمزور نہیں تھا۔
وہ صرف تھک گیا تھا۔

کیونکہ انسان کی اصل طاقت کبھی نہ ٹوٹنے میں نہیں۔۔
بلکہ ہر بار ٹوٹ کر، پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر دوبارہ کھڑے ہونے میں ہے۔🩷

وہ آج بھی یہیں ہے…وہ عورت، جسے تیار ہونا اچھا لگتا تھا،جسے تصویریں کھینچنا،دل کھول کر ہنسنا،خواب دیکھنا,اور چھوٹی چھوٹی ...
20/09/2026

وہ آج بھی یہیں ہے…

وہ عورت، جسے تیار ہونا اچھا لگتا تھا،
جسے تصویریں کھینچنا،
دل کھول کر ہنسنا،
خواب دیکھنا,
اور چھوٹی چھوٹی چیزوں پر خوش ہونا پسند تھا۔

وہ کہیں نہیں گئی،
بس تھک گئی ہے....

زندگی کے شور میں کہیں خود سے دور ہو گئی ہے۔
اور اب آہستہ آہستہ،
خود تک واپسی کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے۔

شاید ایک دن وہ پھر ویسے ہی ہنسے گی،
دل کھول کر،
بےفکری سے...

کیونکہ وہ عورت اب بھی اس کے اندر کہیں موجود ہے…
بس اسے خود سے دوبارہ ملنا ہے 🩷

KHASAARE.. ہم اُن کے نہ ہو پائے، وہ ہمارے نہ ہو سکےمنزل قریب تھی پھر بھی کنارے نہ ہو سکےٹوٹے جو ہم تو پتھر اُٹھا لیے اس ...
20/09/2026

KHASAARE..

ہم اُن کے نہ ہو پائے، وہ ہمارے نہ ہو سکے
منزل قریب تھی پھر بھی کنارے نہ ہو سکے

ٹوٹے جو ہم تو پتھر اُٹھا لیے اس زمانے نے بھی
گھاؤ تھے گہرے کہ پورے یہ خسارے نہ ہو سکے

اظہارِ محبت تو نگاہوں سے نگاہوں تک رہا محترم
درد بھی دکھاتے اُنہیں، ہم سے وہ اشارے نہ ہو سکے

اے کاش کہ وہ مسکرا کے دیکھتے ہمیں یوں ہی تااُمر
ہم مگر مٹی تھے اور مٹی ہی رہے، ستارے نہ ہو سکے

بہت کہا یاروں نے کہ رنگ اور بھی ہیں زمانے میں پاگل
روح کا سودا نہ ہو پایا، ہم سے ایسے گزارے نہ ہو سکے

ایک مدت تک بیٹھے رہے اُسی راہ پہ ہم دامن پھیلائے
اپنا نہ سکے کسی اور کو، جب سے ہم تمہارے نہ ہو سکے

BY Saiqa Rajput

دنیا کبھی جان نہیں پاتی کہ وہ اندر سے بکھر رہی ہے، کیونکہ وہ اپنی ساری جنگیں اپنی خوبصورت مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتی ہے۔
19/09/2026

دنیا کبھی جان نہیں پاتی کہ وہ اندر سے بکھر رہی ہے، کیونکہ وہ اپنی ساری جنگیں اپنی خوبصورت مسکراہٹ کے پیچھے چھپا لیتی ہے۔

Address

London

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dil ki pukaar with Saiqa Rajput posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category