25/04/2018
تعویزات کی کتابوں کا مستند زخیرہ فارسی زبان میں ہے اور اردو میں جو کتابیں موجود ہیں وہ زیادہ تر محض کاغزی کاروائ ہے شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر عامل ٹھگ عامل ہی پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اردو میں اس علم کی کوئ مستند کتاب یا عمل نہیں
اردو میں واحد کتاب شمع شبستان رضا ہے جس کے مولف اعلٰی حضرت صاحب ہیں مگر موجودہ مکمل شمع شبستان رضا میں بھی کئ جگہوں پر بڑے اور کارآمد عمل فارسی میں ہی ملینگے شاید یہ اسی لئے کہ فارسی میں اس علم کا مستند حصہ اب بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے..
حضرت جابر سے روایت ہے کہ
عن جابر قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول : " إذا سمعتم نباح الكلاب ونهيق الحمير من الليل فتعوذوا بالله من الشيطان الرجيم فإنهن يرين ما لا ترون . وأقلوا الخروج إذا هدأت الأرجل فإن الله عز وجل يبث من خلقه في ليلته ما يشاء وأجيفوا الأبواب واذكروا اسم الله عليه فإن الشيطان لا يفتح بابا إذا أجيف وذكر اسم الله عليه وغطوا الجرار وأكفئوا الآنية وأوكوا القرب " . رواه في شرح السنة
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم رات میں کتوں کے بھونکنے اور گدھوں کے رینگنے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو کیونکہ وہ (کتے اور گدھے ) جس چیز کو دیکھتے ہیں (یعنی شیطان اور اس کی ذریات کو ) اس کو تم نہیں دیکھتے اور جب لوگوں کا چلنا پھرنا بند ہو جائے تو اس وقت تم بھی (گھر سے ) کم نکلو، کیونکہ (اس وقت) رات میں اللہ عزوجل اپنی مخلوقات میں سے جن کو چاہتا ہے (یعنی جنات و شیاطین اور موذی جانور وغیرہ ) ان کو چاروں طرف پھیل جانے دیتا ہے، اور اپنے دروازوں کو اللہ کا نام لے کر یعنی بسم اللہ پڑھ کر بند کیا کرو، کیونکہ جس دروازے کو اللہ کا نام لے کر بند کیا جاتا ہے اس کو شیطان کھولنے پر قادر نہیں ہوتا ، اور (ان) برتنوں کو ڈھانک دیا کرو (جن میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہو ') اور (جن ) برتنوں (میں کچھ نہ ہو یعنی وہ خالی ہو ان ) کو الٹ دیا کرو، اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو ۔" (شرح السنۃ ).
میرے مطالعے میں ایک ایسی ہی مخلوق کا نام سامنے آیا جس کا نام فارسی میں (خوابسگی) تھا میرے نزدیک خوابسگی لفظ خواب یعنی نیند اور سگی یعنی سگ سے ملکر بنا ہوگا یعنی خواب کا کتا..
اس حملہ آور کا طریقہ کار کچھ یوں ہوتا ہے کہ یہ انسان پر دوران خواب اپنا زور اپنی قوت اپنے آپکو اس طرح سے سونے والے پر جماتا ہے کہ انسان کہ منہ سے کوئ آواز نہیں نکلتی یعنی زبان ساتھ نہیں دیتی ہاتھ پاوں ساتھ نہیں دیتے مگر یہ سارا دورانیہ صرف ایک منٹ یا اس سے بھی کم وقت پر محیط ہوتا ہے جس میں انسان خود کو اس شے کے غلبے سے آزاد کروا لیتا ہے...اس مخلوق کی آنکھیں نہیں ہوتی اسکے ہاتھ بلکل چھپکلی کی طرح اور یہ بے زبان ہے یعنی جس طرح کی یہ خود ہے ویسا ہی بندے کو کرتی ہے یہ اکثر دیوار پکڑ کر ہی چلتی ہے اور دیوار کے ساتھ سوئے ہوئے کو ہی نشانہ بناتی ہے..
اس سے بچنے کے آسان طریقہ ہے کہ دیوار سے دور ہٹ کر سنت کے مطابق سویا جائے اور مسنون دعائں خاص کر آیت الکرسی پڑھی جائے.
طبی طور پر مینے اس مسئلے کا شکار افراد میں ایک ہی چیز یکساں پائ ہے وہ ہے ڈر
بچے تو اکثر اونچی آواز سے چونک جاتا ہیں مگر اس مسئلے کے شکار مرد خواتین میں بھی یہی عادت تھی مثلًا انکے سامنے کسی اونچی آواز یا کوئ بھی ایسی چیز ہوتی تو وہ ڈر کا شکار ہو جاتے اور کئ کو تو مینے اندھیرے سے بھی ڈرتا دیکھا ہے تو میں یہ بھی کہونگا کہ ممکن ہے یہ کسی ڈر کی وجہ سے ہو.