20/09/2026
نظم کا عنوان:
"تیرے ہوتے تو کیسے 🙂💔"
خد پر ہی شرم سار ہوئے تو کیسے.
تیرے انچل پر رکھا کر پھول ہم نے.
تو ترتیب دیے ہیں تیرے رخسار کیسے.
تیرے ہاتھوں میں پتھر ہوے گل بہار تو کیسے
قِصہ ماضی کی یادگار ہوے کیسے.
تیرے کوچے سے فال حال تو رخصت چاہتے
لوٹ کر انے والوں میں شمار ہوئے تو کیسے
ہم رفیقہ جان ہوتے تو کیسے
تیرے بعد نکل مکان ہوتے تو کیسے
Like, comment & Repost it...🕊️🤍✨