19/10/2025
اتنا ٹوٹا ہوں کہ اب خود کو بھی نہیں ملتا۔ جیسے آئینے میں کوئی اور چہرہ دکھائی دیتا ہو، مگر نام میرا ہو۔ کبھی خوابوں میں خود کو تلاش کرتا ہوں، مگر وہاں بھی خالی پن کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ نہ وہ ہنسی، نہ وہ سکون، نہ وہ چمک جو کبھی میری آنکھوں میں تھی۔
زندگی نے اتنا بکھیر دیا ہے کہ اب اپنے ہی اندر اجنبی محسوس ہوتا ہوں۔ ہر احساس بوجھ بن گیا ہے، ہر خیال ادھورا سا۔ کبھی سوچتا ہوں کہاں کھو گیا وہ شخص جو بے خوف ہنستا تھا، جو ہر درد کے باوجود جیتا تھا۔ اب تو جیسے سانسیں بھی تھکی ہوئی ہیں، دل دھڑکتا ہے مگر زندہ ہونے کا یقین نہیں دلاتا۔
شاید میں خود کو کہیں راستے میں چھوڑ آیا ہوں — کسی یاد کے موڑ پر، کسی درد کے لمحے میں۔ اور اب چاہ کر بھی لوٹ نہیں سکتا، کیونکہ اب میں وہ میں رہا ہی نہیں۔