24/03/2026
آخری لمحے کی جانچ
رات کے گیارہ بج کر پندرہ منٹ ہوئے تھے جب کامران نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں قدم رکھا۔ اس کی فلائٹ دبئی کے لیے صرف ایک گھنٹے بعد روانہ ہونی تھی، اور اس کے ماتھے پر پسینے کی باریک بوندیں چمک رہی تھیں۔
سیکیورٹی گیٹ پر لمبی قطار لگی تھی۔ کامران نے اپنا بیگ کندھے سے اتارا اور ٹرے میں رکھا۔ لیپ ٹاپ الگ، جوتے الگ، بیلٹ الگ۔ وہ روز کا مسافر تھا، اسے یہ سب ازبر تھا۔
“صاحب، ایک طرف آئیں۔”
سیکیورٹی افسر احمد نے اسے روکا۔ اس کی آواز میں نہ سختی تھی، نہ نرمی — بس پیشہ ورانہ سنجیدگی۔
کامران کا دل ایک لمحے کو ڈوبا۔ کیا ہوا؟
احمد نے اسکینر کی اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ بیگ میں کچھ سایہ دار چیز نظر آ رہی تھی۔ کامران نے فوراً یاد کیا — اوہ! اس نے گھر سے نکلتے وقت جلدی میں اپنی چھوٹی بھانجی کی دی ہوئی پانی کی بوتل بیگ میں ڈال لی تھی۔
“یہ بوتل ہے، صاحب۔ میں بھول گیا تھا،” اس نے کہا۔
احمد نے بیگ کھولا، بوتل نکالی، اسے جانچا اور ایک طرف رکھ دیا۔
“پانی یہاں نہیں جا سکتا۔ آپ جانتے ہیں نا؟”
“جی، معذرت۔”
احمد نے مسکرا کر بیگ واپس کیا۔ “کوئی بات نہیں، آگے جائیں۔”
کامران نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن ابھی اس کی پریشانی ختم نہیں ہوئی تھی۔ آگے ایک اور چیک پوسٹ تھی۔ یہاں ایک خاتون افسر، نادیہ، مسافروں کے کاغذات دیکھ رہی تھیں۔
“پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس؟”
کامران نے دونوں پیش کیے۔ نادیہ نے پاسپورٹ کھولا، صفحے پلٹے، اسکینر سے گزارا۔ پھر ایک لمحے کو رکیں۔
“آپ کا ویزا؟”
“جی، وہی ہے — صفحہ بارہ پر۔”
نادیہ نے دیکھا، پھر اوپر نظر اٹھائی اور سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے، خوش سفر۔”
کامران گیٹ نمبر سات کی طرف دوڑا۔ جہاز چڑھنے کا وقت ہو رہا تھا۔ جیسے ہی وہ سیٹ پر بیٹھا، اس نے پیچھے مڑ کر ایک نظر ڈالی۔
سیکیورٹی پر موجود تمام افسر اپنے اپنے کام میں مصروف تھے — خاموشی سے، بغیر کسی شور کے۔ کوئی ان کی تعریف نہیں کرتا، کوئی انہیں یاد نہیں رکھتا۔ لیکن یہی لوگ ہر رات، ہر پرواز، ہر مسافر کی حفاظت کی پہلی دیوار ہیں۔
کامران کے ہونٹوں پر ایک خاموش شکریہ آیا، جو وہ کہہ نہ سکا۔
جہاز نے رن وے پر رفتار پکڑی، اور ایک اور محفوظ سفر شروع ہوا۔