پنجاب کے رنگ

پنجاب کے رنگ punjabi poetry

02/04/2026

پٹرول 137 روپے اضافے کے ساتھ 458 اور ڈیزل کی نئی قیمت 520 روپے
دسو سواد آیا اے
ہاتھ چا کے دسو چس آئے جے

27/03/2026
آج الحمدللہ بادشاہ پور میں میاں سراج دین سراج قادری بادشاہ پوری مرحوم کی رہائش گاہ پر ان کے صاحبزادگان کی طرف سے کمیٹی ک...
26/03/2026

آج الحمدللہ بادشاہ پور میں میاں سراج دین سراج قادری بادشاہ پوری مرحوم کی رہائش گاہ پر ان کے صاحبزادگان کی طرف سے کمیٹی کے پلیٹ فارم سے فری آئی کیمپ لگے گا چیک اپ 8 تا 4 بجے تک ہو گا 4 بجے کے بعد آپریشن والے مریضوں کے آپریشن شروع ہو جائیں گے ہر ایک تک اطلاع پہنچائے دیں دور نزدیک

آخری لمحے کی جانچرات کے گیارہ بج کر پندرہ منٹ ہوئے تھے جب کامران نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں قدم رکھا۔ اس کی فل...
24/03/2026

آخری لمحے کی جانچ
رات کے گیارہ بج کر پندرہ منٹ ہوئے تھے جب کامران نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ میں قدم رکھا۔ اس کی فلائٹ دبئی کے لیے صرف ایک گھنٹے بعد روانہ ہونی تھی، اور اس کے ماتھے پر پسینے کی باریک بوندیں چمک رہی تھیں۔
سیکیورٹی گیٹ پر لمبی قطار لگی تھی۔ کامران نے اپنا بیگ کندھے سے اتارا اور ٹرے میں رکھا۔ لیپ ٹاپ الگ، جوتے الگ، بیلٹ الگ۔ وہ روز کا مسافر تھا، اسے یہ سب ازبر تھا۔
“صاحب، ایک طرف آئیں۔”
سیکیورٹی افسر احمد نے اسے روکا۔ اس کی آواز میں نہ سختی تھی، نہ نرمی — بس پیشہ ورانہ سنجیدگی۔
کامران کا دل ایک لمحے کو ڈوبا۔ کیا ہوا؟
احمد نے اسکینر کی اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ بیگ میں کچھ سایہ دار چیز نظر آ رہی تھی۔ کامران نے فوراً یاد کیا — اوہ! اس نے گھر سے نکلتے وقت جلدی میں اپنی چھوٹی بھانجی کی دی ہوئی پانی کی بوتل بیگ میں ڈال لی تھی۔
“یہ بوتل ہے، صاحب۔ میں بھول گیا تھا،” اس نے کہا۔
احمد نے بیگ کھولا، بوتل نکالی، اسے جانچا اور ایک طرف رکھ دیا۔
“پانی یہاں نہیں جا سکتا۔ آپ جانتے ہیں نا؟”
“جی، معذرت۔”
احمد نے مسکرا کر بیگ واپس کیا۔ “کوئی بات نہیں، آگے جائیں۔”
کامران نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن ابھی اس کی پریشانی ختم نہیں ہوئی تھی۔ آگے ایک اور چیک پوسٹ تھی۔ یہاں ایک خاتون افسر، نادیہ، مسافروں کے کاغذات دیکھ رہی تھیں۔
“پاسپورٹ اور بورڈنگ پاس؟”
کامران نے دونوں پیش کیے۔ نادیہ نے پاسپورٹ کھولا، صفحے پلٹے، اسکینر سے گزارا۔ پھر ایک لمحے کو رکیں۔
“آپ کا ویزا؟”
“جی، وہی ہے — صفحہ بارہ پر۔”
نادیہ نے دیکھا، پھر اوپر نظر اٹھائی اور سر ہلایا۔ “ٹھیک ہے، خوش سفر۔”
کامران گیٹ نمبر سات کی طرف دوڑا۔ جہاز چڑھنے کا وقت ہو رہا تھا۔ جیسے ہی وہ سیٹ پر بیٹھا، اس نے پیچھے مڑ کر ایک نظر ڈالی۔
سیکیورٹی پر موجود تمام افسر اپنے اپنے کام میں مصروف تھے — خاموشی سے، بغیر کسی شور کے۔ کوئی ان کی تعریف نہیں کرتا، کوئی انہیں یاد نہیں رکھتا۔ لیکن یہی لوگ ہر رات، ہر پرواز، ہر مسافر کی حفاظت کی پہلی دیوار ہیں۔
کامران کے ہونٹوں پر ایک خاموش شکریہ آیا، جو وہ کہہ نہ سکا۔
جہاز نے رن وے پر رفتار پکڑی، اور ایک اور محفوظ سفر شروع ہوا۔

آخری دروازہرات کے تین بج رہے تھے جب سلمیٰ کی آنکھ کھلی۔کمرے میں گھپ اندھیرا تھا، مگر ایک عجیب سی سرسراہٹ نے اسے جگا دیا ...
23/03/2026

آخری دروازہ

رات کے تین بج رہے تھے جب سلمیٰ کی آنکھ کھلی۔
کمرے میں گھپ اندھیرا تھا، مگر ایک عجیب سی سرسراہٹ نے اسے جگا دیا تھا۔ وہ بستر پر سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور کان لگائے۔
سکوت۔
پھر۔۔۔ ٹک۔ ٹک۔ ٹک۔
یہ آواز دروازے کے پیچھے سے آ رہی تھی۔ وہی پرانا بند کمرہ، جسے اس کی دادی نے مرتے وقت کہا تھا — “کبھی مت کھولنا۔”
سلمیٰ نے سوچا، شاید چوہا ہو گا۔ وہ اٹھی، پانی پیا، اور دوبارہ لیٹ گئی۔

صبح اٹھی تو باورچی خانے میں چائے بناتے ہوئے اس کی نظر فرش پر پڑی۔
اس بند کمرے کے دروازے کے نیچے سے ریت آئی ہوئی تھی۔
تازہ ریت۔
سلمیٰ نے پریشان ہو کر دروازے کو ہاتھ لگایا۔ لکڑی ٹھنڈی تھی، برف جیسی۔ اس نے کان لگایا۔
اندر سے سانس لینے کی آواز آ رہی تھی۔
آہستہ، گہری، منتظر۔
وہ پیچھے ہٹنے لگی تو دروازے پر دستک ہوئی — اندر سے۔
ایک بار۔ دو بار۔ تین بار۔
پھر ایک کھردری، بوجھل آواز ابھری:
“سلمیٰ۔۔۔ دروازہ کھول۔ میں بہت دیر سے انتظار کر رہی ہوں۔”
یہ اس کی دادی کی آواز تھی۔
جن کو دفن ہوئے سات سال ہو چکے تھے۔ سلمیٰ کے ہاتھ سے چابی گر پڑی۔
اور دروازہ۔۔۔ خود بخود کھلنے لگا۔

17/03/2026
سال ۱۹۷۱ کی سرد رات تھی جب حسن علی نے آخری بار اپنے گھر کی دہلیز پار کی۔ اس کی ماں نے آنکھوں میں آنسو چھپاتے ہوئے اس کے ...
17/03/2026

سال ۱۹۷۱ کی سرد رات تھی جب حسن علی نے آخری بار اپنے گھر کی دہلیز پار کی۔ اس کی ماں نے آنکھوں میں آنسو چھپاتے ہوئے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا، اور اس کی بیوی زینب نے ہاتھ تھام کر صرف اتنا کہا، “جلدی واپس آنا۔” چھ سالہ بیٹا بلال ابھی سویا ہوا تھا۔ حسن نے جھک کر اس کے گال کو آہستہ سے چھوا — جیسے کوئی قیمتی شے کو الوداع کہتا ہو۔
فوج میں بھرتی ہوئے حسن کو صرف تین ماہ ہوئے تھے۔ وہ کسان کا بیٹا تھا، لیکن جب وطن نے پکارا تو اس نے ہل چھوڑ کر بندوق اٹھا لی۔ اس کے دل میں ڈر نہیں تھا — یا شاید تھا، مگر محبت اس سے بڑی تھی۔
پہلے مہینے خطوط آتے رہے۔ زینب ہر خط کو سینے سے لگا کر پڑھتی، پھر احتیاط سے تہہ کر کے وہی پرانے بکس میں رکھ دیتی جس میں اس کی شادی کے کاغذات تھے۔ حسن لکھتا — “بلال کو حساب پڑھانا، وہ ہوشیار ہے۔” — “امی کا خیال رکھنا، ان کی گھٹنوں میں درد ہوتا ہے۔” — “زینب، آم کا درخت لگانا مت بھولنا، میں واپس آ کر اس کے پہلے پھل کا انتظار کروں گا۔”
زینب نے درخت لگا دیا۔
پھر ایک دن خطوط رک گئے۔
ایک ہفتہ گزرا، دو ہفتے، پھر ایک مہینہ۔ زینب صبح اٹھتی تو دروازے کی طرف دیکھتی — کوئی لفافہ نہیں۔ رات کو سوتی تو آنکھیں کھلی رہتیں۔ بلال پوچھتا، “ابو کا خط کیوں نہیں آیا؟” وہ کہتی، “لڑائی میں مصروف ہیں، جلد آئے گا۔”
لیکن ماں جانتی تھی۔ ماں ہمیشہ جانتی ہے۔
دسمبر کی ایک صبح دو فوجی دروازے پر آئے۔ ان کے چہروں پر خبر لکھی تھی — الفاظ سے پہلے۔ ماں نے دروازہ کھولا اور فوجیوں کو دیکھتے ہی دیوار سے لگ گئی۔ زینب کچن میں تھی۔ برتنوں کی آواز آئی، پھر خاموشی۔
حسن علی جنگ میں شہید ہو گیا تھا۔
اسی رات کمانڈر نے حسن کی ذاتی اشیاء واپس کیں — ایک جھولی میں بند۔ اس میں وہ خط تھا جو حسن نے لکھا تھا مگر بھیج نہیں پایا۔ آخری خط۔ زینب نے کانپتے ہاتھوں سے کھولا:
“زینب، آج لڑائی بہت سخت تھی۔ میں نے کل رات آسمان میں ستارے دیکھے اور سوچا — کہیں بلال بھی یہی ستارے دیکھ رہا ہوگا۔ اسے بتانا کہ دور ہونا جدائی نہیں، ہم ایک ہی آسمان تلے ہیں۔ میں ڈرتا نہیں — بس تمہاری یاد آتی ہے۔ بہت۔ اگر میں واپس نہ آ سکا — تو جانو کہ میری آخری سانس میں تمہارا نام تھا۔”
زینب نے خط زمین پر رکھ دیا اور کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آم کا ننھا پودا سردی میں کانپ رہا تھا۔ سال گزرتے گئے۔ بلال بڑا ہوا، حسن کی طرح لمبا اور خاموش۔ ایک دن اس نے ماں سے پوچھا، “ابو کیسے تھے؟”
زینب نے وہ پرانا بکس نکالا۔ سارے خط نکالے۔ اور پہلی بار — زور سے رو دی۔
بلال نے ہر خط پڑھا، آہستہ آہستہ۔ اس کی آنکھیں نم ہوئیں لیکن وہ مسکرایا بھی — کیونکہ باپ کی محبت الفاظوں میں زندہ تھی۔
آج آم کے اس درخت پر پھل آتے ہیں۔ ہر موسم گرما میں بلال ایک پھل توڑتا ہے، آسمان کی طرف دیکھتا ہے، اور کہتا ہے:
“ابو، آپ کا انتظار پورا ہوا۔”

Address

Abu Dhabi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when پنجاب کے رنگ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to پنجاب کے رنگ:

Share