24/07/2025
عنوان: آخری پتنگ #
ایک چھوٹے سے گاؤں میں نعمان اور اس کا دس سالہ بیٹا احمد رہتے تھے۔ نعمان غریب مگر محنتی مزدور تھا۔ ہر سال جب بسنت آتی، احمد کی آنکھیں پتنگوں کی طرف چمکنے لگتیں، لیکن نعمان کے پاس کبھی اتنے پیسے نہ ہوتے کہ وہ بیٹے کو مہنگی پتنگ دلوا سکے۔
ایک سال احمد نے ضد کی، “ابّا! اس بار مجھے سب سے بڑی اور خوبصورت پتنگ چاہیے۔”
نعمان نے مسکرا کر سر ہلایا، لیکن دل ہی دل میں پریشان ہوگیا۔
چند دنوں بعد بسنت آ گئی۔ احمد چھت پر جا کر دوسرے بچوں کی پتنگیں دیکھ کر اداس بیٹھ گیا۔ اسی لمحے نعمان ہاتھ میں رنگ برنگی پتنگ اور تیل سے چمکتی ڈور لے آیا۔
“یہ لو احمد، تمہاری اپنی پتنگ!”
احمد کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔
جب وہ پتنگ اڑانے لگا تو وہ سب سے اونچی جا رہی تھی۔ احمد خوشی سے چلایا، “ابّا! یہ تو سب سے آگے جا رہی ہے!”
نعمان مسکرا رہا تھا، لیکن اس کے ہاتھوں پر چھالے تھے — اس نے ایک دن پہلے دوگنا کام کیا تھا صرف اس پتنگ کے لیے۔
احمد نے اپنی پتنگ کو آسمان کی طرف دیکھا… اور پھر اپنے ابّا کو… اور تب اسے اندازہ ہوا کہ سب سے اونچی اُڑان محبت سے ملتی ہے، پیسوں سے نہیں۔
بقلم عبدالروف #محبت