01/10/2026
کبھی جو شام ڈھلے دل میں ایک ہوک سی اٹھے
تو جان لیتے ہیں پھر کوئی یاد آئی ہے
وہ راستے، وہ زمانے، وہ بے سبب ہنسنا
ہر ایک نقش پہ غبارِ ملال لائی ہے
ہماری آنکھ کے گوشوں میں سو گئے منظر
جو بات کل کی تھی اب داستاں پرانی ہے
تلاش کرتے ہیں خود کو جنہیں گنوا بیٹھے
یہ کیسا موڑ ہے اور کیسی یہ ویرانی ہے
دھندلا گئے ہیں چہرے جو دل میں بسے تھے کبھی
پر ان کی خوشبو ابھی تک فضا میں باقی ہے