Gain Knowledge

Gain Knowledge ہمارا مقصد علم کو حاصل کرنا اور پھیلانا ہے
Travelling, sports and new innovations

Plan of trade 10 march 2026Let's see
08/03/2026

Plan of trade 10 march 2026
Let's see

سکردو کے ایک جج صاحب واقعہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی ا...
12/01/2026

سکردو کے ایک جج صاحب واقعہ سناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میری عدالت میں ایک نوجوان وکیل تھا اس نے پی ایچ ڈی فزکس کر رکھی تھی اور وکالت کے پیشے سے منسلک تھا انتہائی زیرک تھا بات انتہائی مدلل کرتا تھا اس کی خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا میری وہاں پوسٹنگ کے دوران میں نے اسے کبھی کوئی کیس ہارتے ہوئے نہیں دیکھا میں اس کی سچائی کا اتنا گرویدہ تھا کہ بعض دفعہ اس کی بات پر بغیر کسی دلیل کے میں فیصلہ سنا دیتا تھا اور میرا فیصلہ ٹھیک ہوتا تھا وہاں تعنیات ہر جج ہی ان کا گرویدہ تھا پوری عدالت میں سب ہی اس کا احترام کرتے تھے بعض مواقعوں پر ججز صاحبان اس سے کیس ڈسکس کر کے فیصلہ کرتے تھے میں اتنا اس کے تعلیم یافتہ ہونے کے باوجو اس فیلڈ میں آنے اور پھر جج بن جانے کی اہلیت ہونے کے باوجود وکیل رہنے کی وجہ جاننا چاہتا تھا بہت کوشش کے بعد اپنے تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے یہ سوال اس سے پوچھ ہی لیا...اس نے بتایا کہ میرے نانا انتہائی غریب تھے ان کی اولاد میں بس دو ہی بیٹیاں تھیں انہوں نے بھٹے پر محنت مزدوری کر کے اپنی بیٹیوں کو تعلیم دلوائی ان کی پرورش کی اور پھر ان کی شادیاں کیں میری والدہ کی قسمت اچھی تھی وہ گورنمنٹ سکول میں ٹیچر لگ گئیں جب کہ میری خالہ کو سرکاری ملازمت نہ مل سکی میرے نانا نے بھٹہ سے قرض لے کر اپنی بیٹیوں کی شادی کی میری والدہ نے گھریلو اخراجات سے بچت کر کے میرے نانا کی قرض اتارنے میں مدد کی مگر پھر میرے والد صاحب نے ان کو منع کر دیا تو میرے نانا خود ہی قرض کے عوض مزدوری کرنے لگے جب کہ دوسری طرف میری خالہ کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تو انہوں نے میری خالہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا کئی بار مار پیٹ کر کے میری خالہ کو گھر سے نکالا گیا پھر گاؤں والوں کی مداخلت سے ان کو راضی کر کے بھیجا گیا اور تیسرے مہینے پھر وہ سسرال والوں کے ہاتھوں مار کھا کر والد کی دہلیز پر آ بیٹھیں یہاں تک کہ أخری بار جب ان کے سسرال والے ان کو لے کر گئیے تو ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی اور میرے خالہ کو اس شرط پر ساتھ رکھنے کی ہامی بھر لی کہ گھر کے سارے اخراجات میرے نانا اٹھائیں گے میرے نانا بیٹی کا گھر بسانے کی خاطر مزید مقروض ہوتے گئیے اور پھر سردیوں کی ایک دھند میں لپٹی ہوئی صبح کو جب وہ سائیکل پر جا رہے تھے تو کسی ٹرالے کے نیچے أ گئیے اور اس دنیا سے کوچ کر گئیے جب میرے نانا فوت ہوئے تو تب بھی مقروض تھے....میری والدہ نے میرے والد سے چوری اپنا زیور بیچ کر میرے نانا کے قرض ادا کئیے ان کی تجہیزو تکقین کا انتظام کیا اس معاملے میں میرے دادھیال والوں نے میری والدہ سے کوئی تعاون نہ کیا یہاں تک کہ میرے والد نے بھی نہیں
نانا کی وفات کے بعد میری خالہ کے سسرال والوں نے میری خالہ کو مجبور کرنا شروع کر دیا کہ وہ میری والدہ سے گھر کے اخراجات کا مطالبہ کرے میری خالہ نے انکار کر دیا تو ان کو طلاق ہو گئی مگر نہ تو ان کو ان کا سامان واپس کیا گیا اور نہ ہی زیور بلکہ ان کا حق مہر بھی نہ دیا گیا
میری واالدہ اور خالہ کے پاس آخری سہارا قانون کا تھا اور قانون طاقتور کی باندی ھے میری والدہ اور خالہ نے ہائی کورٹ تک کیس لڑا مگر اپنا حق نہ لے سکیں اور پھر خالہ ہائی کورٹ میں کیس سنوائی کی پیشی کے بعد واپس آئیں اور خود سوزی کر لی ان کے کی تجہیزو تکفین بھی میری والدہ کے ذمہ تھی.میری والدہ نے یہ کام بھی بخوبی کیا مگر بہن کی موت کے بعد ان کا چہرہ بجھ گیا یہاں تک کہ میری کامیابی پر میری والدہ خوش نہ ہوتیں تو یہاں تک کہ جب میں نے پی ایچ ڈی کی تو میرے دور پار کے سارے رشتہ دار خوش ہوئے مگر میری ماں کے چہرے پر پہلے جیسی خوشی نہیں تھی.میں نے اس رات مصلے پر بیٹھی دعا مانگتی اپنی ماں کو اپنے سینے سے لگا لیا اور پوچھا کہ آپ کی اداسی کی وجہ کیا ہے ؟
میری والدہ نے مصلے کو تہہ کیا اور کہا کہ میں چاہتی ہوں تم وکیل بنو
زندگی میں پہلی بار میری والدہ نے کسی خواہش کا اظہار کیا تھا میں نے وجہ پوچھی تو میری والدہ نے الٹا سوال داغ دیا تھا کہ أپ کو پتہ ہے آپ کی خالہ نے خودکشی کیوں کی تھی میں نے کہا نہیں تو میری والدہ نے جواب دیا کہ تمہاری خالہ کے پاس وکیل کی فیس کے پیسے نہیں تھے تو وکیل نے جسم کا تقاضا کیا تھا
میری خالہ نے اس دن گھر آ کر خود کشی کر لی تھی اس دن میرے دل میں خواہش آئی تھی کہ میں اپنے بیٹے کو وکیل بناؤں گی ایسا وکیل جو پیسوں کے عوض جسم کا مطالبہ نہیں کرے گا ایسا وکیل جو مظلوم کو انصاف چھین کر لے دے گا مگر میں کبھی تمہارے والد اور تمہارے ڈر سے اس خواہش کا اظہار نہیں کر سکی میری والدہ نے بات مکمل کر کے رونے لگی تو میں نے ان کے قدم چومے اور وعدہ کیا کہ میں ایسا ہی وکیل بنوں گا اور پھر وکالت میں داخلہ لے لیا میرے اس فیصلے سے تمام فیملی میمبر اور دوست احباب حیران تھے مگر میری والدہ بہت خوش تھیں میں جب تک جاگ کر پڑھتا رہتا تھا میری والدہ میرے ساتھ جاگ کر أیت الکرسی پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی تھی میں نے وکالت میں بھی گولڈ میڈل لیا اور اپنی ماں کا خواب پورا کر دیا مگر افسوس کہ میری والدہ اس خواب کی تعبیر نہ دیکھ سکیں۔۔۔۔
میں وکیل بننے کے بعد ہمیشہ سچ کے لئیے لڑا میں نے کبھی کسی ظالم کو سپورٹ نہیں کیا میں ہر کامیابی پر اپنی والدہ کی قبر پر جاتا ہوں مگر ایک عرصہ تک میری والدہ مجھے خواب میں نہیں ملیں چند ماہ پہلے میں نے ایک یتیم لڑکی کا کیس لڑا نہ صرف اس کا سامان اور حق مہر لے کر دیا بلکہ اس کے بچوں کا ماہانہ خرچ بھی لے کر دیا اس دن جب والدہ صاحبہ کی قبر پر گیا تو رات کو میری والدہ خواب میں مجھے ملیں اسی مصلے سے اٹھ کر مجھے سینے سے لگایا اور مجھ پر کچھ پڑھ کر پھونکا اس دن مجھے لگا کہ میں نے زندگی کا مقصد حاصل کر لیا ہے۔۔۔۔!!
اہلیت ہوتے ہوئے بھی جج نہ بننے کی وجہ یہ ہے کہ بطور جج مجھ پر پریشر آ سکتا ہے مگر بطور وکیل کوئی مجھے مجبور نہیں کر سکتا میں حلال طریقہ رزق سے اتنا کما لیتا ہوں کہ گزارا ہو جاتا ہے بس میں اتنے میں ہی خوش و مطمئن ہوں
جج صاحب بتاتے ہیں کہ پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ عزت عہدے میں نہیں اعمال میں ہوتی ہے.

ہمدرد حسینی کی وال سے منقول

12/06/2025

انسان کو ہمیشہ احترام کا مستحق ہونا چاہیے، نہ کہ ترس کا، کیونکہ ترس تحقیر آمیز ہوتا ہے۔

— میکسم گورکی
ہمیں اس بات سے نفرت ہونی چاہیے کہ کوئی ہم پر ترس کھا کر ہماری مدد کرے۔ کیونکہ جب کوئی ایسا رویہ اختیار کرتا ہے تو ہم پر احسان کر رہا ہوتا ہے ۔وہ خود کو ہم سے اعلی درجے پر رکھ کر ہمیں ادنیٰ درجے میں تصور کررہا ہوتا ہے۔ اور آپ کسی دوسرے کو اپنی ہتک یا تحقیر کرنے کی اجازت دے رہے ہوتے ہیں۔
جیسے کہ دوستوئیفسکی کہتے ہیں کہ اپنی ٹوٹی (لنگھڑاتی) ہوئی ٹانگ کے ساتھ چلو لیکن کسی کے کندھے کا سہارا مت لو ۔

30/05/2025

زرنوش نسیم کاقتل ایک نہ ختم ہونے والی جنگ کا آغاز ہے۔
خاموش رہو گے تو کشمیر کے ہر دوسرے گھر میں دہشتگردی کے نام پر یہی ظلم ہو گا



18/05/2025

اگر آپ نے روسی ادب نہیں پڑھا تو پھر آپ نے ادب پڑھا ہی نہیں۔۔۔۔ اس کی بار بار میں مثالیں دیتا رہتا ہوں اور آج پھر سے ایک مثال پیش کر رہا ہوں ۔۔۔



یہ عالمی ادب کی تاریخ کی سب سے حیرت انگیز مختصر کہانیوں میں سے ایک ہے، روسی مصنف انتون چیخوف کے نام:

کچھ دن پہلے مجھے اپنے آفس روم میں بلایا گیا، جہاں میرے بچوں کی نینی (یولیا واسیلیونا) اپنا حساب چکانے آئی تھی۔

میں نے اس سے کہا:
"بیٹھو، یولیا... آؤ، حساب کتاب کر لیتے ہیں۔ تمہیں اکثر پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن تم اتنی شرمیلی ہو کہ خود نہیں مانگتی۔ خیر، ہم نے ماہانہ تیس روبل طے کیے تھے۔"

یولیا نے کہا:
"چالیس۔"

میں نے کہا:
"نہیں، تیس... میرے پاس ریکارڈ موجود ہے۔ میں ہمیشہ نینی کو تیس روبل ہی دیتا ہوں۔"

اس نے کہا:
"ٹھیک ہے۔"

میں نے پوچھا:
"ہم نے کتنے مہینے کام کیا؟"

یولیا نے جواب دیا:
"دو مہینے اور پانچ دن۔"

میں نے کہا:
"ٹھیک ہے، دو مہینے۔ میرے پاس یہی درج ہے، تو تم ساٹھ روبل کی حق دار ہو۔ لیکن ہم اتوار کے نو دن منہا کریں گے، کیونکہ تم نے ان دنوں میں کولیا کو نہیں پڑھایا، بس اس کے ساتھ رہی تھیں۔ پھر تین دن کی چھٹی بھی لیں۔"

یولیا واسیلیونا کا چہرہ زرد پڑ گیا، اور اس کی انگلیاں کپڑوں میں الجھنے لگیں، مگر اس نے کوئی شکایت نہ کی۔

میں نے مزید کہا:
"ہم تین چھٹیوں کے بارہ روبل کم کرتے ہیں۔ کولیا چار دن بیمار تھا، تو تم نے صرف فاریہ کو پڑھایا، اس کے سات روبل اور کم ہوئے۔ پھر تین دن تمہارے دانت میں درد تھا، تو میری بیوی نے تمہیں دوپہر کے بعد پڑھانے دیا، اس کے بھی بارہ روبل کم۔ تو کل انیس کم کر کے باقی اکتالیس روبل بنتے ہیں، ٹھیک؟"

یولیا واسیلیونا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، اس کی ٹھوڑی کانپنے لگی، مگر وہ اب بھی خاموش رہی۔

میں نے مزید حساب لگایا:
"نئے سال سے پہلے تم نے ایک کپ اور پلیٹ توڑ دی، اس کے لیے چھ روبل کاٹنے ہوں گے۔ پھر، کولیا نے تمہاری لاپرواہی کے سبب درخت پر چڑھ کر اپنی جیکٹ پھاڑ لی، اس کے دس روبل کم۔ نوکرانی نے ایک جوتا چوری کر لیا اور یہ سب کچھ دیکھنا تمہاری ذمہ داری تھی، تو اس کے پانچ روبل اور کم۔ اور 10 جنوری کو تم نے مجھ سے دس روبل ادھار لیے تھے۔"

یولیا واسیلیونا نے سرگوشی کی:
"میں نے نہیں لیے تھے۔"

میں نے کہا:
"مگر میرے پاس ریکارڈ میں لکھا ہے۔"

وہ بولی:
"ٹھیک ہے، جیسا آپ کہیں۔"

میں نے حساب مکمل کیا:
"اکتالیس سے ستائیس کم کریں تو باقی چودہ روبل بچتے ہیں۔"

یولیا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اس کی لمبی خوبصورت ناک پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔

اس نے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا:
"میں نے صرف ایک بار تین روبل ادھار لیے تھے، اس سے زیادہ نہیں۔"

میں نے چونک کر کہا:
"واقعی؟ میں نے تو یہ ریکارڈ میں نہیں لکھا! تو چودہ میں سے تین نکال کر گیارہ بچتے ہیں۔ لو، یہ لو تمہارے گیارہ روبل!"

میں نے سکے اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انہیں جیب میں ڈال لیا اور آہستہ سے کہا:
"شکریہ۔"

مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے پوچھا:
"کس چیز کا شکریہ؟"

اس نے جواب دیا:
"پیسوں کا۔"

میں نے کہا:
"لیکن میں نے تو تمہیں دھوکہ دیا، تم سے لوٹ مار کی، تمہارا حق مارا! اور تم پھر بھی شکریہ ادا کر رہی ہو؟"

اس نے کہا:
"دوسری جگہوں پر تو کچھ بھی نہیں ملتا۔"

میں نے حیرت سے کہا:
"کیا؟ تمہیں کچھ بھی نہیں دیا جاتا؟ کمال ہے! میں تو تم سے مذاق کر رہا تھا، تمہیں سبق سکھا رہا تھا! یہ لو، تمہارے اصل اسی روبل، جو میں نے تمہارے لیے لفافے میں رکھے تھے!"

میں نے رقم اس کے حوالے کی اور مزید کہا:
"لیکن کیا تم اتنی بے بس ہو؟ تم نے احتجاج کیوں نہیں کیا؟ تم خاموش کیوں رہیں؟ کیا دنیا میں ایسا ممکن ہے کہ تم اپنا حق مانگنے سے بھی قاصر ہو؟ کیا تم واقعی اتنی بے بس ہو؟"

یولیا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"ہاں، ایسا ممکن ہے۔"

میں نے اسے بغور دیکھا، پھر سوچنے لگا: کتنا دردناک ہے اس دنیا میں کمزور ہونا!


13/05/2025

ایک استانی کہتی ہیں، "میں کلاس میں داخل ہوئی اور پیچھے سے دروازہ بند کر لیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ آج اپنا سارا غصہ بچوں پر نکالوں گی۔

واقعی، جس بچے نے ہوم ورک نہیں کیا تھا، اسے پکڑا اور مارا!

ایک بچے کو میز پر سوئے ہوئے پایا، اس کا بازو پکڑا اور کہا: "تمہارا ہوم ورک کہاں ہے؟"

وہ بچہ ڈر کے پیچھے ہٹ گیا اور لرزتے ہوئے بولا بھول گیا ہوں مجھے معاف کر دیں

میں نے اسے پکڑا اور اپنے سارے غصے اور وہ دباؤ، جو میرے شوہر کی وجہ سے تھا، اس پر نکال دیا۔

پھر میں نے ایک بچے کو کھڑا پایا، وہ میرے قریب آیا، میرا دامن کھینچتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ جھک کر اس کی بات سنوں۔

میں غصے سے مڑی، جھکی، اور کہا: "ہاں، بولو، کیا ہے؟"

وہ مسکرا کر بڑی معصومیت سے کہتا ہے:
"کیا ہم کلاس سے باہر بات کر سکتے ہیں؟ یہ بہت ضروری ہے۔"

میں نے اسے بے صبری سے دیکھا اور سوچا کہ ضرور کوئی معمولی بات ہوگی، مثلاً یہ کہ کسی ساتھی نے اس کا پین چوری کر لیا ہوگا۔

لیکن جب میں نے اس کی بات سنی تو میں اس کی ذہانت سے حیرت زدہ رہ گئی۔ اس کے پاس بے شمار تربیتی معلومات تھیں۔

وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولا: "دیکھیں، ٹیچر، آپ بہت اچھی ہیں، اور ہم سب آپ سے محبت کرتے ہیں۔ لیکن میرا وہ ساتھی، جسے آپ نے آخر میں مارا، وہ یتیم ہے۔ اور اس کی ماں اسے ہمیشہ مارتی ہے جب وہ کوئی غلطی کرتا ہے۔

وہ اسے غلط طریقے سے تربیت دیتی ہے، اسی لیے وہ اکثر چیزیں بھول جاتا ہے اور ہر چیز سے ڈرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہمارے ساتھ کھیلنے سے بھی ڈرتا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ ہم اسے ماریں گے۔

میں اس کا دوست ہوں اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتا ہوں۔ اس نے مجھے بتایا کہ اسے مار کھانا بالکل پسند نہیں۔ اگر آپ اس کا جسم دیکھیں تو آپ کو اس پر مار کے نشانات ملیں گے، جو اس کی ماں نے کیے ہیں۔"

پھر وہ بچے نے کہا:
"کیا آپ ہماری ماں اور مربی بن سکتی ہیں؟ اور براہِ کرم، جب آپ کلاس میں آئیں تو اپنا غصہ اور پریشانی باہر چھوڑ کر آئیں، کیونکہ ہم آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ سے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔"

میں حیرانی سے اسے دیکھتی ہوں اور کہتی ہوں: "تم اتنے بڑے لوگوں سے کیسے بات کر لیتے ہو؟"

تو وہ جواب دیتا ہے: "میری ماں نے ہمیشہ مجھے اچھا گمان کرنا سکھایا ہے، اور یہ بھی کہا ہے:

‘تمہیں نہیں معلوم کہ سامنے والے کس حالت میں ہیں، اس لیے اپنا غصہ اور پریشانی ایک طرف رکھو اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ۔
دنیا میں بہت سی تکلیف دہ چیزیں ہیں۔’

انہوں نے یہ بھی کہا:
‘اگر تم کسی کو پریشان دیکھو، تو اس سے معافی مانگو، خواہ تم اس کی تکلیف کے ذمہ دار نہ ہو۔’

پھر وہ مجھے گلے لگاتا ہے اور کہتا ہے:
‘یقیناً آپ کسی وجہ سے ناراض ہیں، اسی لیے آج ہمیں مارا۔
ٹیچر، میں آپ سے معذرت خواہ ہوں، براہِ کرم ناراض نہ ہوں، کیونکہ آپ بہت اچھی ہیں۔’

میں حیرانی کے عالم میں کھڑی تھی، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں بچی ہوں اور وہ میرا استاد اور مربی ہے۔ کیا آج بھی ایسی تربیت ہوتی ہے؟

اور کیا ایسی مائیں موجود ہیں جو اپنے بچوں کی اس قدر عمدہ تربیت کرتی ہیں؟"

میں نے اس بچے سے کہا: "ٹھیک ہے، میں اسے کیسے مناؤں؟"

تو وہ بولا:
"یہ لیں، چاکلیٹ! وہ اسے پسند کرتا ہے۔ اگر وہ آپ کو معاف کر دے تو اپنے رب سے استغفار کریں اور ‘سبحان اللہ وبحمدہ’ کہیں تاکہ جنت میں آپ کے لیے ایک درخت اگے۔"

میں نے کہا: "جیسے دنیا میں درخت ہیں؟"
وہ بولا: "میری ٹیچر، جنت کے درخت دنیا کے درختوں جیسے نہیں ہوتے۔
میری ماں نے بتایا کہ جنت کے درخت کی پھل بہت نرم، بڑے اور شہد سے بھی زیادہ میٹھے ہوتے ہیں، اور ان میں کوئی بیج نہیں ہوتا۔"

میں نے پوچھا: "انس، کیا میں تمہاری ماں کو کوئی تحفہ دے سکتی ہوں؟"
وہ بولا: "ہاں، مگر وہ ہمیشہ کہتی ہیں کہ ‘انس میرا تحفہ ہے۔’"

میں نے کہا: "واقعی، تم ایک بہت بڑا تحفہ ہو اور بہت پیارے بچے ہو۔"

انس نے کہا: "چلیں، آئیں احمد کو منائیں۔ میرے پاس پانچ روپے ہیں، اس سے چاکلیٹ خرید لیں اور احمد کو دیں، اور کہہ دیں کہ آپ نے اسے اس کے لیے خریدا ہے۔"

میں نے انس سے کہا: "تمہاری ماں واقعی ایک عظیم خاتون ہیں، وہ جنت کی حقدار ہیں۔"

وقت گزرتا گیا۔
"مس ریحام، آپ کیسی ہیں؟"
میں نے مڑ کر دیکھا تو انس تھا، اب ایک جوان لڑکا، عینک پہنے کھڑا تھا اور اس کی ماں اس کے ساتھ تھی، جن کے چہرے پر نور تھا۔

بعد میں انس کی ماں میرے لیے ایک تحفہ لے کر آئیں اور کہا:
"آپ انس کی استاد تھیں، یہ تحفہ میری طرف سے قبول کریں۔
آپ نے جو اچھائی انس کو سکھائی، یقیناً اس میں آپ کا بھی حصہ ہے۔"

میں نے حیرانی سے کہا: "کیسے؟"

وہ بولیں:
"الحمدللہ، میرا بیٹا اب ڈینٹل کالج میں لیکچرر ہے۔"

میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ میں نے کہا:
"آپ کا شکریہ، یہ ہدیے تو آپ جیسے لوگوں کے لیے ہیں۔
آپ سمجھتی ہیں کہ آپ نے صرف انس کی تربیت کی؟
حقیقت میں، آپ کی تربیت نے مجھے بھی سدھار دیا۔
آپ کے بیٹے نے مجھے سالوں پہلے ایک سبق دیا، جس نے میری زندگی بدل دی۔
اسی کے باعث میں نے اپنے بچوں کی اچھی تربیت کی، اور میرا ازدواجی رشتہ بھی بہتر ہو گیا۔"

حکمت:
نیک بیوی معاشرے کی جنت بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد ہے۔
اور گھریلو عورت کے کردار کو معمولی نہ سمجھیں، کیونکہ وہ ایک پوری نسل کی مربی ہوتی ہے۔

اگر آپ نے کہانی پڑھ لی ہے تو صرف پڑھ کر نہ جائیں، اپنی پسند کا اظہار کریں اور
"لا إله إلا الله محمد رسول الله"
کا ذکر کریں، کیونکہ یہ ساتوں آسمانوں اور زمین سے زیادہ وزنی ہے۔

یاد دہانی:
نبی ﷺ نے فرمایا:
"صدقہ دینے سے مال کبھی کم نہیں ہوتا۔"

یاد رکھیں، جو کچھ آپ خرچ کریں یا شیئر کریں، اس کا اثر آپ کی زندگی میں برکت، صحت، رزق میں اضافہ، اور دل کی خوشی کی صورت میں ظاہر ہوگا۔
اس لیے دینے میں کبھی ہچکچائیں نہیں، کیونکہ عطا خیر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔.

The power of AI
24/04/2025

The power of AI

24/04/2025

چین کے مرکزی بینک (People's Bank of China) نے اچانک اعلان کیا ہے کہ ڈیجیٹل رینمنبی یعنی چینی یوآن (the digital RMB / Renminbi, Chinese Yuan) کا کراس بارڈر سیٹلمنٹ سسٹم مکمل طور پر دس آسیان (ASEAN) ممالک اور چھ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کا 38 فیصد تجارتی حجم اب امریکی ڈالر کی بالادستی والے SWIFT سسٹم کو بائی پاس کرتے ہوئے براہ راست”ڈیجیٹل یوآن کے دور“ میں داخل ہو جائے گا۔ یہ مالیاتی جنگ، جسے The Economist نے ”بریٹن ووڈز سسٹم 2.0 کی پہلی لڑائی“قرار دیا ہے، بلاک چین ٹیکنالوجی (block chain technology) کے ذریعے عالمی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ بدل رہی ہے۔

ایسے میں جبکہ SWIFT سسٹم اب بھی کراس بارڈر ادائیگیوں میں 3 سے 5 دن کی تاخیر کرتا ہے، چین کے تیار کردہ ڈیجیٹل کرنسی برج نے کلیرنگ کی رفتار کو صرف 7 سیکنڈ تک محدود کر دیا ہے۔ ہانگ کانگ اور ابوطہبی کے درمیان پہلے تجربے میں، ایک کمپنی نے مشرق وسطیٰ کے سپلائر کو ڈیجیٹل یوآن کے ذریعے ادائیگی کی ہے۔ رقوم چھ مختلف بینکوں سے گزرنے کے بجائے ایک ڈسٹری بیوٹڈ لیجر کے ذریعے براہ راست موصول ہوئیں، اور فیس میں 98٪ تک کمی آئی۔ اس ”برق رفتار ادائیگی“ کی صلاحیت نے امریکی ڈالر کے زیرِ اثر روایتی نظام کو فوری طور پر فرسودہ بنا دیا ہے۔

جو بات مغرب کے لیے اور بھی زیادہ تشویشناک ہے وہ ہے چین کی ڈیجیٹل کرنسی کی تکنیکی برتری۔ ڈیجیٹل یوآن میں استعمال ہونے والی بلاک چین ٹیکنالوجی نہ صرف لین دین کو قابلِ سراغ بناتی ہے بلکہ خودکار طریقے سے منی لانڈرنگ کے خلاف ضوابط بھی نافذ کرتی ہے۔ چین-انڈونیشیا”دو ممالک، دو پارکس“ (Two Countries, Two Parks)منصوبے میں، انڈسٹریل بینک نے ڈیجیٹل یوآن کے ذریعے پہلی کراس بارڈر پیمنٹ مکمل کی، یہ آرڈر کی تصدیق سے لے کر رقم کی وصولی تک صرف 8 سیکنڈ میں مکمل ہوئی، جو روایتی طریقوں سے 100 گنا زیادہ مؤثر ہے۔ اس تکنیکی برتری کی وجہ سے دنیا کے 23 مرکزی بینک اس تجرباتی منصوبے میں شامل ہو چکے ہیں، اور مشرق وسطیٰ کے توانائی کے تاجر اپنی سیٹلمنٹ لاگت میں 75٪ تک کمی لا چکے ہیں۔

اس تکنیکی انقلاب کا گہرا اثر مالی خودمختاری کی نئی تشکیل پر ہے۔ جب امریکہ نے SWIFT کے ذریعے ایران پر پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی، تب تک چین پہلے ہی جنوب مشرقی ایشیا میں یوآن کی ادائیگیوں کا مکمل نظام قائم کر چکا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں آسیان ممالک کے ساتھ کراس بارڈر RMB سیٹلمنٹ کا حجم 5.8 ٹریلین یوآن سے تجاوز کر گیا، جو 2021 کے مقابلے میں 120٪ زیادہ ہے۔ ملائشیا اور سنگاپور سمیت چھ ممالک نے RMB کو اپنے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں شامل کر لیا ہے، اور تھائی لینڈ نے ڈیجیٹل یوآن کے ذریعے پہلی تیل کی ادائیگی مکمل کی ہے۔ یہ”ڈی-ڈالرائزیشن“ کی لہر اتنی طاقتور ہے کہ بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس نے کہا”چین ڈیجیٹل کرنسی کے دور میں کھیل کے اصول طے کر رہا ہے۔“

لیکن جو چیز دنیا کو واقعی چونکا رہی ہے وہ ہے چین کی اسٹریٹجک منصوبہ بندی۔ ڈیجیٹل یوآن صرف ایک ادائیگی کا ذریعہ نہیں بلکہ”بیلٹ اینڈ روڈ“ حکمتِ عملی کا تکنیکی ذریعہ بھی ہے۔ چین-لاوس ریلوے اور جکارتہ-باندونگ (Jakarta-Bandung) ہائی اسپیڈ ریلوے جیسے منصوبوں میں ڈیجیٹل یوآن بیڈو نیویگیشن اور کوانٹم کمیونیکیشن (Beidou navigation and quantum communication)کے ساتھ مل کر ”ڈیجیٹل سلک روڈ“ تشکیل دے رہا ہے۔ جب یورپی کار کمپنیاں آرکٹک روٹ کے ذریعے فریٹ کی ادائیگی ڈیجیٹل یوآن میں کرتی ہیں، تو چین بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے تجارتی کارکردگی کو 400٪ تک بڑھا دیتا ہے۔ یہ ”ورچوئل-ریئل اسٹریٹجی“ پہلی بار امریکی ڈالر کی بالا دستی کے مکمل نظام کے لئےایک خطرہ بن چکی ہے۔

آج، دنیا کے 87 فیصد ممالک ڈیجیٹل یوآن سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکے ہیں، اور کراس بارڈر ادائیگیوں کا حجم 1.2 ٹریلین امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ جبکہ امریکہ ابھی تک اس پر بحث کر رہا ہے کہ آیا ڈیجیٹل کرنسی امریکی ڈالر کی حیثیت کے لیے خطرہ ہے یا نہیں، چین خاموشی سے 200 ممالک پر مشتمل ایک ڈیجیٹل پیمنٹ نیٹ ورک قائم کر چکا ہے۔ یہ خاموش مالیاتی انقلاب نہ صرف مالی خودمختاری کا سوال ہے بلکہ یہ طے کرے گا کہ مستقبل کی عالمی معیشت کی شہ رگ پر کس کا کنٹرول ہوگا۔
بشکریہ خیر دین چاچا

02/04/2025

چین نے مبینہ طور پر لیاؤننگ صوبے میں 1,000 ٹن سونے کا ایک بڑا ذخیرہ دریافت کیا ہے جو کہ دنیا کی سب سے بڑی سونے کی دریافتوں میں سے ایک ہے۔
یہ گزشتہ سال ہنان میں 80 بلین ڈالر کے ذخائر کی دریافت کے بعد ہے۔ معدنیات کی تلاش کی جدید ٹیکنالوجیز نے ان ذخائر کو تلاش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ چین، 2024 میں 380 ٹن کے ساتھ سب سے زیادہ سونا پیدا کرنے والا، جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے ساتھ ریزرو کے فرق کو ختم کرنے کا مقصد رکھتا ہے۔
ماہرین آزاد تصدیق کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن دریافتوں سے چین کے وسائل کی حفاظت اور اقتصادی حکمت عملی کو فروغ ملتا ہے۔
بیجنگ اپنے معدنی ذخائر کو مضبوط بنا رہا ہے، عالمی گولڈ مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کو بڑھا رہا ہے۔

Address

Dubai
28005

Telephone

+971543225902

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gain Knowledge posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Gain Knowledge:

Share