Mansoor Ali poetry

Mansoor Ali  poetry Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mansoor Ali poetry, Poet, Dubai.

اردو شاعری کے اس سفر میں خوش آمدید۔

یہاں خیالات و احساسات کو الفاظ میں ڈھالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عشق، محبت، تصوف، فطرت اور زندگی کے مختلف رنگوں سے متعلق شاعری پیش کی جاتی ہے۔

آپ کی قیمتی آراء اور حوصلہ افزائی ہمارے اس ادبی سفر کا سرمایہ ہیں۔

14 اگست — ایک سوال اپنے آپ سے14 اگست صرف جشن منانے، پرچم لہرانے اور ملی نغمے سننے کا دن نہیں، بلکہ یہ دن ہمیں اپنے آپ سے...
11/08/2026

14 اگست — ایک سوال اپنے آپ سے

14 اگست صرف جشن منانے، پرچم لہرانے اور ملی نغمے سننے کا دن نہیں، بلکہ یہ دن ہمیں اپنے آپ سے ایک اہم سوال کرنے کا موقع بھی دیتا ہے:

ہم نے پاکستان سے کیا حاصل کیا، اور پاکستان کو کیا دیا؟

ہماری تاریخ میں بے شمار ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنی صلاحیت، علم، وقت اور دولت کو پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے وقف کیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان، عبدالستار ایدھی اور ڈاکٹر عبدالسلام جیسے لوگ اس کی روشن مثال ہیں۔ کسی نے ہسپتال بنائے، کسی نے تعلیمی ادارے قائم کیے، کسی نے تحقیق میں ملک کا نام روشن کیا، اور کسی نے کھیل، ادب، فن اور دوسرے شعبوں میں پاکستان کو دنیا میں پہچان دی۔

لیکن آج ہمیں ایک سوال اپنے آپ سے بھی کرنا چاہیے:

اگر آپ ڈاکٹر ہیں، تو آپ کی ذات سے کتنے مستحق پاکستانیوں کو فائدہ پہنچ رہا ہے؟
اگر آپ استاد ہیں، تو کیا آپ اپنے طالب علم کو وہی توجہ دے رہے ہیں جس کا وہ حق دار ہے؟
اگر آپ صحافی ہیں، تو کیا آپ نے واقعی صحافت کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی قوم کی آواز دنیا تک پہنچائی؟
اگر آپ شاعر، ادیب، رائٹر، ڈرامہ نگار یا فنکار ہیں، تو کیا آپ نے اپنی صلاحیت کو معاشرے کی بہتری اور پاکستانیوں کے فائدے کے لیے استعمال کیا؟
اگر آپ انجینئر، وکیل، تاجر، دکاندار، درزی، موچی، سبزی یا پھل فروش، امامِ مسجد یا کسی بھی شعبے سے وابستہ ہیں، تو آپ اپنے حصے کا کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟

ضروری نہیں کہ آپ کوئی بڑا ہسپتال یا یونیورسٹی بنائیں۔

کسی غریب کا علاج مفت یا رعایتی کر دینا، کسی طالب علم کو مفت پڑھا دینا، کسی نوجوان کو ہنر سکھا دینا، کسی ضرورت مند کے لیے آسانی پیدا کر دینا، یا اپنے کام کو ایمانداری اور ذمہ داری سے انجام دینا بھی ملک و قوم کی خدمت ہے۔

اور یہ ذمہ داری صرف قومی سطح تک محدود نہیں۔

اپنے گھر سے باہر نکلیے، اپنے محلے اور اپنے اردگرد دیکھیے۔
کیا کوئی ایسا شخص ہے جسے آپ کی مدد کی ضرورت ہے؟ کیا آپ نے اپنی استطاعت کے مطابق اس کے لیے کچھ کیا؟

اسلام نے ہمیں بھائی چارے اور حقوق العباد کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ اگر ہم واقعی اس تصور کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہمارے معاشرے میں بہت سی مشکلات خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔

ہم اکثر کہتے ہیں کہ حکمران اور نظام درست نہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ملک صرف حکمرانوں سے نہیں، شہریوں کے کردار سے بھی بنتا ہے۔

ہمیں ذات، برادری، زبان، نسل اور صوبے کی تقسیم سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا۔

ہماری سب سے بڑی پہچان — ہم پاکستانی ہیں۔

اگر ہر شخص اپنے حصے کا تھوڑا سا کردار ادا کرے، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرے اور اپنی صلاحیت کا کچھ حصہ اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کرے، تو یہی چھوٹی چھوٹی کوششیں مل کر ایک بڑی تبدیلی پیدا کر سکتی ہیں۔

قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے۔

اس 14 اگست پر صرف یہ نہ پوچھیں:

"پاکستان نے مجھے کیا دیا؟"

بلکہ خود سے یہ بھی پوچھیں:

"میں نے پاکستان کو کیا دیا؟
میری ذات سے پاکستانیوں کو کیا فائدہ پہنچا؟
اور آج سے میں اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے لیے کیا کرنے والا ہوں؟"

شاید ایک عظیم پاکستان کی ابتدا
اسی ایک سوال سے ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمارے وطن کو امن، استحکام اور ترقی عطا فرمائے اور ہمیں ایسا عظیم قوم بننے کی توفیق دے جس پر ہماری آنے والی نسلیں فخر کر سکیں۔

🇵🇰 پاکستان زندہ باد

26/07/2026

سب لوگ سمندر کی لہر دیکھ رہے ہیں
ہم ہیں کہ سمندر میں شہر دیکھ رہے ہیں

یہ موج تو بستی کو مٹانے پہ تُلی ہے
ہم اس میں کوئی نیک ٹھہر دیکھ رہے ہیں

مہمان پرندوں کا کوئی دیس نہیں ہے
ہم اپنے مقدر میں سفر دیکھ رہے ہیں

اولاد کا سر دیکھو، سفیدی سے بھرا ہے
ماں باپ تو گھر، گاڑی، مہر دیکھ رہے ہیں

معلوم ہے پردیس میں گھر ہوتے نہیں ہیں
کچھ لوگ مگر رہنےکو گھر دیکھ رہے ہیں

ہر ایک طیارہ تو میرے ملک نہ جائے
ہر ایک طیارے کو مگر دیکھ رہے ہیں

— منصور علی

احباب کی نذرمیں اک گہرا سمندر ہوں، مجھے خاموش رہنے دومرا اک لفظ دنیا میں سونامی برپا کر دے گا۔ منصور علی
26/07/2026

احباب کی نذر

میں اک گہرا سمندر ہوں، مجھے خاموش رہنے دو
مرا اک لفظ دنیا میں سونامی برپا کر دے گا۔
منصور علی

فضا میں بہت خوش تھے سارے پرندے  یہ کیا کر دیا ان کا جالا بنا کر؟انسان نے جگنو ختم کر دیے ہیں  بتی، موم بتی، اجالا بنا کر...
30/06/2026

فضا میں بہت خوش تھے سارے پرندے
یہ کیا کر دیا ان کا جالا بنا کر؟

انسان نے جگنو ختم کر دیے ہیں
بتی، موم بتی، اجالا بنا کر

دنیا کے سارے گلاب اس لیے ہیں
پہناؤں تمہیں ان کی مالا بنا کر

ہزاروں جسم میری روح کو عطا ہوں
پھروں گا تیرے گرد ہالہ بنا کر

بھاری پڑی ہے انہیں میری روٹی
کھلایا تھا جن کو نوالہ بنا کر

کہاں تک تمہارا یہ سکہ چلے گا
لاؤ تم کو دیتے ہیں آلہ بنا کر

مُحَبَّت آزْماؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کرہمیں مَنزِل بَناؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کربِٹھا کر سامنے اُس کو، اُسی کے ن...
12/04/2026

مُحَبَّت آزْماؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر
ہمیں مَنزِل بَناؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر

بِٹھا کر سامنے اُس کو، اُسی کے نام کی غزلیں
کبھی تو گنگناؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر

خُمارِ عِشق میں یہ زندگانی ہارنی ہے جب
کبھی تو پاس آؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر

کبھی میری نِگاہوں میں نِگاہیں ڈال کر اپنی
ذرا سا مُسکراؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر

تمہاری مُنتَظِر کب سے مُحَبَّت کی یہ نگری ہے
مری گلیوں میں آؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر

یہاں لوگوں کا کہنا ہے مُحَبَّت مار دیتی ہے
انہیں جِی کر دِکھاؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر

علی یہ راستے تُم کو میرے گھر تک لے آئیں گے
قدم پہلا اُٹھاؤ تُم، مُحَبَّت سامنے رَکھ کر
— منصور علی

Roman Urdu:-

Mohabbat aazmau tum, mohabbat samne rakh kar
Hamein manzil banao tum, mohabbat samne rakh kar

Bitha kar samne us ko, usi ke naam ki ghazlein
Kabhi to gungunao tum, mohabbat samne rakh kar

Khumar-e-ishq mein ye zindagi haarni hai jab
Kabhi to paas aao tum, mohabbat samne rakh kar

Kabhi meri nigahon mein nigahen daal kar apni
Zara sa muskurao tum, mohabbat samne rakh kar

Tumhari muntazir kab se mohabbat ki ye nagri hai
Meri galiyon mein aao tum, mohabbat samne rakh kar

Yahan logon ka kehna hai mohabbat maar deti hai
Unhein ji kar dikhao tum, mohabbat samne rakh kar

Ali ye raste tum ko mere ghar tak le aayenge
Qadam pehla uthao tum, mohabbat samne rakh kar
— Mansoor Ali

Hindi (Devanagari)

मोहब्बत आज़माओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर
हमें मंज़िल बनाओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर

बिठा कर सामने उस को, उसी के नाम की ग़ज़लें
कभी तो गुनगुनाओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर

खुमार-ए-इश्क़ में ये ज़िंदगी हारनी है जब
कभी तो पास आओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर

कभी मेरी निगाहों में निगाहें डाल कर अपनी
ज़रा सा मुस्कुराओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर

तुम्हारी मुन्तज़िर कब से मोहब्बत की ये नगरी है
मेरी गलियों में आओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर

यहाँ लोगों का कहना है मोहब्बत मार देती है
उन्हें जी कर दिखाओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर

अली ये रास्ते तुम को मेरे घर तक ले आएंगे
क़दम पहला उठाओ तुम, मोहब्बत सामने रख कर
— منصور علی

English (Improved Version)

Test love, keeping love in front of you
And show me the destination, keeping love in front of you

Seat him before you, and let poems be born in his name
Let them be softly sung, keeping love in front of you

In the intoxication of love, this life is meant to be lost someday
Come closer for a while, keeping love in front of you

Sometimes, in my eyes, look into your own
And smile ever so gently, keeping love in front of you

This city of love has been waiting for you for so long
Come walk through my streets, keeping love in front of you

People here say that love can destroy a person
Go and prove them wrong, keeping love in front of you

Ali, these paths will surely lead you to my home
Take that very first step, keeping love in front of you
— Mansoor Ali

توں بھی تو آسانی سے میسّر نہیں آتامیں روز بلاتا ہوں، توں اکثر نہیں آتا۔یہ عشق تو صحرا سے، سمندر سے وسیع ہےاک عمر بھی چلت...
04/04/2026

توں بھی تو آسانی سے میسّر نہیں آتا
میں روز بلاتا ہوں، توں اکثر نہیں آتا۔
یہ عشق تو صحرا سے، سمندر سے وسیع ہے
اک عمر بھی چلتے رہو، آخر نہیں آتا۔
✍️ منصور علی

مجھ کو بہرا کر ڈالے گادل سے اٹھنے والا شور۔...— منصور علی
03/04/2026

مجھ کو بہرا کر ڈالے گا
دل سے اٹھنے والا شور۔...

— منصور علی

میں ہر بادل کو اُس کا سرمئی آنچل سمجھتا تھا،مگر وہ اُن دنوں مجھ کو تو بس پاگل سمجھتا تھا،ہمیشہ بُیرُخی برتے وہ یوں ہی لو...
01/04/2026

میں ہر بادل کو اُس کا سرمئی آنچل سمجھتا تھا،
مگر وہ اُن دنوں مجھ کو تو بس پاگل سمجھتا تھا،

ہمیشہ بُیرُخی برتے وہ یوں ہی لوٹ جاتا تھا،
پیاسے دشت کو لیکن کہاں بادل سمجھتا تھا،

محبت کی سمجھ اُس کو بڑی تاخیر سے آئی،
وہ اس کو آج سمجھا ہے، میں اس کو کل سمجھتا تھا،

علی میری محبت کا زمانہ معترف لیکن،
وہی سمجھا نہیں جو کہ مجھے بالکل سمجھتا تھا۔

— منصور علی ✍️

ہمیں ہر حال میں پہلی محبت یاد رہتی ہےیوں ہی جیسے فرشتوں کو عبادت یاد رہتی ہےبہت سے چاہنے والوں کے چہرے بھول جاتے ہیںمگر ...
31/03/2026

ہمیں ہر حال میں پہلی محبت یاد رہتی ہے
یوں ہی جیسے فرشتوں کو عبادت یاد رہتی ہے

بہت سے چاہنے والوں کے چہرے بھول جاتے ہیں
مگر جس سے محبت ہو وہ صورت یاد رہتی ہے

اگر تو خواب تھی میری محبت، بھول جاؤ تم
مگر تاریخ کو سن لو، حقیقت یاد رہتی ہے

: منصور علی

31/03/2026

Address

Dubai

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mansoor Ali poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Establishment

Send a message to Mansoor Ali poetry:

Shortcuts

Share

Category