Deen Aur Dunya

  • Home
  • Deen Aur Dunya

Deen Aur Dunya An islamic channel for sharings prays and good deeds

17/12/2025

اولاد کے لیے بی بی فاطمہ علیہ السلام کا وظیفہ

اس توبہ کا تعلق تین صحابہ سے ہے جن کے نام یہ ہیں:1۔ کعب بن مالک2۔ مرارہ بن ربیع3۔ ہلال بن امیہدوستو واقعہ تھوڑا لمبا ہے ...
17/12/2025

اس توبہ کا تعلق تین صحابہ سے ہے جن کے نام یہ ہیں:

1۔ کعب بن مالک

2۔ مرارہ بن ربیع

3۔ ہلال بن امیہ
دوستو واقعہ تھوڑا لمبا ہے اس کے لیے معزرت لیکن اگر مختصر کیا جائے تو مکمل بات آپ تک نہیں جائے گی لیکن بڑا کمال کا واقعہ ہے دل ٹھنڈا کیجیے۔

یہ واقعہ غزوۂ تبوک کے موقع پر پیش آیا۔ اُس وقت مسلمان طرح طرح کی مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔ سخت گرمی کا موسم تھا۔ سفر بڑا طویل اور جاں گسل تھا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے۔ صرف ایک کھجور پر ہی رات بسر کرنا پڑتی۔ پانی اتنا کم یاب تھا کہ اونٹ ذبح کرکے ان کے پیٹ میں جو پانی ہوتا اس سے پیاس کو بجھاتے۔ حالات کی سنگینی کی وجہ سے بعض مخلص مسلمان بھی لڑکھڑا گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی خصوصی توفیق سے سفر جہاد پر روانہ ہوئے۔

صحیح بخاری اور مسلم میں جو روایت درج ہے، اس کے راوی خود ان تینوں میں سے ایک صحابی حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ متفق علیہ روایت کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔

جن دنوں غزوہ تبوک کے لئے تیاری ہو رہی تھی میری صحت اور مالی حالت بہت اچھی تھی۔ میرے پاس سواری کے لئے دو اونٹنیاں تھیں۔ اس سے قبل کبھی میرے پاس سواری کے لئے دو جانور جمع نہیں ہوئے تھے۔ جمعرات کے دن حضور نبی اکرم ﷺ اپنے تیس ہزار جاں نثاروں کے ہمراہ تبوک کی طرف روانہ ہوئے۔ میں نے دل میں سوچا کہ چند ضروری کاموں سے جلدی جلدی فارغ ہو کر لشکر کے ساتھ جا ملوں گا۔ پہلا دن بھی گزر گیا لیکن مجھے ان کاموں سے فراغت نہ ہوئی۔ دوسرا دن، پھر تیسرا دن بھی اسی طرح گزر گیا لیکن میں فارغ نہ ہوا۔ جب کئی دن گزر گئے تو میں نے خیال کیا کہ اب تو لشکر بہت دور چلا گیا ہوگا اور اب میرا جانا بے سود ہے۔ چنانچہ میں نے لشکر کے پیچھے جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ جب میں بازار جاتا تو مجھے ان لوگوں کے سوا جو نفاق کی تہمت سے مہتم تھے یا جو معذور تھے اور جنگ میں شرکت کے قابل نہ تھے، اور کوئی مسلمان دکھائی نہ دیتا۔ مجھے اپنی اس حرماں نصیبی پر بڑا دکھ ہوتا۔ ایک بار خیال آیا بھی کہ اگرچہ تاخیر ہوگئی ہے پھر بھی چلا جاتا ہوں۔ کاش میں ایسا کرتا! لیکن ایسا نہ کر سکا۔ وقت گزرتا گیا۔ یہاں تک کے حضور نبی اکرم ﷺ کے بخیر و عافیت واپس آنے کی اطلاعات آنے لگیں۔ مجھے رنج و غم نے آ لیا۔ میں سوچنے لگا کہ بارگاهِ رسالت میں اپنی اس غیر حاضری کے لئے کیا عذر پیش کروں۔ خود بھی غور و خوض کیا اور دیگر سے بھی مشورہ کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لے آئے تو یکایک تذبذب کی کیفیت جاتی رہی اور دل میں ٹھان لیا کہ سچ سچ عرض کر دوں گا اور اس بارگاہ میں اگر پناہ مل سکتی ہے تو سچ سے ہی مل سکتی ہے، جھوٹ بول کر تو مزید اپنے آپ کو رسوا ہی کرنا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت مبارکہ تھی کہ جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے مسجد میں جا کر دو نفل ادا کرتے۔ اس کے بعد حضرت خاتون جنت رضی اللہ عنہا کے ہاں قدم رنجہ فرماتے اور اس کے بعد ازواج مطہرات کے حجروں کو زینت بخشتے۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ مسجد تشریف لے آئے اور نفلوں سے فارغ ہو کر بیٹھے تو منافقین گروہ در گروہ حاضر ہو کر جھوٹے بہانے پیش کرنے لگے اور حضور نبی اکرم ﷺ ان کے باطن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تفویض کرکے ان کی ظاہری عذر داریوں کو قبول فرما لیتے۔ مجھے بھی بعض لوگوں نے ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن میں نے خدمت اقدس میں حاضر ہو کر اپنی حرماں نصیبی کی سچی سچی داستان عرض کر دی۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے میری عرض گزاشت کو سن کر فرمایا:

اَمَّا هٰذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتّٰی یَقْضِيَ اللهُ فِیْک.

بخاری، الصحیح، کتاب المناقب، باب صفۃ النبي ﷺ، 3: 1305، رقم: 3363
أیضاً، کتاب المغازي، باب حدیث کعب بن مالک وقول تعالیٰ وعلی الثلاثۃ الذین خلفوا، 4: 1605، رقم: 4156
مسلم، الصحیح، کتاب التوبہ، باب حدیث توبۃ کعب بن مالک، 4: 2120۔2123، رقم: 2769
أحمد بن حنبل، المسند، 3: 456-457، رقم: 15827
نسائي، السنن الکبریٰ، 6: 359، رقم: 11232
اس نے جو کچھ کہا ہے سچ ہے۔ جاؤ! اٹھو تمہارا فیصلہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔

کئی لوگوں نے مجھے بڑی سرزنش کی کہ تم نے صاف گوئی سے کام لے کر اپنے آپ کو مصیبت میں گرفتار کروا دیا۔ میں نے خیال کیا کہ واپس جا کر کوئی عذر پیش کروں لیکن پھر معاً یہ خیال آیا کہ ایک گناہ تو یہ کیا کہ جہاد میں شریک نہیں ہوا اور دوسرا گناہ یہ کروں کہ بارگاہ نبوت میں جھوٹ بولوں، میں یہ جرأت ہرگز نہیں کروں گا۔ میں نے پوچھا کہ کسی اور کو بھی اسی قسم کا حکم ملا ہے تو بتایا گیا کہ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع کو بھی یہی فرمایا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے بھی منع فرما دیا۔ اب ہمارے ساتھ نہ کوئی ہم کلام ہوتا تھا اور نہ ہی ہمارے سلام کا کوئی جواب دیتا۔ ہمیں یوں محسوس ہونے لگا کہ یہ وہ لوگ ہی نہیں جو پہلے تھے اور جن کو ہم جانتے تھے۔ یہ وہ دیس ہی نہیں ہے جس میں ہم نے عمر گزاری بلکہ یہ کوئی نیا دیس ہے۔ جس کے کوچہ و بازار اور در و دیوار ہمارے لئے بالکل غیر مانوس ہیں۔ مجھے یہ اندیشہ کھائے جا رہا تھا کہ اگر اسی حالت میں موت آگئی اور حضور نبی اکرم ﷺ نے نماز جنازہ نہ پڑھائی تو کیا بنے گا؟ میرے دیگر دونوں ساتھی تو رات دن گریہ و زاری میں گزار دیتے۔ انہیں دنیا و مافیہا کی خبر نہ تھی۔ انہوں نے تو باہر نکلنا ہی بند کر دیا تھا جبکہ میں کبھی کبھی بازار جاتا لیکن نہ کوئی مجھے سلام کہتا اور نہ کوئی میرے سلام کا جواب دیتا۔ ایک روز میں لوگوں کی سرد مہری سے تنگ آکر اور مایوس ہو کر اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے پاس چلا گیا جو اس وقت باغ میں تھا۔ مجھے اس سے بڑی محبت تھی۔ میں نے سلام کیا تو اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: اے بھائی! کیا تمہیں علم نہیں کہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ وہ چپ رہا، میں نے تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا وہ بولا تک نہیں۔ آخر چوتھی بار جب میں نے اسے یہی بات کہی تو اس نے صرف اتنا کہا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ اُس وقت بے اختیار میرے آنسو بہہ نکلے اور میں وہاں سے شکستہ دل واپس چلا آیا۔ میں بازار سے گزر رہا تھا کہ شاهِ غسان کا ایک ایلچی مجھے تلاش کر رہا تھا۔ لوگوں نے اشارہ سے اسے میری طرف متوجہ کیا کہ یہ کعب ہے جسے تم تلاش کر رہے ہو۔ وہ میرے قریب آیا اور مجھے اپنے بادشاہ کا خط دیا۔ اس نے خط میں مجھے لکھا کہ ہم نے سنا ہے کہ تیرے صاحب نے تجھ پر بہت جفا کی ہے اور تیرے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ تو ایسا نہیں کہ تیری توہین کی جائے۔ تو میرے پاس آجا، دیکھ میں کس طرح تیری قدردانی کرتا ہوں۔ یہ پڑھ کر میں آگ بگولا ہوگیا اور میں نے اس خط کو نذر آتش کر دیا اور اسے کہا کہ اپنے بادشاہ کو کہنا کہ اس خط کا میرے پاس یہی جواب تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: میری بد بختی ملاحظہ ہو کہ اب ایک کافر کو یہ جرأت ہو رہی ہے کہ میرے ایمان پر ڈاکہ ڈالے۔ اس رنج و الم میں چالیس دن گزر گئے۔ چالیسویں دن حکم ہوا کہ ہم اپنی بیویوں سے بھی الگ رہیں چنانچہ میں نے اپنی بیوی کو اس کے میکے بھیج دیا۔ میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد نبوی جایا کرتا تھا اور حضور نبی اکرم ﷺ کو سلام عرض کیا کرتا اور پھر یہ دیکھتا کہ کیا لب مبارک کو جنش ہوئی ہے۔ جب میں نماز میں مشغول ہوتا تو سرورِ دوعالم ﷺ اپنی نگاهِ لطف کو میری طرف مبذول فرماتے اور جب میں فارغ ہوتا تو اعراض فرما لیتے۔ یہ لمحے میرے لئے بڑے صبر آزما تھے۔ پچاسویں رات کو ہماری توبہ کی قبولیت کی آیت نازل ہوئی۔ صبح کی نماز کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلان فرمایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین دوڑے ہوئے مبارک دینے آئے۔ سب سے پہلے جس نے مجھے یہ مژدہ جاں فزا سنایا وہ حمزہ الاسلمی تھے۔ میں نے فرطِ مسرت میں اپنے دونوں کپڑے اتار کر ان کی نذر کر دیے۔ پھر میں بارگاهِ مصطفی ﷺ میں حاضر ہوا۔ سب احباب جوق در جوق مجھے مبارک باد دینے آ رہے تھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرۂ انور خوشی سے چمک رہا تھا۔ مجھے دیکھا تو فرمایا: جب سے تیری ماں نے تجھے جنا ہے یہ تیری زندگی کا بہترین دن ہے، مبارک ہو۔

یہ ان تین پاک بازوں کا ذکر ہے جنہوں نے منافقوں کی طرح اللہ کے رسول ﷺ کی جناب میں جھوٹ بولنے کی گستاخی نہیں کی اور آخر کار اللہ تعالیٰ کی نگاهِ لطف و عطا ان کی طرف مائل ہوئی اور ایسا ابر رحمت بخشا کہ قیامت تک ان کی توبہ کا ذکر متن قرآن بن گیا

دوستو....!!! چلتے چلتے ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کہ اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ کہانی یا تحریر وغیره اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو دوستو ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کیا کریں بہت شکریہ۔❤️

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔
#قربانی

سائنس کا ’فرعون‘ سجدہ ریز: ایلون مسک کا اعترافِ خدا اور جدید الحاد کے تابوت میں آخری کیل! -اکیسویں صدی کا سب سے بڑا المی...
17/12/2025

سائنس کا ’فرعون‘ سجدہ ریز: ایلون مسک کا اعترافِ خدا اور جدید الحاد کے تابوت میں آخری کیل! -

اکیسویں صدی کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ ٹیکنالوجی کی چمک دمک نے انسان کو اپنی ہی "بصیرت" سے اندھا کر دیا۔

ہمیں بتایا گیا کہ سائنس نے خدا کو دفن کر دیا ہے (Nietzsche’s "God is dead")، اور اب راکٹ بنانے والے، مصنوعی ذہانت (AI) تخلیق کرنے والے اور مریخ پر بستیاں بسانے والے ہی ہمارے نئے "خدا" ہیں۔

لیکن میرے دوستو!

فطرت کا انتقام دیکھیے۔

آج اسی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا دیوتا، اکیسویں صدی کا سب سے ذہین دماغ، اور مادی ترقی کا استعارہ, ایلون مسک (Elon Musk) اسی دہلیز پر آ کھڑا ہوا ہے جسے "مذہب" کہتے ہیں۔

یہ خبر کہ ایلون مسک نے خدا کے وجود کا اعتراف کر لیا ہے، سوشل میڈیا کی ایک عام سرخی نہیں ہے؛

یہ جدید الحاد (New Atheism) کے منہ پر ایک ایسا علمی طمانچہ ہے جس کی گونج رچرڈ ڈاکنز اور سیم ہیرس کے ایوانوں تک سنائی دے رہی ہوگی۔

اس خبر کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پہلے ایلون مسک کے ذہنی پس منظر کو سمجھیں۔

یہ شخص کوئی روایتی مذہبی انسان نہیں تھا۔ جنوبی افریقہ میں پیدا ہونے والا ایلون بچپن ہی سے فزکس اور لاجک کا دیوانہ تھا۔

وہ اسی "مغربی سیکولر ازم" کی پیداوار تھا جو کہتا ہے کہ "جو لیبارٹری میں ثابت نہیں، وہ موجود نہیں۔"

سالوں تک ایلون مسک خود کو "Agonistic" (لا ادری) یا "Atheist" (ناصرف) کے زمرے میں رکھتا رہا۔ اس نے بارہا کہا کہ

"میں نے کبھی دعا نہیں مانگی، میں صرف فزکس پر یقین رکھتا ہوں۔"

یہ وہ شخص ہے جو کائنات کو محض ایٹموں کا ایک حادثاتی رقص سمجھتا تھا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟

جیسے جیسے اس نے کائنات کی پیچیدگیوں (Complexity) اور مصنوعی ذہانت (AI) کی باریکیوں میں غوطہ لگایا، اس کا "سائنسی تکبر" ٹوٹتا گیا۔

"خدا خالق ہے":

ایک عظیم اعتراف
حال ہی میں کیٹی ملر (Katy Miller) کے ساتھ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے وہ جملہ کہا جو سائنس کے "فرسٹ کاز" (First Cause) کے فلسفے کی بنیاد ہے۔

اس نے کہا:

"میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ کائنات کسی چیز سے وجود میں آئی۔ خدا خالق ہے۔"

(I believe that this universe came into existence from something. God is the Creator.)

غور فرمائیں!

یہ جملہ ارسطو (Aristotle) کے "Prime Mover" اور اسلام کے "واجب الوجود" کے تصور کی جدید تائید ہے۔

جدید فزکس میں "بگ بینگ" یہ تو بتاتا ہے کہ کائنات "شروع" ہوئی، لیکن یہ نہیں بتا پاتا کہ

"شروع کس نے کی؟"۔

ایلون مسک، جو لاجک کا بادشاہ ہے، یہ سمجھ چکا ہے کہ "Nothing comes from nothing" (عدم سے وجود نہیں آ سکتا)۔ اگر کائنات موجود ہے، تو اس کے پیچھے ایک "Super Intelligence" کا ہونا ناگزیر ہے۔

یہ اعتراف کسی جذباتیت کا نتیجہ نہیں، بلکہ خالص منطقی استدلال (Logical Deduction) کا نتیجہ ہے۔

اس ذہنی تبدیلی کا دوسرا رخ ایلون مسک کا سماجی مشاہدہ ہے۔

25 اگست کو اس نے "X" (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک تہلکہ خیز بات لکھی۔ اس نے کہا:

"واک (Woke) ایک مذہب ہے جو مسیحیت کے چھوڑے ہوئے خلا کو پُر کر رہا ہے۔"

یہاں ایلون ایک عظیم عمرانیاتی حقیقت (Sociological Reality) کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔

انسان کی فطرت میں "عبادت" شامل ہے۔

اگر آپ اس سے "خدا" چھین لیں گے، تو وہ کسی اور چیز کو خدا بنا لے گا۔

مغرب نے عیسائیت کو چھوڑا تو وہ "لبرل ازم"، "LGBTQ ایجنڈا" اور "Wokeism" کو مذہب بنا بیٹھے۔

ایلون مسک نے گزشتہ سال خود کو "Cultural Christian" (ثقافتی مسیحی) قرار دیا تھا (انٹرویو: Jordan Peterson, July 2024)۔

اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سمجھ چکا ہے کہ مذہب کے بغیر معاشرہ درندوں کا ہجوم بن جاتا ہے۔

وہ دیکھ رہا ہے کہ الحاد نے انسان کو آزاد نہیں کیا، بلکہ اسے "خواہشات کا غلام" اور "ذہنی مریض" بنا دیا ہے۔

سمولیشن تھیوری یا دنیا کی بے ثباتی؟

ایلون مسک اکثر کہتا ہے کہ "اس بات کا اربوں میں ایک فیصد چانس ہے کہ ہم اصل حقیقت (Base Reality) میں رہ رہے ہیں، ہم شاید کسی سمولیشن (ویڈیو گیم) میں ہیں۔"

(Code Conference, 2016)

میرے سادہ لوح دوستو!

ناموں سے دھوکہ مت کھائیں۔

جسے ایلون مسک "سمولیشن" (Simulation) کہتا ہے، اسے روحانی مجدد "مایا" یا "سراب" کہتے ہیں۔

جسے وہ "پروگرامر" کہتا ہے، اسے ہم "خالق" کہتے ہیں۔

جسے وہ "کوڈنگ" کہتا ہے، اسے ہم "لوحِ محفوظ" کہتے ہیں۔

ایلون مسک کا یہ کہنا کہ

"انسانی زندگی ایک ویڈیو گیم کی طرح ہے"،

دراصل قرآن کی اس آیت کی جدید سائنسی تشریح ہے:

"وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ"

(اور دنیا کی زندگی کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں) [الانعام: 32]۔

نتیجہ: عقل کی انتہا خدا ہے!

ایلون مسک کا یہ یو ٹرن (U-turn) ہمیں ایک ہی بات سکھاتا ہے:

آپ سائنس میں جتنی گہرائی میں جائیں گے، آپ خدا کے اتنے ہی قریب ہوتے جائیں گے۔

الحاد صرف "کم علم سائنس" (Bad Science) سے جنم لیتا ہے۔

جب انسان ڈی این اے (DNA) کی پیچیدگی اور کائنات کی فائن ٹیوننگ (Fine-tuning) کو دیکھتا ہے، تو اس کے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں:

یا تو وہ اپنی عقل کا انکار کر دے، یا پھر "خالق" کا اقرار کر لے۔

ایلون مسک نے اپنی عقل کا انکار نہیں کیا، اس لیے اسے خالق کا اقرار کرنا پڑا۔

یہ کائنات کوئی اندھا حادثہ نہیں، اور ایلون مسک جیسا شخص اب یہ جان چکا ہے کہ "راکٹ" بنانے والا تو ہو سکتا ہے، تو "راکٹ بنانے والے" (انسان) کو بنانے والا کوئی نہیں؟

یہ منطقی محال ہے۔

ویلکم ٹو دی کلب، مسٹر مسک!

دیر آید، درست آید۔

17/12/2025

Surah Fajr Ke Baad Parhne Se Allah Khush Hali Aur Dolat Ka Darwaza Kholta Hai

دجالی یونٹ 8200 کی الیکٹرانگ جنگ۔۔📡ایک بڑا تکنیکی و انٹیلی جنس نوعیت کا ”اسکینڈل“ سامنے آیا ہے۔۔۔۔۔ایلون مسک کی ملکیت سو...
16/12/2025

دجالی یونٹ 8200 کی الیکٹرانگ جنگ۔۔📡

ایک بڑا تکنیکی و انٹیلی جنس نوعیت کا ”اسکینڈل“ سامنے آیا ہے۔۔۔۔۔ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) نے ایک بڑا اپ ڈیٹ جاری کیا،جس کے ذریعے منظم مہمات چلانے والے اکاؤنٹس کے حقیقی جغرافیائی مقامات کی نشاندہی ممکن ہو گئی ہے۔۔
جیسے ہی اس اپ ڈیٹ کےاثرات ظاہر ہوئے،ایک ہلچل مچ گئی۔ کہاگیا کہ اسلام اور عربوں پرحملہ کرنےوالے 95 فیصد اکاؤنٹس کا سراغ۔۔۔۔۔۔۔براہِ راست صہیونی ریاست کے اندر سے ملا۔۔
وہ اکاؤنٹس جو برسوں سے فتنہ پھیلارہےتھے، اسلام کو نشانہ بنا رہے تھے۔۔۔۔۔نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کررہےتھےاورمسلمانوں خصوصاًعرب عوام کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کر رہے تھے۔۔۔۔اچانک اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آیا کہ یہ سب صہیونی ریاست کے اندر سے چلائے جا رہے تھے اور خاص طور پر دجالی فوجی یونٹ 8200 سے منسوب کیے گئے، جوصہیونی انٹیلیجنس کاسب سےخطرناک الیکٹرانک بازو سمجھاجاتا ہے۔۔
یہ اکاؤنٹس بظاہرسنی،شیعہ،الجزائری،خلیجی،مصری اور مراکشی شناخت رکھتےتھےمگرمقصد ایک ہی تھا امت کوتوڑنااورداخلی تنازعات بھڑکانا،یہی نہیں بلکہ یونٹ 8200۔۔۔نے عربی شناخت کے لاکھوں اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں،جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جارہاہے،تاکہ فرقہ وارانہ نفرت،نسلی تعصب،ریاستوں اور شخصیات کے خلاف شکوک، دین اور شناخت پر کیے جاسکیں۔۔
الجزائر اورمراکش بھی ان مہمات سےمحفوظ نہ رہے، جہاں دونوں قوموں کےدرمیان مصنوعی دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔۔X کا یہ اپ ڈیٹ دراصل امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ حلقوں کے درمیان نفرت آمیز مہمات کے تجزیئےکیلیے تھا،لیکن غیرارادی طور پر یہ حقیقت۔۔۔۔۔۔سامنے آ گئی کہ بڑی مہمات کے پیچھے روس، بھارت اور صہیونی ریاست۔۔۔۔۔کا کردار تھا۔۔
نتائج ظاہرہونےکےکچھ ہی وقت بعد لاکھوں اکاؤنٹس اچانک حذف کر دیئے گئے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اسلام پرحملہ کرنےوالے، قرآن کامذاق اڑانےوالے، الحاد پھیلانے والےاکاؤنٹس بھی اسی ایک ذریعےسے چلائے جا رہے تھے۔۔
حتیٰ کہ مصر میں پھیلنے والا نظریہ “ہم عرب نہیں، فرعونی ہیں” اور ’’کِمیٹین‘‘ جیسے تصورات کو بھی اسی صہیونی منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا، جس کا مقصد مصرکو اسلامی اورعربی شناخت سےکاٹ دینا تھا۔۔
انکشاف ہوا کہ عرب عوام فطری طور پر ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ یہ نفرت تیار کی گئی اور برآمد کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصریوں اور عربوں کے درمیان، الجزائریوں اور مراکشیوں کے درمیان، مختلف فرقوں کےدرمیان،حتیٰ کہ مسلمانوں اور انکے دین کے درمیان نفرت پھیلائی گئی۔۔
یہ جنگ سرحدوں کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔بلکہ شعور، یادداشت، شناخت اور اقدار کی جنگ ہے۔۔۔۔۔اس لیے شعور بیدار کرنے اور ان سازشوں سے ہوشیار رہنےکی اپیل کی جا رہی ہے۔۔
اب وہ حقائق جو تحقیق کے بعد سامنے آتے ہیں:
1. یہ درست ہے کہ X نے حالیہ عرصےمیں کچھ ایسی خصوصیات (فیچرز) آزمائیں، جن سے بعض اکاؤنٹس کےغیرمقامی یا مشتبہ جغرافیائی مقامات سامنے آئے اور بڑے پیمانے پر جعلی/منظم اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی۔۔
2. یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیلی یونٹ 8200 ایک حقیقی اور طاقتور سائبر و سگنلز انٹیلی جنس یونٹ ہے،جو ڈیجیٹل نگرانی اورمعلوماتی جنگ میں مہارت رکھتا ہے۔۔
تاہم یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ 95فیصد اسلام یا عرب مخالف اکاؤنٹس براہِ راست یونٹ 8200 سے چلائے جا رہے تھے۔مگر X کےاپ ڈیٹ نےباضابطہ طور پر یونٹ8200کو بےنقاب کیا۔ سڈنی یا اس قسم کے واقعات میں بھی اس یونٹ کےملوث ہونے کے اشارے سامنے آئے۔۔
عالمی سطح پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ڈیجیٹل اثر و رسوخ (Influence Operations) میں اسرائیل، روس، چین، امریکا، بھارت سمیت کئی ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر ملوث رہے ہیں۔۔

الیکٹرانک مکھی:
یہ کیا ہے، کیسےکام کرتی ہےاورہمارے شعور کو کیسے متاثر کرتی ہے۔۔۔۔۔۔؟ آج کے دور میں الیکٹرانک مکھی (Electronic Trolls / Digital Bots) جدید میڈیا کی جنگوں میں ایک مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ اس کے ذریعے عوامی رائے کو بدلا جاتا ہے اور لوگوں کے ذہن مخصوص ایجنڈوں کے مطابق موڑے جاتے ہیں۔۔۔۔۔یہ محض چند جعلی اکاؤنٹس نہیں ہوتے،بلکہ ایک مکمل منظم نظام ہوتا ہے، جو جدید مصنوعی ذہانت (AI)، پیسے پر کام کرنےوالےپروگرامرز اور ایک تیسری قسم کے ایسے افراد کو استعمال کرتا ہےجو لاعلمی میں ہی اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔۔
اسی لیے اس نظام کو سمجھنانہایت ضروری ہے، تاکہ انسان فکری دھوکے سے محفوظ رہ سکے۔ اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہر خبر پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کیا جائے۔۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اے ایمان والو! اگرکوئی فاسق تمہارےپاس کوئی خبر لےکرآئے تو تحقیق کرلیاکرو،کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔ (الحجرات: 6)

الیکٹرانک مکھی کی اقسام:
پہلی قسم:روبوٹس اورمصنوعی ذہانت(اصل منصوبہ ساز)
یہ سب سے جدید اورخطرناک قسم ہے۔اس میں ایسے خودکار پروگرام استعمال ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جو لوگوں کے جذبات اور رجحانات کا تجزیہ کرتے ہیں، یہ طے کرتے ہیں کہ کس کی حمایت کرنی ہے اور کس پر حملہ۔۔۔۔ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ایک ہی بات بار بار پھیلاتے ہیں۔۔
یہ اکاؤنٹ کسی حقیقی رائےکی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ محض الگورتھمز کے غلام ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جنہیں مخصوص مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عمل ہمیں نبی کریم ﷺ کی اس تنبیہ کی یاد دلاتا ہے کہ:
سب سے بڑاجھوٹ یہ ہےکہ انسان ایسی بات منسوب کرے جو حقیقت میں کہی ہی نہ گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔یہی کام الیکٹرانک مکھی کرتی ہے:
جھوٹ گھڑنا، جھوٹی مقبولیت دکھانا اور جعلی تاثر پیدا کرنا۔۔
دوسری قسم: کرائے کے پروگرامرز
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عام طور پرغریب ممالک مثلا بھارت، کمبوڈیا اور افریقہ کے بعض ممالک میں رہتے ہیں اور پیسے کے بدلے یہ نیٹ ورکس چلاتے ہیں۔ ان سے یہ کام لیے جاتے ہیں:
سیاسی رائےکوموڑنا،مخصوص نظریات کوعام دکھانا مخالف آوازوں کو بدنام کرنا، تجارتی مفادات کے لیے جعلی ریویوز بنانا۔ یہ لوگ ضمیر بیچ دیتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ایک زمانہ آئے گا جب انسان اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ اس نے مال کہاں سے کمایا، حلال یا حرام۔

تیسری قسم: متاثر ہونے والے لوگ
یہ سب سے خطرناک طبقہ ہے، کیونکہ یہ لوگ خود کو حق پر سمجھتے ہیں،مگر دراصل الیکٹرانک مکھی کے آلہ کاربن چکےہوتے ہیں۔ان پر اثر ڈالنے کے طریقے: جذباتی باتیں کر کے بہکانا، دلیل کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، ایک ہی جھوٹ کو بار بار دہرانا۔رفتہ رفتہ انسان وہی بات دہرانے لگتا ہےجو اسے مسلسل دکھائی جاتی ہے۔ الیکٹرانک مکھی وہی بھٹی ہے جو ذہنوں کو جلا دیتی ہے۔۔
ہم خود کو کیسے بچائیں؟
1. ہر خبر کی تحقیق کریں
2. جذبات میں آ کر فوراً ردعمل نہ دیں
3. یہ سمجھیں کہ سوشل میڈیا پر ہر آواز حقیقی نہیں
4. بغیر تحقیق کسی بات کو آگے نہ پھیلائیں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔
ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ باخبر رہے، عقل استعمال کرے اور فتنہ پھیلانے والوں کا آلہ کار نہ بنے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، کیونکہ کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (الإسراء: 36)
اللہ ہمیں بصیرت اور شعور عطا فرمائے، آمین۔
ولاتفراقو

دجالی یونٹ 8200 کی الیکٹرانگ جنگ۔۔📡ایک بڑا تکنیکی و انٹیلی جنس نوعیت کا ”اسکینڈل“ سامنے آیا ہے۔۔۔۔۔ایلون مسک کی ملکیت سو...
16/12/2025

دجالی یونٹ 8200 کی الیکٹرانگ جنگ۔۔📡

ایک بڑا تکنیکی و انٹیلی جنس نوعیت کا ”اسکینڈل“ سامنے آیا ہے۔۔۔۔۔ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) نے ایک بڑا اپ ڈیٹ جاری کیا،جس کے ذریعے منظم مہمات چلانے والے اکاؤنٹس کے حقیقی جغرافیائی مقامات کی نشاندہی ممکن ہو گئی ہے۔۔
جیسے ہی اس اپ ڈیٹ کےاثرات ظاہر ہوئے،ایک ہلچل مچ گئی۔ کہاگیا کہ اسلام اور عربوں پرحملہ کرنےوالے 95 فیصد اکاؤنٹس کا سراغ۔۔۔۔۔۔۔براہِ راست صہیونی ریاست کے اندر سے ملا۔۔
وہ اکاؤنٹس جو برسوں سے فتنہ پھیلارہےتھے، اسلام کو نشانہ بنا رہے تھے۔۔۔۔۔نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کررہےتھےاورمسلمانوں خصوصاًعرب عوام کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کر رہے تھے۔۔۔۔اچانک اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آیا کہ یہ سب صہیونی ریاست کے اندر سے چلائے جا رہے تھے اور خاص طور پر دجالی فوجی یونٹ 8200 سے منسوب کیے گئے، جوصہیونی انٹیلیجنس کاسب سےخطرناک الیکٹرانک بازو سمجھاجاتا ہے۔۔
یہ اکاؤنٹس بظاہرسنی،شیعہ،الجزائری،خلیجی،مصری اور مراکشی شناخت رکھتےتھےمگرمقصد ایک ہی تھا امت کوتوڑنااورداخلی تنازعات بھڑکانا،یہی نہیں بلکہ یونٹ 8200۔۔۔نے عربی شناخت کے لاکھوں اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں،جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جارہاہے،تاکہ فرقہ وارانہ نفرت،نسلی تعصب،ریاستوں اور شخصیات کے خلاف شکوک، دین اور شناخت پر کیے جاسکیں۔۔
الجزائر اورمراکش بھی ان مہمات سےمحفوظ نہ رہے، جہاں دونوں قوموں کےدرمیان مصنوعی دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔۔X کا یہ اپ ڈیٹ دراصل امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ حلقوں کے درمیان نفرت آمیز مہمات کے تجزیئےکیلیے تھا،لیکن غیرارادی طور پر یہ حقیقت۔۔۔۔۔۔سامنے آ گئی کہ بڑی مہمات کے پیچھے روس، بھارت اور صہیونی ریاست۔۔۔۔۔کا کردار تھا۔۔
نتائج ظاہرہونےکےکچھ ہی وقت بعد لاکھوں اکاؤنٹس اچانک حذف کر دیئے گئے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اسلام پرحملہ کرنےوالے، قرآن کامذاق اڑانےوالے، الحاد پھیلانے والےاکاؤنٹس بھی اسی ایک ذریعےسے چلائے جا رہے تھے۔۔
حتیٰ کہ مصر میں پھیلنے والا نظریہ “ہم عرب نہیں، فرعونی ہیں” اور ’’کِمیٹین‘‘ جیسے تصورات کو بھی اسی صہیونی منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا، جس کا مقصد مصرکو اسلامی اورعربی شناخت سےکاٹ دینا تھا۔۔
انکشاف ہوا کہ عرب عوام فطری طور پر ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ یہ نفرت تیار کی گئی اور برآمد کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصریوں اور عربوں کے درمیان، الجزائریوں اور مراکشیوں کے درمیان، مختلف فرقوں کےدرمیان،حتیٰ کہ مسلمانوں اور انکے دین کے درمیان نفرت پھیلائی گئی۔۔
یہ جنگ سرحدوں کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔بلکہ شعور، یادداشت، شناخت اور اقدار کی جنگ ہے۔۔۔۔۔اس لیے شعور بیدار کرنے اور ان سازشوں سے ہوشیار رہنےکی اپیل کی جا رہی ہے۔۔
اب وہ حقائق جو تحقیق کے بعد سامنے آتے ہیں:
1. یہ درست ہے کہ X نے حالیہ عرصےمیں کچھ ایسی خصوصیات (فیچرز) آزمائیں، جن سے بعض اکاؤنٹس کےغیرمقامی یا مشتبہ جغرافیائی مقامات سامنے آئے اور بڑے پیمانے پر جعلی/منظم اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی۔۔
2. یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیلی یونٹ 8200 ایک حقیقی اور طاقتور سائبر و سگنلز انٹیلی جنس یونٹ ہے،جو ڈیجیٹل نگرانی اورمعلوماتی جنگ میں مہارت رکھتا ہے۔۔
تاہم یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ 95فیصد اسلام یا عرب مخالف اکاؤنٹس براہِ راست یونٹ 8200 سے چلائے جا رہے تھے۔مگر X کےاپ ڈیٹ نےباضابطہ طور پر یونٹ8200کو بےنقاب کیا۔ سڈنی یا اس قسم کے واقعات میں بھی اس یونٹ کےملوث ہونے کے اشارے سامنے آئے۔۔
عالمی سطح پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ڈیجیٹل اثر و رسوخ (Influence Operations) میں اسرائیل، روس، چین، امریکا، بھارت سمیت کئی ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر ملوث رہے ہیں۔۔

الیکٹرانک مکھی:
یہ کیا ہے، کیسےکام کرتی ہےاورہمارے شعور کو کیسے متاثر کرتی ہے۔۔۔۔۔۔؟ آج کے دور میں الیکٹرانک مکھی (Electronic Trolls / Digital Bots) جدید میڈیا کی جنگوں میں ایک مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ اس کے ذریعے عوامی رائے کو بدلا جاتا ہے اور لوگوں کے ذہن مخصوص ایجنڈوں کے مطابق موڑے جاتے ہیں۔۔۔۔۔یہ محض چند جعلی اکاؤنٹس نہیں ہوتے،بلکہ ایک مکمل منظم نظام ہوتا ہے، جو جدید مصنوعی ذہانت (AI)، پیسے پر کام کرنےوالےپروگرامرز اور ایک تیسری قسم کے ایسے افراد کو استعمال کرتا ہےجو لاعلمی میں ہی اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔۔
اسی لیے اس نظام کو سمجھنانہایت ضروری ہے، تاکہ انسان فکری دھوکے سے محفوظ رہ سکے۔ اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہر خبر پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کیا جائے۔۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اے ایمان والو! اگرکوئی فاسق تمہارےپاس کوئی خبر لےکرآئے تو تحقیق کرلیاکرو،کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔ (الحجرات: 6)

الیکٹرانک مکھی کی اقسام:
پہلی قسم:روبوٹس اورمصنوعی ذہانت(اصل منصوبہ ساز)
یہ سب سے جدید اورخطرناک قسم ہے۔اس میں ایسے خودکار پروگرام استعمال ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جو لوگوں کے جذبات اور رجحانات کا تجزیہ کرتے ہیں، یہ طے کرتے ہیں کہ کس کی حمایت کرنی ہے اور کس پر حملہ۔۔۔۔ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ایک ہی بات بار بار پھیلاتے ہیں۔۔
یہ اکاؤنٹ کسی حقیقی رائےکی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ محض الگورتھمز کے غلام ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جنہیں مخصوص مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عمل ہمیں نبی کریم ﷺ کی اس تنبیہ کی یاد دلاتا ہے کہ:
سب سے بڑاجھوٹ یہ ہےکہ انسان ایسی بات منسوب کرے جو حقیقت میں کہی ہی نہ گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔یہی کام الیکٹرانک مکھی کرتی ہے:
جھوٹ گھڑنا، جھوٹی مقبولیت دکھانا اور جعلی تاثر پیدا کرنا۔۔
دوسری قسم: کرائے کے پروگرامرز
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عام طور پرغریب ممالک مثلا بھارت، کمبوڈیا اور افریقہ کے بعض ممالک میں رہتے ہیں اور پیسے کے بدلے یہ نیٹ ورکس چلاتے ہیں۔ ان سے یہ کام لیے جاتے ہیں:
سیاسی رائےکوموڑنا،مخصوص نظریات کوعام دکھانا مخالف آوازوں کو بدنام کرنا، تجارتی مفادات کے لیے جعلی ریویوز بنانا۔ یہ لوگ ضمیر بیچ دیتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ایک زمانہ آئے گا جب انسان اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ اس نے مال کہاں سے کمایا، حلال یا حرام۔

تیسری قسم: متاثر ہونے والے لوگ
یہ سب سے خطرناک طبقہ ہے، کیونکہ یہ لوگ خود کو حق پر سمجھتے ہیں،مگر دراصل الیکٹرانک مکھی کے آلہ کاربن چکےہوتے ہیں۔ان پر اثر ڈالنے کے طریقے: جذباتی باتیں کر کے بہکانا، دلیل کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، ایک ہی جھوٹ کو بار بار دہرانا۔رفتہ رفتہ انسان وہی بات دہرانے لگتا ہےجو اسے مسلسل دکھائی جاتی ہے۔ الیکٹرانک مکھی وہی بھٹی ہے جو ذہنوں کو جلا دیتی ہے۔۔
ہم خود کو کیسے بچائیں؟
1. ہر خبر کی تحقیق کریں
2. جذبات میں آ کر فوراً ردعمل نہ دیں
3. یہ سمجھیں کہ سوشل میڈیا پر ہر آواز حقیقی نہیں
4. بغیر تحقیق کسی بات کو آگے نہ پھیلائیں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔
ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ باخبر رہے، عقل استعمال کرے اور فتنہ پھیلانے والوں کا آلہ کار نہ بنے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، کیونکہ کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (الإسراء: 36)
اللہ ہمیں بصیرت اور شعور عطا فرمائے، آمین۔
ولا تفراقو

دجالی یونٹ 8200 کی الیکٹرانگ جنگ۔۔📡ایک بڑا تکنیکی و انٹیلی جنس نوعیت کا ”اسکینڈل“ سامنے آیا ہے۔۔۔۔۔ایلون مسک کی ملکیت سو...
16/12/2025

دجالی یونٹ 8200 کی الیکٹرانگ جنگ۔۔📡

ایک بڑا تکنیکی و انٹیلی جنس نوعیت کا ”اسکینڈل“ سامنے آیا ہے۔۔۔۔۔ایلون مسک کی ملکیت سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابق ٹوئٹر) نے ایک بڑا اپ ڈیٹ جاری کیا،جس کے ذریعے منظم مہمات چلانے والے اکاؤنٹس کے حقیقی جغرافیائی مقامات کی نشاندہی ممکن ہو گئی ہے۔۔
جیسے ہی اس اپ ڈیٹ کےاثرات ظاہر ہوئے،ایک ہلچل مچ گئی۔ کہاگیا کہ اسلام اور عربوں پرحملہ کرنےوالے 95 فیصد اکاؤنٹس کا سراغ۔۔۔۔۔۔۔براہِ راست صہیونی ریاست کے اندر سے ملا۔۔
وہ اکاؤنٹس جو برسوں سے فتنہ پھیلارہےتھے، اسلام کو نشانہ بنا رہے تھے۔۔۔۔۔نبی کریم ﷺ کی شان اقدس میں توہین کررہےتھےاورمسلمانوں خصوصاًعرب عوام کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کر رہے تھے۔۔۔۔اچانک اعداد و شمار کے ساتھ سامنے آیا کہ یہ سب صہیونی ریاست کے اندر سے چلائے جا رہے تھے اور خاص طور پر دجالی فوجی یونٹ 8200 سے منسوب کیے گئے، جوصہیونی انٹیلیجنس کاسب سےخطرناک الیکٹرانک بازو سمجھاجاتا ہے۔۔
یہ اکاؤنٹس بظاہرسنی،شیعہ،الجزائری،خلیجی،مصری اور مراکشی شناخت رکھتےتھےمگرمقصد ایک ہی تھا امت کوتوڑنااورداخلی تنازعات بھڑکانا،یہی نہیں بلکہ یونٹ 8200۔۔۔نے عربی شناخت کے لاکھوں اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں،جن میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جارہاہے،تاکہ فرقہ وارانہ نفرت،نسلی تعصب،ریاستوں اور شخصیات کے خلاف شکوک، دین اور شناخت پر کیے جاسکیں۔۔
الجزائر اورمراکش بھی ان مہمات سےمحفوظ نہ رہے، جہاں دونوں قوموں کےدرمیان مصنوعی دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔۔۔۔X کا یہ اپ ڈیٹ دراصل امریکا میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ حلقوں کے درمیان نفرت آمیز مہمات کے تجزیئےکیلیے تھا،لیکن غیرارادی طور پر یہ حقیقت۔۔۔۔۔۔سامنے آ گئی کہ بڑی مہمات کے پیچھے روس، بھارت اور صہیونی ریاست۔۔۔۔۔کا کردار تھا۔۔
نتائج ظاہرہونےکےکچھ ہی وقت بعد لاکھوں اکاؤنٹس اچانک حذف کر دیئے گئے۔ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ اسلام پرحملہ کرنےوالے، قرآن کامذاق اڑانےوالے، الحاد پھیلانے والےاکاؤنٹس بھی اسی ایک ذریعےسے چلائے جا رہے تھے۔۔
حتیٰ کہ مصر میں پھیلنے والا نظریہ “ہم عرب نہیں، فرعونی ہیں” اور ’’کِمیٹین‘‘ جیسے تصورات کو بھی اسی صہیونی منصوبے کا حصہ قرار دیا گیا، جس کا مقصد مصرکو اسلامی اورعربی شناخت سےکاٹ دینا تھا۔۔
انکشاف ہوا کہ عرب عوام فطری طور پر ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے، بلکہ یہ نفرت تیار کی گئی اور برآمد کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مصریوں اور عربوں کے درمیان، الجزائریوں اور مراکشیوں کے درمیان، مختلف فرقوں کےدرمیان،حتیٰ کہ مسلمانوں اور انکے دین کے درمیان نفرت پھیلائی گئی۔۔
یہ جنگ سرحدوں کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔بلکہ شعور، یادداشت، شناخت اور اقدار کی جنگ ہے۔۔۔۔۔اس لیے شعور بیدار کرنے اور ان سازشوں سے ہوشیار رہنےکی اپیل کی جا رہی ہے۔۔
اب وہ حقائق جو تحقیق کے بعد سامنے آتے ہیں:
1. یہ درست ہے کہ X نے حالیہ عرصےمیں کچھ ایسی خصوصیات (فیچرز) آزمائیں، جن سے بعض اکاؤنٹس کےغیرمقامی یا مشتبہ جغرافیائی مقامات سامنے آئے اور بڑے پیمانے پر جعلی/منظم اکاؤنٹس کی نشاندہی ہوئی۔۔
2. یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیلی یونٹ 8200 ایک حقیقی اور طاقتور سائبر و سگنلز انٹیلی جنس یونٹ ہے،جو ڈیجیٹل نگرانی اورمعلوماتی جنگ میں مہارت رکھتا ہے۔۔
تاہم یہ بات ثابت نہیں ہو سکی کہ 95فیصد اسلام یا عرب مخالف اکاؤنٹس براہِ راست یونٹ 8200 سے چلائے جا رہے تھے۔مگر X کےاپ ڈیٹ نےباضابطہ طور پر یونٹ8200کو بےنقاب کیا۔ سڈنی یا اس قسم کے واقعات میں بھی اس یونٹ کےملوث ہونے کے اشارے سامنے آئے۔۔
عالمی سطح پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ ڈیجیٹل اثر و رسوخ (Influence Operations) میں اسرائیل، روس، چین، امریکا، بھارت سمیت کئی ریاستیں اور غیر ریاستی عناصر ملوث رہے ہیں۔۔

الیکٹرانک مکھی:
یہ کیا ہے، کیسےکام کرتی ہےاورہمارے شعور کو کیسے متاثر کرتی ہے۔۔۔۔۔۔؟ آج کے دور میں الیکٹرانک مکھی (Electronic Trolls / Digital Bots) جدید میڈیا کی جنگوں میں ایک مؤثر ہتھیار بن چکی ہے۔ اس کے ذریعے عوامی رائے کو بدلا جاتا ہے اور لوگوں کے ذہن مخصوص ایجنڈوں کے مطابق موڑے جاتے ہیں۔۔۔۔۔یہ محض چند جعلی اکاؤنٹس نہیں ہوتے،بلکہ ایک مکمل منظم نظام ہوتا ہے، جو جدید مصنوعی ذہانت (AI)، پیسے پر کام کرنےوالےپروگرامرز اور ایک تیسری قسم کے ایسے افراد کو استعمال کرتا ہےجو لاعلمی میں ہی اس نظام کا حصہ بن جاتے ہیں۔۔
اسی لیے اس نظام کو سمجھنانہایت ضروری ہے، تاکہ انسان فکری دھوکے سے محفوظ رہ سکے۔ اسلام بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے کہ ہر خبر پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کیا جائے۔۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اے ایمان والو! اگرکوئی فاسق تمہارےپاس کوئی خبر لےکرآئے تو تحقیق کرلیاکرو،کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو، پھر اپنے کیے پر پچھتاؤ۔ (الحجرات: 6)

الیکٹرانک مکھی کی اقسام:
پہلی قسم:روبوٹس اورمصنوعی ذہانت(اصل منصوبہ ساز)
یہ سب سے جدید اورخطرناک قسم ہے۔اس میں ایسے خودکار پروگرام استعمال ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔جو لوگوں کے جذبات اور رجحانات کا تجزیہ کرتے ہیں، یہ طے کرتے ہیں کہ کس کی حمایت کرنی ہے اور کس پر حملہ۔۔۔۔ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے ایک ہی بات بار بار پھیلاتے ہیں۔۔
یہ اکاؤنٹ کسی حقیقی رائےکی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ محض الگورتھمز کے غلام ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔جنہیں مخصوص مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ عمل ہمیں نبی کریم ﷺ کی اس تنبیہ کی یاد دلاتا ہے کہ:
سب سے بڑاجھوٹ یہ ہےکہ انسان ایسی بات منسوب کرے جو حقیقت میں کہی ہی نہ گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔یہی کام الیکٹرانک مکھی کرتی ہے:
جھوٹ گھڑنا، جھوٹی مقبولیت دکھانا اور جعلی تاثر پیدا کرنا۔۔
دوسری قسم: کرائے کے پروگرامرز
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عام طور پرغریب ممالک مثلا بھارت، کمبوڈیا اور افریقہ کے بعض ممالک میں رہتے ہیں اور پیسے کے بدلے یہ نیٹ ورکس چلاتے ہیں۔ ان سے یہ کام لیے جاتے ہیں:
سیاسی رائےکوموڑنا،مخصوص نظریات کوعام دکھانا مخالف آوازوں کو بدنام کرنا، تجارتی مفادات کے لیے جعلی ریویوز بنانا۔ یہ لوگ ضمیر بیچ دیتے ہیں، جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
ایک زمانہ آئے گا جب انسان اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ اس نے مال کہاں سے کمایا، حلال یا حرام۔

تیسری قسم: متاثر ہونے والے لوگ
یہ سب سے خطرناک طبقہ ہے، کیونکہ یہ لوگ خود کو حق پر سمجھتے ہیں،مگر دراصل الیکٹرانک مکھی کے آلہ کاربن چکےہوتے ہیں۔ان پر اثر ڈالنے کے طریقے: جذباتی باتیں کر کے بہکانا، دلیل کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، ایک ہی جھوٹ کو بار بار دہرانا۔رفتہ رفتہ انسان وہی بات دہرانے لگتا ہےجو اسے مسلسل دکھائی جاتی ہے۔ الیکٹرانک مکھی وہی بھٹی ہے جو ذہنوں کو جلا دیتی ہے۔۔
ہم خود کو کیسے بچائیں؟
1. ہر خبر کی تحقیق کریں
2. جذبات میں آ کر فوراً ردعمل نہ دیں
3. یہ سمجھیں کہ سوشل میڈیا پر ہر آواز حقیقی نہیں
4. بغیر تحقیق کسی بات کو آگے نہ پھیلائیں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔
ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ باخبر رہے، عقل استعمال کرے اور فتنہ پھیلانے والوں کا آلہ کار نہ بنے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
جس بات کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو، کیونکہ کان، آنکھ اور دل سب کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (الإسراء: 36)
اللہ ہمیں بصیرت اور شعور عطا فرمائے، آمین۔
لا تفراقو

Address


Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Deen Aur Dunya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

  • Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment?

Share