10/03/2026
مذہب اور مسلک کے نام پر شدت پسندی نے ہمیشہ معاشروں کو تقسیم کیا ہے، اور مجھے اس رویے سے ہمیشہ اختلاف رہا ہے۔ ابھی کل کی بات ہے، ہمارے ملک کی فضا "کافر کافر۔۔۔کافر" کے نعروں سے گونجتی تھی، جہاں تفرقہ انگیزی کو عین ثواب سمجھا جاتا تھا۔
مگر آج حالات بدلتے ہی وہی شدت پسند عناصر اسی ملک کے قصیدے پڑھتے نظر آتے ہیں اور اسے مثالی اسلامی ریاست قرار دیتے ہیں۔ یہ تضاد ثابت کرتا ہے کہ عوامی سطح پر لگائے جانے والے اکثر نعرے شعور کے بجائے جوشِ خطابت پر مبنی ہوتے ہیں۔
دین ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ لہٰذا، کسی بھی گروہ یا شخصیت کی اندھی تقلید کرنے سے پہلے خود تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں۔ یاد رکھیں، جو علم تحقیق کی چھلنی سے نہ گزرے، وہ انسان کو گمراہی کی دلدل میں دھکیل سکتا ہے۔
یاسر مشتاق