05/08/2026
اپنوں کی حقیقت سات سال بعد سامنے آگئی
1990 میں میں سعودی عرب گیا۔ ہم تین بھائی اور دو بہنیں تھے۔ مجھ سے ایک بڑا بھائی تھا اور باقی سب مجھ سے چھوٹے تھے۔ میری بھی شادی ہو چکی تھی اور بڑے بھائی کی بھی۔ بھائی کے بھی دو بچے تھے اور میرے بھی دو بیٹے تھے۔
ہمارا گھر گاؤں میں تھا۔ والد صاحب ٹھیکے پر زمین لے کر کاشت کرتے تھے اور زمین میں موسم کے حساب سے سبزیاں لگاتے تھے۔ پھر صبح فجر سے پہلے گدھا ریڑھی میں سبزیاں لاد کر سبزی منڈی میں بیچنے چلے جاتے تھے۔ سب بھائی یہی کام کرتے تھے اور اسی طرح گھر کا گزارا ہوتا تھا۔
گھر کے حالات ایسے تھے کہ بہت مشکل سے روٹی نصیب ہوتی تھی۔ ابھی بہنوں کی شادیاں بھی کرنی تھیں۔ وہ جوان ہو چکی تھیں اور امی کو ان کی بہت فکر تھی۔
ہمارے گاؤں میں ایک گھر تھا، جن کے دو بھائی سعودی عرب گئے ہوئے تھے۔ ان کا چھوٹا بھائی میرا دوست تھا۔ میں نے اس سے درخواست کی کہ وہ اپنے بھائیوں سے کہہ کر مجھے ویزا دلوائے۔ انہوں نے آدھی رقم پہلے اور آدھی رقم سعودی عرب پہنچ کر دینے کی شرط رکھی۔
میں نے ابو سے بات کی اور ساری تفصیل بتائی۔ ابو راضی ہو گئے۔ کچھ رقم انہوں نے آڑھتی سے ادھار لی اور کچھ ایک رشتہ دار سے لے لی۔ اس طرح ویزے کے پیسوں کا انتظام ہو گیا۔
میری بیوی شہر کی رہنے والی تھی۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں سعودی عرب جا رہا ہوں تو وہ بہت غمگین ہوئی، لیکن اسے یہ خوشی بھی تھی کہ اب ہمارے حالات بدل جائیں گے۔
اس نے مجھ سے ایک خواہش کی۔ اس نے کہا کہ سعودی عرب جا کر پیسے کما کر شہر میں ایک پلاٹ ضرور لینا تاکہ ہمارے بچے اچھی تعلیم حاصل کر سکیں۔
میں نے اس سے وعدہ کیا کہ ان شاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔
جس دن میری پرواز تھی، میرا بڑا بیٹا تین سال کا تھا اور چھوٹا ایک سال کا۔ جب میں اپنے بچوں سے ملا تو ان کے پاؤں میں جوتے بھی نہیں تھے، کیونکہ گھر کے حالات بہت خراب تھے۔
میں دل میں یہ امید لے کر سعودی عرب پہنچ گیا کہ اب میں اپنے گھر کے حالات بدل دوں گا۔ سعودی عرب جا کر میرے کاغذات مکمل ہونے میں تقریباً دو ماہ لگ گئے، کیونکہ لائسنس بنوانا تھا اور اقامہ بھی بننا تھا۔ جب یہ سب مکمل ہو گیا تو میرا کام شروع ہو گیا۔ میرا ویزا ٹرک ڈرائیور کا تھا۔ میری تنخواہ بھی اچھی تھی اور ہر ٹرپ کے الگ سے بھی پیسے ملتے تھے۔
پہلا سال تو ویزے کا قرض اتارنے میں گزر گیا۔ اسی دوران میں تھوڑے بہت پیسے گھر کے خرچے کے لیے بھی بھیج دیتا تھا۔
ایک سال بعد قرض ختم ہو گیا۔ اب میں جو بھی کماتا، تقریباً سارے پیسے گھر بھیج دیتا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے مجھے سعودی عرب میں تین سال ہو گئے۔ ادھر گھر میں بہنو کی شادی اور بھائی کی شادی طے ہو گئی۔ تینو کی شادیاں ایک ساتھ کی گئیں اور بہت دھوم دھام سے ہوئیں۔
پھر دو سال اور گزر گئے۔
میں نے ابو سے کہا کہ اب شہر میں ایک پلاٹ لے لیں۔ میرے سارے پیسے ابو کے پاس ہی ہوتے تھے۔ میں یہاں سعودی عرب میں جو کماتا، اپنے اس دوست کو دے دیتا جس کے ذریعے میں ویزا لے کر آیا تھا، اور وہ میرے ابو کو پاکستان میں دے دیتا تھا۔
میری آمدنی اب کافی اچھی ہو چکی تھی، اس لیے مجھے یقین تھا کہ شہر میں پلاٹ لینا کوئی مشکل بات نہیں ہوگی۔
جب میں نے ابو سے پلاٹ لینے کی بات کی تو وہ ناراض ہو گئے۔ کہنے لگے:
"کیا ضرورت ہے شہر میں پلاٹ لینے کی؟ ہم نے تو گاؤں میں ہی رہنا ہے۔"
میں نے کہا:
"نہیں ابو، مجھے شہر میں پلاٹ ضرور لینا ہے۔"
آخرکار انہوں نے پلاٹ خرید لیا۔
اس زمانے میں موبائل فون نہیں ہوتے تھے۔ صرف پی ٹی سی ایل پر مہینے میں ایک یا دو بار بات ہوتی تھی۔ جب بھی فون آتا تو گھر کے سارے لوگ فون کے پاس بیٹھے ہوتے تھے۔
میں اپنی بیوی سے صرف سلام دعا کر پاتا اور بچوں کا حال پوچھ لیتا تھا۔ سب کے سامنے زیادہ بات کرنا ممکن نہیں تھا، نہ کوئی ذاتی دکھ سکھ بیان کیا جا سکتا تھا۔
اسی طرح سات سال گزر گئے۔
ایک دن میں نے حسب معمول گھر فون کیا۔ پہلے ابو سے بات ہوئی، پھر میری بیوی سے۔
اس نے سلام کا جواب دیا اور اچانک زور زور سے رونے لگی۔ وہ مجھ سے کچھ بھی نہ کہہ سکی اور فون بند ہو گیا۔
اسی دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب مجھے پاکستان جانا ہوگا۔
میں نے اپنے کفیل سے چھٹی مانگی۔ اس نے مجھے چھ ماہ کی چھٹی دے دی۔
سات سال بعد میں پاکستان واپس جا رہا تھا۔
میں نے ابو کو فون کر کے اپنی آنے کی تاریخ بتا دی۔ انہوں نے کہا:
"ٹھیک ہے بیٹا، تمہارا چھوٹا بھائی ائیرپورٹ سے لینے آ جائے گا۔"سات سال بعد جب میں پاکستان پہنچا تو میرے دل میں بے حد خوشی تھی کہ میں اپنے بچوں کو دیکھوں گا۔ گھر کا دروازہ امی نے کھولا۔ امی کے پیچھے میرے دونوں بیٹے کھڑے تھے۔ جب میں نے انہیں دیکھا تو میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ ایک بیٹا دس سال کا ہو چکا تھا اور دوسرا آٹھ سال کا تھا۔
لیکن ایک چیز نے مجھے بہت پریشان کر دیا۔ میرے بچوں کے پاؤں میں ٹوٹے ہوئے جوتے تھے اور ان کے کپڑے بھی پرانے تھے۔ میری بیوی کو بھی معلوم تھا کہ میں آ رہا ہوں، لیکن اس نے بھی پرانے کپڑے پہن رکھے تھے۔
اتنے میں ابو، بھائی اور بہنیں بھی آ گئے۔ سب سے ملنے کے بعد جب میں اپنے کمرے میں گیا تو وہ کمرہ ویسا ہی تھا جیسا میں چھوڑ کر گیا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ خراب حالت میں تھا۔
میں نے اپنی بیوی سے پوچھا، "یہ سب کیا ہے؟ تمہاری اور بچوں کی یہ حالت کیوں ہے؟"
میری بیوی نے بتایا، "امی ابو خرچہ تو دیتے تھے، لیکن بہت کم۔ عید پر صرف ایک سوٹ ملتا تھا اور وہ بھی امی اپنی پسند سے خرید کر لاتی تھیں۔"
میں نے حیرت سے کہا، "میں تو ہر مہینے بہت سارے پیسے بھیجتا تھا، پھر یہ سب کیوں ہوا؟"
میری بیوی نے جواب دیا، "امی کہتی تھیں کہ آپ کا کام اچھا نہیں چل رہا اور آپ کم پیسے بھیجتے تھے۔"
یہ سن کر ایسا لگا جیسے میری سات سال کی محنت پر پانی پھر گیا ہو۔ وہ رات میں نے بہت مشکل سے گزاری۔
اگلی صبح سب لوگ اکٹھے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے سب کے سامنے ابو سے پوچھا، "جو پیسے میں نے آپ کو بھیجے تھے، ان کا کیا کیا گیا؟"
امی فوراً بولیں، "لگتا ہے تمہاری بیوی نے رات ہی رات میں تمہارے کان بھر دیے ہیں۔"
میں نے جواب دیا، "میرے کان کسی نے نہیں بھرے، مجھے سب کچھ اپنی آنکھوں سے نظر آ رہا ہے۔"
ابو نے کہا، "بیٹا! جو پیسے تم بھیجتے تھے، میں وہ تمہاری امی کو دے دیتا تھا۔"
اس کے بعد میں نے امی سے پوچھا، "آپ نے وہ سارے پیسے کہاں خرچ کیے؟"
امی نے جواب دیا، "تمہارے بھائی بہنو کی شادیاں کیں، گھر کا خرچہ چلایا، تمہاری بہنو کو سونا بنوا کر دیا اور اپنے لیے بھی سونے کی چوڑیاں بنوائیں۔"میں نے امی سے کہا، "آپ اپنے لیے سونے کی چوڑیاں بنواتی رہیں، لیکن آپ کو میرے بچوں کا خیال تک نہیں آیا۔"
امی کہنے لگیں، "تمہاری بیوی اور بچوں کو روٹی تو ہم ہی دیتے تھے۔"
میں نے جواب دیا، "ایسی روٹی تو وہ اس وقت بھی کھا رہے تھے، جب میں یہیں موجود تھا۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ میرے سعودیہ عرب جانے کا فائدہ صرف آپ لوگوں کو ہوا، میری بیوی اور بچوں کو نہیں۔"
پھر میں نے ابو سے پوچھا، "جو پلاٹ خریدا گیا تھا، وہ کس کے نام ہے؟"
ابو نے جواب دیا، "وہ میرے نام ہے۔"
میں نے کہا، "آپ وہ پلاٹ میرے نام کروا دیں۔"
اتنے میں میرے بھائی بول پڑے، "کیوں؟ یہ تو ابو کا پلاٹ ہے۔"
میں نے کہا، "پیسے میرے تھے، ابو نے صرف سودا کیا تھا۔"
میرا بھائی بولا، "تمہیں سعودیہ عرب بھی تو ابو نے ہی بھیجا تھا۔"
بھائی کی یہ بات سن کر مجھے اندازہ ہو گیا کہ میں نے اپنی سات سال کی کمائی غلط لوگوں پر لٹا دی تھی۔
ابو نے فوراً بھائی کو ڈانٹتے ہوئے کہا، "تم خاموش ہو جاؤ۔ اگر میں نے ویزے کے پیسے دیے تھے تو اس نے بھی اتنے سال گھر کا سارا خرچہ اٹھایا ہے۔"شادیاں کی ھے
پھر ابو میری طرف دیکھ کر کہنے لگے، "بیٹا! یہ پلاٹ تمہارا ہی ہے، میں کل ہی اسے تمہارے نام کروا دوں گا۔"
اگلے دن ابو نے وہ پلاٹ میرے نام کروا دیا۔
اب میرا اس گھر میں ایک لمحہ بھی رکنے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ میں نے شہر میں اپنی ساس اور سسر کے گھر کے قریب کرائے پر ایک مکان لے لیا اور وہاں منتقل ہوگیا اور اپنے بچوں کو اچھے اسکول میں داخل کروا دیا۔
میں نے چھ ماہ پاکستان میں گزارے اور پھر واپس سعودیہ عرب چلا گیا۔
اس کے بعد میں نے دن رات محنت کی اور اپنے بچوں کے لیے ایک خوبصورت گھر بنا دیا۔ان کا رہن سہن اچھا کیا
آج میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے وقت پر اپنوں کی حقیقت دکھا دی۔
Hazir